Live Results Assembly Elections 2018

مسلمان بی جے پی سے دوسروں کا مسلط کردہ فاصلہ ختم کریں: سید ظفر اسلام

نئی دہلی۔ اس استدلا ل کے ساتھ کہ سیاست کسی کو اچھوت قرار دینے کی نہیں رابطے کی حکمت کی متقاضی ہے، بی جے کے قومی ترجمان سید ظفر اسلام نے آج ہندستانی مسلمانوں سے کہا کہ وہ حکمراں بی جے پی سے اپنے اس فاصلے کو ختم کریں جو دوسروں کا مسلط کردہ ہے۔

Aug 05, 2017 06:23 PM IST | Updated on: Aug 05, 2017 06:24 PM IST

نئی دہلی۔  اس استدلا ل کے ساتھ کہ سیاست کسی کو اچھوت قرار دینے کی نہیں رابطے کی حکمت کی متقاضی ہے، بی جے پی کے قومی ترجمان سید ظفر اسلام نے آج ہندستانی مسلمانوں سے کہا کہ وہ حکمراں بی جے پی سے اپنے اس فاصلے کو ختم کریں جو دوسروں کا مسلط کردہ ہے۔ مسٹر ظفر نے کہا کہ فاصلے کی یہ دیوار جو دہائیوں میں کھڑی کی گئی ہے یقینی طور پر گر سکتی ہے لیکن اس کے لئے پارٹی اور مسلمان دونوں کی طرف سے پیش قدمی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر غیر بی جے پی پارٹیاں مخلص ہوتیں تو مسلمانان ہند آج اس قدر پسماندہ نہیں ہوتے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ بی جے پی نے ازالے کی کیا عملی کوشش کی ہے، انہوں نے کہا کہ محض تین سال میں ملازمتوں میں مسلمانوں کی نمائندگی میں تقریباً 9.3 فی صد کا اضافہ ہوا ہے اور قومی آبادی میں گیارہ فی صد کا تناسب رکھنے کے باوجود پردھان منتری اجولا یوجنا کے تحت جن خاندانوں کو رسوئی گیس کنکشن دیئے گئے ہیں ان میں مسلم نمائندگی 20 فی صد ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی عملی تبدیلیا ں آئی ہیں جو اردو اخبارات کی بڑی سرخیاں نہیں بن سکیں۔

مسٹر ظفر نے کہا کہ وہ یہ نہیں کہتے مسلمان بی جے پی کے ساتھ ہو جائیں البتہ وہ بھی دوسروں کی طرح اسی پارٹی کا ساتھ دیں جو ان کی بہبود کی عملی سوچ رکھتی ہو۔ اسی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ قومی ترقی کے بی جے پی کے سارے پروگرام قوم رخی ہیں اور مسلمانوں کو اس ادراک کے ساتھ حکومت کے ساتھ ساتھ پارٹی سے بھی مربوط رہنا چاہئے تاکہ انہیں خوف دلانے والے اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کے لئے انکی مظلومیت کا فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ خوف و دہشت کے ماحول سے متعلق ایک سے زیادہ سوالوں کے جواب میں بی جے پی کے قومی ترجمان نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کی اکثریت کو’’ خوف‘‘ کا نہیں’’ تکلیف‘‘ کا سامنا ہے ۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ملی قیادت کے بعض حلقے محض اپنے محدود مفادات کے لئے غلط اطلاعات عام کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے اس کے ازالے کے لئے ملت اسلامیہ ہند کے ساتھ میڈیا خصوصاً اردو میڈیا کوصحتمند اشتراک کرنے کا مشورہ دیا ۔ موب لنچنگ کو خواہ وہ کسی بھی نوعیت کی ہو ناقابل برداشت گردانتے ہوئے انہوں نے یقین دلا یا کہ غنڈہ عناصر کی ان حرکتوں پر جلد قابو پا لیا جائے گا۔ اسی کے ساتھ وہ واقعات اور تادیبی کاروائیوں کی خبروں میں عدم توازن کے بھی شاکی نظر آئے اور کہا کہ یک طرفہ خبروں نے متاثرہ حلقوں میں حکومت پر بھروسہ کم اور حکمرانوں سے شکایت زیادہ پیدا کر دی ہے۔

مسلمان بی جے پی سے دوسروں کا مسلط کردہ فاصلہ ختم کریں: سید ظفر اسلام

بی جے پی کے قومی ترجمان ڈاکٹر سید ظفر اسلام انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں اردو میڈیا کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے۔ فوٹو، جاوید قمر کے فیس بک پوسٹ سے۔

قوم پرستی کے تعلق سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسلمان اتنے ہی نیشنلسٹ ہیں جتنے دوسرے قوم پرست ہیں۔ یہ موقع پرستانہ اور نام نہاد سیکولر سیاست کرنے والوں کا کمال ہے کہ وہ حالات کی ایسی منظر کشی کرتے ہیں جس میں مسلمانوں کو ایسا لگنے لگتا ہے کہ انہیں اس حوالے سے کم تر سمجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس منظر نامے کو بدلنے کے لئے مسلمانوں کو از خود سامنے آنا ہوگا۔ یہ پوچھے جانے پر کہ یو پی میں کسی مسلمان کو پارلیمانی امیدوار کیوں نہیں بنایا گیا مسٹر ظفر نے کہا کہ ایسے ہی سوالات کو معصوم شکل دے کر اقلیت کو گمراہ کیا جا تا ہے ۔حالانکہ اس طرح کی باتیں کرنے والےخود بھی جانتے ہیں کہ کوئی بھی پارٹی الیکشن میں امیدوار کے جیتنے کی اہلیت کو اولین ترجیح دیتی ہے اور بی جے پی اس سے مستثنیٰ نہیں۔’’ہاں بی جے پی کو اسی کے ساتھ اسے یہ بھی پتہ ہے کہ فرقہ وارنہ منافرت پھیلانے والے بی جے پی کے کسی مسلم امیدوار سےمسلم ووٹروں کو قریب نہیں ہونے دیں گے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ انتخابی منظرنامہ نام نہاد سیکولرسٹوں  کے ساتھ ساتھ مسلم ووٹوں کا بھرم ختم کر چکا ہے ۔اس ادراک کے ساتھ ہندستانی مسلمانوں کو اپنی نسل آئندہ کو ذہن میں رکھ کر صحتمند سیاسی شعور سے کام لینا چاہئے اور اپنی پریشانیوں کے ازالے کے لئے حکومت سے رجوع کرنے کے ساتھ پارٹی سے بھی مربوط ہونا چاہئے اور اس کے لئے ان کا صرف یہ ذہن میں رکھنا کافی ہوگا کہ آزادی کے 70 سال بعد بھی وہ پسماندہ کیوں ہیں۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز