رام مندر کے لئے پھانسی پر چڑھنے کیلئے بھی تیار ہوں : اوما بھارتی

Apr 19, 2017 11:28 PM IST | Updated on: Apr 19, 2017 11:28 PM IST

نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی سینئر لیڈر اور مرکزی وزیر اوما بھارتی نے اجودھیا میں بابری مسجد انہدام کیس میں کسی طرح کی سازش سے انکارکرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں پھانسی کی سزا قبول کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔ محترمہ اوما بھارتی نے بابری مسجد انہدام کیس میں اپنے اور بی جے پی کے چند دیگر لیڈر کے خلاف مجرمانہ سازش کا مقدمہ چلائے جانے کے سپریم کورٹ کے حکم پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں کسی سازش کا سوال ہی نہیں ہے۔ جو کچھ بھی ہوا تھا، وہ سب کھلم کھلا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ رام مندر آندولن میں شریک تھیں اور اس میں وہ قول ، عمل اور عزم کے ساتھ شامل رہی ہيں، اس پر انہیں فخر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے لیے انہیں کوئي افسوس نہیں ہے اور انہوں نے اس کے لئے کبھی معافی بھی نہیں مانگی۔ انہوں نے کہا کہ رام مندر آندولن نے ہی بی جے پی کو دو سیٹوں والی پارٹی سے اقتدار کے تخت تک پہنچایا ہے۔ اس لئے اس معاملے پر کوئی افسوس نہیں ہے اور نہ ہی کوئی دکھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ"رام مندر میں میری آستھا ہے اور اجودھیا میں رام مندر بن کر رہے گا"۔ محترمہ اوما بھارتی نے کہا کہ وہ اجودھیا، گنگا اور ترنگے کے لئے جیل سے لے کر پھانسی تک کوئی بھی سزا بھگتنے کو تیار ہیں۔

رام مندر کے لئے پھانسی پر چڑھنے کیلئے بھی تیار ہوں : اوما بھارتی

فائل فوٹو

سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے کے پیش نظر کانگریس کی طرف سے استعفی کےمطالبےکو انہوں نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انهوں نے ترنگا کے معاملے میں جرم ثابت ہونے پر کرسی چھوڑ دی تھی لیکن اس معاملے میں ابھی تک کوئی جرم ثابت نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "میرے جیسی شخصیت عہدے سے چپکنے والی نہیں ہے۔ میں کشمیر میں ترنگا لہراتے ہوئے، اجودھیا میں رام مندر کی تعمیر اور گنگا کی صفائی اور اور اسے روانی سے بہتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہوں جو میں کر کے رہوں گی"۔

محترمہ اومابھارتی نے کہا کہ ایمرجنسی میں لاکھوں مسلمانوں کی نسبندی کرانے اور 1984 کے فسادات میں 10 ہزار سکھوں کے قتل عام کی مجرم کانگریس کو ان سے استعفی مانگنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ آج رات کیفیات ایکسپریس سے اجودھیا جا رہی ہیں، جہاں وہ کل سریو ندی سے پیدل چل کر رام للا کا درشن کریں گی اور پھر هنومان گڑھي میں ہنومان جی کا درشن کرنے جائيں گی اور ان کا شکریہ ادا کریں گی کہ انہیں شری رام کی بدولت عہدہ، وقار اور باعزت زندگی ملی ۔ یہ پوچھے جانے پر کہ بی جے پی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی نے بابری انہدام کے مسئلے پر افسوس کا اظہار کیا تھا، محترمہ بھارتی نے کہا کہ وہ مسٹر اڈوانی کے بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتی۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اجودھیا میں رام مندر بن کر رہے گا۔ وہاں صرف زمین کی ملکیت کا معاملہ ہے جس کا حل عدالت کے باہر بھی ہو سکتا ہے اور عدالت بھی یہ حل کر سکتی ہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ اجودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا راستہ ہموار کرے گا۔

انہوں نے 1992 کے حالات پر کہا کہ بابری انہدام کے تمام آثار اس وقت کی حکومتوں نے پیدا کئے تھے۔ اس وقت صفدر ہاشمی نے اجودھیا میں ایک ڈرامہ اسٹیج کیا تھا جس میں سیتا کو رام کی بہن بتایا گیا تھا۔ اس وقت میڈیا کے نام پر صرف سرکاری دوردرشن اور ریڈیو تھا جو بی جے پی کو گالی دیتا تھا۔ اخبار بھی بائیں بازو کے صحافیوں کے چنگل میں تھے، جو رام مندر کے حامیوں کو منفی طریقے سے پیش کرتے تھے۔اس پورے عرصے میں رام مندر کے حامیوں کو ذلیل کیا گیا لیکن عوام ساتھ رہے۔ پر آج صورتحال دیگر ہے۔ انہیں میڈیا کے ذریعے اپنا موقف رکھنے کا مکمل موقع ملا ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ میں معاملہ چلائے جانے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک کو اس وقت کے حالات کو دوبارہ سمجھنے کا موقع ملے گا اور لوگ جان سکیں گے کہ 1992 کا واقعہ کیوں ہوا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز