یوپی اسمبلی الیکشن میں ایک بار پھر رام مندر کے موضوع کو زندہ کرنے میں لگی بی جے پی

Jan 28, 2017 05:53 PM IST | Updated on: Jan 28, 2017 05:53 PM IST

لکھنؤ۔ اترپردیش میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظربی جے پی ایک بار پھر اپنے پُرانے موضوع کی طرف لوٹ رہی ہے۔ وقفے وقفے پربی جے پی اور اس کی ہمنوا تنظیموں کی جانب سے رام مندر۔ بابری مسجد کا ایشو گرم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔  لیکن بی جے پی کی ان کوششوں کا سیاسی تجزیہ کرنے والے لوگ یہ  مانتے ہیں کہ اب مذہب کی بنیادوں پر عوام کا ووٹ حاصل کرنا آسان نہیں رہا۔ ہندوستان کے سیکولر مزاج عوام نے تو جیسے اس طرف سوچنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ مسلمانوں نے بھی اس ضمن میں کسی بھی رد عمل کے اظہار سے گریز کرتے ہوئے یہی کہا ہے کہ جب یہ مسئلہ عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت ہے تو اس پر نہ کسی تشویش کی ضرورت ہے اور نہ کسی بیان کی۔ امن پسند لوگوں کی نگاہیں اورسماعتیں سیاسی بیانات پر نہیں بلکہ عدالت کے احکامات پر ہیں ۔

حالانکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے سخت ہدایات جاری کردی گئی ہیں کہ مذہب اور ذات پات کی بنیادوں پر نہ لوگوں کو بھڑکایا جا سکتا ہے اور نہ ہی ووٹ کی اپیل کی جا سکتی ہے۔ لیکن اہل سیاست اپنے حربےاستعمال کرنے میں کہاں چوکتے ہیں۔ بات چاہے اکھاڑا پریشد کی ہو، آر ایس ایس کی  یا  پھر یووا واہنی یا بی جے پی لیڈروں کی ، رہ رہ کر مندر اورآستھا کے نام پر بیان بازی کا سلسلہ شروع کرکے مردہ موضوع میں زندگی کی روح پھونکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حالانکہ نہ اب عوام کو اس موضوع میں کوئی دلچسپی ہے اورنہ سادھو سنتوں کو سیاسی بیانات سے کوئی سروکار ہے ۔

یوپی اسمبلی الیکشن میں ایک بار پھر رام مندر کے موضوع کو زندہ کرنے میں لگی بی جے پی

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز