مودی کو ملک کی ترقی اور خوشحالی تو اپوزیشن کو سرکار کو نرغے میں لینے سے دلچسپی : امت شاہ

May 26, 2017 07:10 PM IST | Updated on: May 26, 2017 07:10 PM IST

نئی دہلی: اس استدلا ل کے ساتھ کہ کشمیر کی صورتحال، بے روزگاری کے مسئلے اور دیگر امورپر اپوزیشن جہاں این ڈی اے حکومت کو نرغے میں لینے کی ناکام کوشش کرتی رہی بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت کے تین سال کو اندیشوں پر امکانات کی ترجیح کا سال قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دوران ملک کو سابقہ مفلوج پالیسیوں سے نجات دلانے اور آگے بڑھانے کے لئے سیاست میں بنیادی تبدیلی لائی گئی ہے جس کے نتیجے میں کنبہ پروری ، ذات پات اور ناز برداری کا خاتمہ ہونے کے ساتھ دنیا بھر میں ملک کے وقار میں اضافہ ہواہے۔

مسٹر شاہ نے اپوزیشن پارٹیوں کی اس میٹنگ کے فوراً بعد یہ باتیں کہیں جس میں صدارتی الیکشن کے علاوہ بی جے پی کی قیادت والی حکومت کو نرغے میں لینے کی کوششوں کو اور مربوط کرنے پر غور کیا گیا ۔ میٹنگ کا اہتمام سونیا گاندھی نے آج ہی ظہرانے پر کیا تھا۔ مسٹر شاہ نے یہاں پارٹی صدر دفتر میں این ڈی اے حکومت کے تین سال مکمل ہونے پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو مودی حکومت کے خلاف ایک بے سود جنگ کا سامنا ہے ۔ مودی حکومت کو 2014 سے مسلسل انتخابی تائید حاصل ہے تین برسوں کے سبھی انتخابات میں بی جے پی کی عوامی حمایت کا حلقہ بڑھا ہے اور کئی ریاستوں میں پارٹی کی حکومتیں بھی قائم ہوئی ہیں۔

مودی کو ملک کی ترقی اور خوشحالی تو اپوزیشن کو سرکار کو نرغے میں لینے سے دلچسپی : امت شاہ

بی جے پی کے صدرنے کہا کشمیر کے موجودہ بحران پر جلد قابو پالیا جائے گا اور یہ کوئی پہلا موقع نہیں جب حالات میں شدت آئی ہے۔ ماضی میں بھی وقفے وقفے سے حالا ت اسی طرح بگڑتے رہے۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں سرجیکل اسٹرائیک کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ حکومت مسئلہ کشمیر کے تعلق سے سنجیدہ ہے ۔ پہلے بھی سرحد کی حفاظت کی جاتی تھی لیکن اس کے لئے سیاسی قوت ارادی کا فقدان تھا۔ووٹوں کی سیاست کی وجہ سے اینمی پراپرٹی قانون (دشمن کی املاک سے متعلق قانون) منظور نہیں کیا جارہا تھا لیکن مودی حکومت ، اس سلسلہ میں قانون بنانے میں کامیاب رہی۔

روزگار فراہم کرنے کے محاذ پر حکومت کا دفاع کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ پچھلے تین برسوں میں ملک میں آٹھ کروڑ لوگوں کو روز گار سے مربوط کیا گیا ہے۔ 125 کروڑ کی آبادی والے ملک میں اس مسئلے کا حل صرف نوکری نہیں ۔ یہ مسئلہ روزی کا دائرہ وسیع کرنے سے ہوگا اور حکومت اسی رُخ پر سرگرم عمل ہے۔غریبوں کو زیادہ سے زیادہ روزگار ملے اس کے لئے منریگا کے بجٹ کو 48000 کروڑ روپے تک بڑھایا گیا ہے۔ کنبہ پروری ، ذات پات اور ناز برداری کے خاتمہ کو ایک مبارک اشارہ قرار دیتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ پچھلے 70 سال میں ترقی کے لئے جو کام نہیں ہوسکے تھے انہیں تین سال کے اقتدار کے دوران پورا کیا گیا ہے۔

مسٹر شاہ نے مودی سرکار کو غریبوں ، دلتوں ، پسماندہ طبقات ، آدی واسیوں ، خواتین اور نوجوان کی سرکار بتاتے ہوئے کہا کہ یہ سرکار شفاف طریقے سے اور فیصلہ کن ڈھنگ سے کام کررہی ہے۔ اس نے ’’ ساتھ ہے وشواس (یقین) ہے‘‘اور’’ ہو رہا وکاس (ترقی) ہے ‘‘ کا نیا نعرہ دیا ہے۔بی جے پی کے صدر نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کےطرز عمل سے دنیا بھر میں ملک کا وقار بڑھا ہے۔

مسٹر شاہ نے کہا کہ پچھلی سرکار کے دوران 12 لاکھ کروڑ روپے کے گھپلے کے بعد جب مودی سرکار ا قتدار میں آئی تو کام کاج کے طریقوں کو پوری طرح سے شفاف بنایا گیا جس کی وجہ سے اپوزیشن پارٹیاں بھی اس پر بدعنوانی کے الزام نہیں لگاپارہی ہیں۔ لال بتی کے وی آئی پی کلچر کو ختم کردیا گیا ہے جس سےلوگوں کو ایک نیاپیغام ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلائی میدان میں بھی نئی نئی تحقیق ہورہی ہے اور اس شعبے میں ہندستان نے پوری دنیا میں ایک ممتاز مقام حاصل کرلیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ دیگر پسماندہ طبقات [او بی سی] کمیشن کو آئینی درجہ دیا گیا ہے اور ایک رینک ایک پنشن اسکیم کو نافذ کیا گیا ہے۔ جس سے سرکار پر 8 ہزار کروڑ روپے کا بوجھ پڑا ہے۔ مسٹر شاہ نے کہا کہ کالے دھن کے مسئلے کو ختم کیا گیا ہے اور بے نامی املاک کے سلسلے میں قانون بنایا گیا تھا جس سے سیاسی زندگی میں شفافیت پیدا ہوئی ہے۔ مسٹر شاہ نے کہا کہ مسٹر مودی نے لوگوں کے سامنے انتخابی اصلاحات کی سوچ رکھی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ملک میں تمام انتخابات ایک ساتھ ہوں۔ اب تو اس پر بحث بھی ہونے لگی ہے. اس سے کئی قسم کے مسائل کو حل کریں گے. سیاسی جماعتوں کے چندے کو لے کر بھی ایک مقرر کرنے کا دلیرانہ قدم اٹھایا گیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز