منموہن سنگھ اور حامد انصاری کے خلاف ملک سے غداری کا مقدمہ درج ہو: اگروال

Dec 21, 2017 01:18 PM IST | Updated on: Dec 21, 2017 01:18 PM IST

نئی دہلی۔ سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری اور سابق وزیراعظم من موہن سنگھ کی موجودگی میں کانگریس لیڈر منی شنکر ایئر کی رہائش گاہ پر پاکستان کے سابق وزیرخارجہ خورشید محمود قصوری اور پاکستان کے ہائی کمشنر سہیل محمود کی مبینہ طورپر میٹنگ ہونے کی بات کا انکشاف کرنے والے مشہور وکیل اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جےپی)کے لیڈر اجے اگروال نے آج دعوی کیا کہ اس میٹنگ میں وزیراعظم کے خلاف سازش کی گئی تھی اور اس کےلئے ڈاکٹر سنگھ اور مسٹر انصاری کے خلاف ملک سے غداری کا مقدمہ درج کرکے جانچ کی جانی چاہئے۔ مسٹر اگروال نے چھ دسمبر کی رات کو دارالحکومت کے جنگ پورا علاقے می اپنے پڑوس میں واقع مسٹر ایئر کی رہائش گاہ پر ہوئی اس میٹنگ کے ہونے کی اطلاع سب سے پہلے عام کی تھی اور انہوں نے قومی جانچ ایجنسی کو باقاعدہ ایک خط لکھ کر اس میٹنگ کے انعقاد اور اس میں ہوئی بات چیت کی جانچ کرنے اور مسٹر ایئر اور دیگر لیڈران کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 124 کے تحت مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مسٹر اگروال نے دعوی کیا کہ اس میٹنگ میں گجرات الیکشن کے سلسلے میں کچھ منصوبہ بنایا گیا تھا اور اسی کے تحت مسٹر ایئر نے اگلے دن صبح میڈیا کو بلا کر مسٹر مودی کو ’نیچ قسم کا آدمی‘کہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی کو ’نیچ ‘کہنے کےلئے مسٹر ایئر کا منہ استعمال کیا گیا تھا۔در اصل یہ ڈاکٹر سنگھ ،مسٹر انصاری ،پاکستانی لیڈر اور ہائی کمشنر اور کانگریس پارٹی کے بڑے لیڈر کی ملک کے سب سے مقبول وزیراعظم کے خلاف اجتماعی بدنیتی ہے۔ اس کے لئے کانگریس کی قیادت کو ملک سے معافی مانگنی چاہئے۔ اس کے بجائے وہ الٹا وزیراعظم سے معافی مانگنے کی بات کررہے ہیں۔ یہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے والی بات ہے۔ مسٹر اگروال نے بتایا کہ مسٹر ایئر جنگ پورا ایکسٹینشن کے مکان نمبر جی -43میں رہتے ہیں جبکہ ان کا گھر ایف 1 ہے۔ چھ دسمبر کی دیر شام کو انہوں نے دیکھا کہ نائب صدر جمہوریہ مسٹر حامد انصاری،سابق وزیراعظم ڈاکٹر سنگھ،پاکستان کے ہائی کمشنرکے علاوہ مسٹر قصوری اور دیگر معزز ہستیاں مسٹر ایئر کی رہائش گاہ پر آئی تھیں اور وہاں سخت سکیورٹی انتظامات تھے۔ پاکستانی ہائی کمشنر کی کار ان کی رہائش گاہ کے پیچھے والے حصہ میں کھڑی تھی۔ وہاں پولیس اور دیگر سکیورٹی اہلکار موجود تھے۔

منموہن سنگھ اور حامد انصاری کے خلاف ملک سے غداری کا مقدمہ درج ہو: اگروال

مشہور وکیل اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جےپی)کے لیڈر اجے اگروال

انہوں نے پولیس اہلکاروں سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ کوئی میٹنگ چل رہی ہے۔ انہوں نے اسے عام طورپر لیا اور چلے گئے۔وہ جب دیر رات گھر واپس لوٹے تو دیکھا کہ مسٹر ایئر کے گھر میٹنگ ابھی بھی جاری تھی۔ انہیں تب تو کچھ بھی ناگزیرمحسوس نہیں ہوا لیکن جب اگلے دن مسٹر ایئر نے میڈیا کو بلا کر مسٹر مودی کے خلاف نازیبا تبصرہ کیا تو وہ حیرت میں آ گئے۔ مسٹر اگروال نے کہا کہ گجرات میں پہلے مرحلے کی ووٹنگ کے بالکل دو دن پہلے سات دسمبر کو مسٹر ایئر کا ایسا بیان اور سابق نائب صدر جمہوریہ اور سابق وزیراعظم کا پروٹوکول توڑ کر مسٹر ایئر کی رہائش گاہ پر پاکستانی ہائی کمشنر سے ملنا کوئی الگ الگ باتیں نہیں تھیں۔اس میٹنگ میں اس سلسلے میں بات ہوئی تھی۔ کانگریس لیڈران نے کہا ہے کہ وہ میٹنگ ہندوستان پاکستان کے تعلقات پر مبنی تھی۔ اگر ایسا تھا تو وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ کو اطلاع کیوں نہیں دی گئی تھی جو کہ ایسے معاملوں میں لازمی ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا یہ صرف لاپرواہی کا معاملہ ہے یا خاص مقصد کےلئے جان بوجھ کر کیا گیا عمل ہے۔آزاد ہندوستان کی تاریخ میں ایس کبھی نہیں سنا گیا کہ ہندوستانی حکومت کے دو بڑی عہدے دار رہے سیاسی لیڈروں نے اس قسم خفیہ میٹنگ کی ہو۔انہوں نے کہا کہ اگر ایسا نہیں ہوتا تو میڈیا میں خبریں آنے کے بعد بھی مسٹر انصاری یا ڈاکٹر سنگھ کی جانب سے میٹنگ کے بارے میں ہندوستانی حکومت کو کوئی تحریری نوٹ بھیجا جاتا۔وزارت خارجہ کہہ چکی ہے کہ یہ میٹنگ کسی ٹریک 2 سفارتکاری کا حصہ بھی نہیں تھی۔ اس لئے اس میٹنگ کا ضرور کوئی خاص مقصد تھا جو ملک کے حق سے مختلف اور مشکوک تھا۔

مسٹر اگروال نے کہا کہ ملک کی مکمل اکثریت سے منتخب مقبول حکومت اور وزیراعظم کے خلاف قابل اعتراض بیان دینے اور ایسی سازش کرنے والے لوگوں کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 124(اے)کے تحت مقدمہ درج کیا جانا چاہئے اور این آئی اے کو مکمل تحقیقات کرکے پتہ لگانا چاہئے کہ اس میٹنگ میں حقیقت میں کیا سازش کی گئی تھی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز