اترپردیش میں وزیر اعلی کی دوڑ میں یہ نام ہیں سب سے آگے!۔

Mar 16, 2017 03:39 PM IST | Updated on: Mar 16, 2017 03:39 PM IST

لکھنؤ۔ اترپردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اکثریت حاصل کر لینے کے بعد بھی وزیر اعلی کے نام پر تذبذب اب بھی برقرار ہے۔ 'مودی میجک ‘ کے ذریعے ریاست میں 325 نشستیں حاصل کرنے والی بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتوں میں وزیر اعلی کے عہدے کے لئے کوششیں تیز ہو گئی ہیں اگرچہ تمام لیڈر یہ کہتے ہیں کہ جسے وزیر اعظم نریندر مودی چاہتے ہیں، وزیر اعلی وہی ہوگا۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ وزیر اعلی کا نام مسٹر مودی نے طے کر لیا ہو گا۔ ان کے علاوہ اگر کسی کو بالکل ٹھیک پتہ ہوگا تو وہ بی جے پی صدر امت شاہ ہوں گے۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کو بھی اس کی خبر ہو سکتی ہے۔ سیاسی تجزیہ کار اور بی جے پی امور کے ماہر راجارام سنگھ کا کہنا ہے کہ وزیر اعلی کے نام کا اعلان لکھنؤ میں مقننہ پارٹی کی میٹنگ میں ہی کیا جائے گا۔ اس عہدے کے لیے مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کا نام سب سے آگے ہے لیکن وہ وزیر اعلی بننے سے انکار کر رہے ہیں۔

دوسری طرف یہ بھی بحث ہے کہ انتخابات میں انتہائی پسماندہ طبقے کی وسیع حمایت ملی ہے اس لیے وزیر اعلی بھی اسی طبقے کا ہو سکتا ہے۔ سیاسی گلیاروں میں پچھڑے طبقے سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کے ریاستی صدر کیشو پرساد موریہ کا نام بھی وزیر اعلی کے عہدے کے لئے لیا جارہا ہے۔ اگرچہ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ممبران پارلیمنٹ ہونے کے ناطے مسٹر موریہ کا نام کٹ بھی سکتا ہے۔

اترپردیش میں وزیر اعلی کی دوڑ میں یہ نام ہیں سب سے آگے!۔

نریندر مودی، امت شاہ: فائل فوٹو

اس کے علاوہ ریلوے کے وزیر مملکت منوج سنہا، یوگی آدتیہ ناتھ، سریش کھنہ، بی جے پی کے نائب صدر اور لکھنؤ کے میئر دنیش شرما، متھرا سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے سری کانت شرما اور سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری کے پوتے اور الہ آباد سے ممبر اسمبلی منتخب ہوئے سدھارتھ سنگھ کا نام میں بھی لیا جارہا ہے۔ کچھ لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ہو سکتا ہے ہریانہ کی طرح کوئی ایسا چہرہ بھی سامنے لایا جا سکتا ہے جو عام طور پر سرخیوں میں نہ رہتا ہو۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز