مکہ مسجد دھماکہ:بی جے پی نے کہا۔"ہندو دہشت گردی"تبصرے پر ملک سے معافی مانگیں راہل

Apr 16, 2018 03:15 PM IST | Updated on: Apr 16, 2018 03:19 PM IST

مکہ مسجد دھماکہ معاملے پر فیصلہ آنے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے "ہندو دہشت گردی"کمینٹ کو لیکر ملک سے معافی مانگنے کو ہا ہے۔وہیں اسد الدین اوویسی کا کہنا ہیکہ اس معاملے میں لوگوں کو انصاف نہیں ملا ہے۔مکہ مسجد بلاسٹ میں این آئی اے کی خصوصی عدالت نے 11سال بعد آج یعنی پیر کو فیصلہ سنایا۔کورٹ نے اسیمانند سمیت معاملے کے تما م ملزمین کو بری کر دیا ۔عدالت کے اس فیصلے پر این آئی اے نے کہا کہ فیصلے کی کاپی ملنے کے بعد اس کی جانچ کریں گے اور آگے کارروائی کیا ہوگی یہ طے کیا جائیگا۔

آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں کہ کورٹ کے فیصلے پر کس نے کیا کہا؟

مکہ مسجد دھماکہ:بی جے پی نے کہا۔

کانگریس کے صدر راہل گاندھی: فائل فوٹو۔

سبرا منیم سوامی ،بی جے پی لیڈر

اب ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہندو کمیونٹی کے خلاف ایک سازش تھی ۔میں پی ایم مودی سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم اور راہل گاندھی کے خلاف کیس درج کرائیں"َ۔"

سنبت پاترا بی جے پی کے قومی ترجمان

کانگریس کو 'ہندو دہشت گردی 'کمینٹ کو لیکر ملک سے معافی مانگنی چاہئے ۔کیا بھگوا دہشت گرد کے بیان پر راہل گاندھی اب آدھی رات کیندل مارچ نکالیں گے؟"۔"

شیوراج پاٹل ،سابق ''وزیر داخلہ

۔"معافی مانگنے کا کوئی سوال نہیں اٹھتا ،میں نے کبھی بھی 'ہندو دہشت گرد'لفظ کا استعمال نہیں کیا تھا"۔

اسد الدین اویسی ،آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم)۔

۔"جون 2014 کے بعد سے زیادہ تر گواہ مکر گئے ۔۔این آئی اے نے اس معاملے کو ٹھیک سے آگے نہیں بڑھایا۔ایسا لگ رہا ہے کہ این آئی اے کو سیاسی پارٹیاں چلا رہی ہیں۔انہوں نے ملزم کو دئے گئے ضمانت کے خلاف اپیل نہیں کی۔دہشت گردی کے خلاف ہماری لڑائی کمزور ہو گئی ہے"۔

آر وی ایس منی ،وزارت داخلہ کے سابق انڈر سکریٹری

۔"مجھے اس فیصلے کی امید تھی سارے ثبوت بناوٹی تھے۔اس معاملے میں کوئی ہندو دہشت گرد نہیں تھا۔این آئی اے کا گلظ استعمال کیا گیا"۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز