پارٹی اراکین کی میٹنگ سے پہلے بی جے پی میں اختلاف رائے روکنے کی کوششیں

Mar 18, 2017 04:51 PM IST | Updated on: Mar 18, 2017 04:51 PM IST

نئی دہلی۔  اترپردیش میں نئے وزیر اعلی کے نام کے سلسلے میں اختلافات کے درمیان بی جے پی کے صدر کیشو پرساد موریہ اور گورکھپور کے ایم پی یوگی آدتیہ ناتھ سے بی جے پی صدر امت شاہ نے ملاقات کی۔ سمجھا جاتا ہے کہ مرکزی وزیر منوج سنہا کا نام میڈیا میں آنے کی وجہ سے ریاست کے مختلف مقامات پر مختلف دعویداروں کی حمایت میں حامیوں کے مظاہرے کیے جانے کی اطلاعات کے پیش نظر مسٹر شاہ نے ان لیڈروں کو بلا کر سمجھایا ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ مسٹر منوہر پاریکر کے وزیر دفاع کے عہدے سے استعفی دے کر گوا جانے اور مسٹر سنہا کے لکھنؤ جانے کی صورت میں مرکزی کابینہ میں توسیع اور ردوبدل لازمی ہوگا جس میں یوگی آدتیہ ناتھ اور مسٹر موریہ کو جگہ ملنے کا پورا امکان ہے۔

مسٹر موریہ کے حامی ان کے رہنما کو وزیر اعلی بنانے کے مطالبے کے سلسلے میں لکھنؤ میں پارٹی کے ریاستی دفتر میں نعرے بازی کر رہے ہیں۔ کشی نگر سے آئے تقریبا ً50 حامیوں کے اس گروہ نے دو بینر لے رکھے ہیں، سفید کپڑے کے ان بینرز پر سرخ رنگ سے کیشو پرساد موریہ کو وزیر اعلی بنانے کے سلسلے میں لکھا گیا ہے۔ وہ مسٹر موریہ کو وزیر اعلی بنانے کے لئے نعرے بازی کر رہے ہیں۔ بینر میں ان لوگوں کی قیادت کرنے والے کا نام بیج ناتھ لکھا ہوا ہے۔ نعرے بازی کر رہے لوگوں کا کہنا ہے کہ وزیر اعلی کے عہدے کے لئے سب سے زیادہ مناسب کیشو پرساد موریہ ہیں اس لئے یہ عہدہ انہی کے سپرد کیا جاناچاہئے۔ ادھر وارانسی میں آج صبح مسٹر سنہا نے اتر پردیش کے وزیر اعلی کے لئے اپنا نام طے کرنے کی قیاس آرائی کے درمیان آج تاریخی شری کاشی وشوناتھ مندر، کال بھیرو مندر اور سنکٹ موچن ہنومان مندر میں پوجا ارچنا کی۔

پارٹی اراکین کی میٹنگ سے پہلے بی جے پی میں اختلاف رائے روکنے کی کوششیں

سخت سیکورٹی کے درمیان بابا کا درشن کرنے کے بعد انہوں نے قیاس آرائی پر روک لگاتے ہوئے نامہ نگاروں سے کہا کہ وہ وزیر اعلی کے عہدے کی دوڑ میں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی روایت کے مطابق پارلیمانی بورڈ اور پارٹی اراکین اجلاس میں وزیر اعلی کا نام طے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک عام کارکن ہیں اور وزیر اعلی کون ہوگا،اس کے بارے میں انہیں کوئی معلومات نہیں ہے۔  لکھنؤ میں آج شام پانچ بجے نو منتخب اراکین اسمبلی کا اجلاس ہو رہا ہے جس میں قانون سازپارٹی کے لیڈر کا انتخاب کیا جائے گا۔ مرکزی وزیر ایم  وینکیا نائیڈو اور بی جے پی کے سیکرٹری جنرل بھوپندر یادو سپروائزر کے طور پر اجلاس میں موجود رہیں گے۔ اس کے بعد نئے رہنما کے ساتھ پارٹی کے سینئر لیڈر گورنر رام نائک سے ملاقات کریں گے اور حکومت بنانے کا دعوی پیش کریں گے۔ گورنر نو منتخب بی جے پی ممبر اسمبلی قانون ساز پارٹی کےلیڈر کو وزیر اعلی نامزد کرنے کے ساتھ ہی ان کی رائے سے حلف برداری کے پروگرام کے لئے رضامندی فراہم کریں گے۔

ذرائع نے بتایا کہ حلف برداری کی تقریب 19 مارچ اتوار کو شام پانچ بجے کانشی رام میموریل باغیچےمیں منعقد ہونے کا امکان ہے۔ نئے وزیر اعلی کے ساتھ 15 سے 20 وزراء حلف لے سکتے ہیں۔ نئے وزراء کے طور پر بی جے پی کے قومی سکریٹری شری کانت شرما، سددھارتھ ناتھ سنگھ، بی ایس پی سے بی جے پی میں آئے سوامی پرساد موریہ، بی جے پی کے دیگر پسماندہ طبقے سیل کے سابق صدر ایس پی سنگھ بگھیل، بندیل كھنڈ سے دوسری بار رکن اسمبلی بنے مسٹر روی شرما، محترمہ گریما سنگھ کے نام نمایاں طورپر لیے جا رہے ہیں۔ اتحادی جماعتوں کے ارکان اسمبلی کو بھی کابینہ میں جگہ دی جائے گی۔ حلف برداری کی تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی بی جے پی صدر امت شاہ، مرکزی وزیر، بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں کے وزیر اعلی، لاکھوں کی تعداد میں پارٹی کارکن اور عوام شامل ہوں گے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز