افغانستان : رواں ماہ رمضان میں اپنی نوعیت کا پہلا انتہائی ہلاکت خیز دھماکہ ، 80 ہلاک ، 380 زخمی

May 31, 2017 10:20 AM IST | Updated on: May 31, 2017 08:19 PM IST

کابل: افغان دارالحکومت میں آج جرمن سفارت خانے کے قریب ایک زبردست کار بم دھماکےمیں 80 افراد ہلاک اور 380 افراد زخمی ہوگئے۔ماہ رمضان کے ابتدائی دنوںمیں یہ اپنی نوعیت کا انتہائی ہلاکت خیز دھماکہ ہے جس میں زیادہ تر جانی نقصان بظاہر افغانیوں کو پہنچا ہے۔ کابل پولیس کے ترجمان بصیر مجاہد نے بتایا کہ دھماکہ جرمن سفارت خانے کے انتہائی پہرے والے صدردروازے کے قریب ہواجس کے قریب ہی متعدد ممالک کے سفارت خانے،دوسرے اہم احاطے اور دفتر بھی واقع ہیں۔ فوری طور پر یہ نہیں بتایا جاسکتا کہ حملے کا اصل ہدف کیا تھا۔البتہ جرمن وزیر خارجہ ایس جبرئیل نے بتا یا کہ کچھ اسٹاف کے لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

دھماکہ اتنا طاقتور تھا کہ جائے واردات سے چند میٹر کے فاصلے پر سینکڑوں گھروں کی کھڑکیاں اور دروازے ٹوٹ گئے۔خبروں کے مطابق علاقے کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب یہاں لوگوں کی بڑی تعداد دفاتر کو جارہی تھی۔دھماکے میں فرانسیسی اور جرمن سفارت خانوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ دھماکے کی فوری کسی بھی دہشت گرد تنظیم نے ذمہ داری نہیں لی ہے۔2001 میں اقتدار سے بے دخل ہونے والے طالبان نے نے بھی ذمہ داری لینے سے انکار کیا ہے۔افغانستان میں دوبارہ اسلامی حکومت قائم کرنے کے لئے کوشاں طالبان نے البتہ دھماکے کی یہ کہتے ہوئے مذمت کی ہے کہ اس بے ہدف حملے میں عام شہری مارے گئے۔

افغانستان : رواں ماہ رمضان میں اپنی نوعیت کا پہلا انتہائی ہلاکت خیز دھماکہ ، 80 ہلاک ، 380 زخمی

اس دوران وزیر خارجہ سشما سوراج نے بھی کہا ہے کہ کابل بم دھماکے میں ہندستانی سفارت خانے کے کسی بھی ملازم کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ۔ کار بم دھماکے کے کچھ ہی دیر بعد مسز سوراج نے ٹویٹ کیا کہ"خدا کا شکر ہے کہ کابل کے زبردست دھماکے میں ہندستانی سفارت خانے کے تمام ملازمین محفوظ ہیں۔" افغان وزارت صحت کے ترجمان وحید مجروح کی جانب سے دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی بتائی گئی تعداد کی دیگر سرکاری ذرائع نے بھی تصدیق کردی۔وزارت خارجہ نے زخمیوں کی بڑی تعداد کے پیش نظر عوام سے خون کے عطیات دینے کی درخواست کی۔

افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نجیب دانش کے مطابق کار بم دھماکا صبح 8 بجکر 25 منٹ پر ہوا۔مقامی میڈیا کے مطابق دھماکے کی جگہ سے دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے دیکھے گئے جو اس قدر شدید تھا کہ قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ افغان نشریاتی ادارے طلوع نیوز نے اپنی رپورٹ میں وزارت صحت کے عہدیدار کے حوالے سے دھماکے میں 80 سے زائد افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے اور بتایا ہے کہ 380 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیاگیا ہے۔

ہندستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی ٹوئیٹ کیا ہے کہ ہر قسم کی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں ہندستان افغانستان کے ساتھ ہے۔دہشت گردی کی تائید اور حمایت کرنے والی طاقتوں کو ہرانا لازم ہے۔ ایمنسٹی انٹر نیشنل نے اس واقعے کی فوری اور غیر جانبدارانی چھان بین کا مطالبہ کیا ہے۔

صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ جلد ہی طالبان کے خلاف جنگ میں آنے والے تعطل کو ختم کرنے کے لیے 3000 سے 5000 امریکی فوجی افغانستان بھیجنے کی سفارش پر فیصلہ کرنے والے ہیں ۔ دسمبر 2014 میں افغانستان سے بڑی تعداد میں غیر ملکی افواج کا انخلاء ہوا تھا تاہم یہاں مقامی فورسز کی تربیت کے لیے امریکی اور ناٹو کی کچھ فورسز کو تعینات رکھا گیا۔اس وقت افغانستان میں 8400 امریکی فوجی جبکہ 5000 ناٹو اہلکار موجود ہیں جبکہ چھ برس قبل تک افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی۔

یاد رہے کہ افغان طالبان نے گزشتہ ماہ اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ موسم بہار کے حملوں کا آغاز کرنے والے ہیں جس کے دوران کارروائیوں کا سلسلہ تیز کردیا جائے گا۔ گزشتہ ماہ شمالی صوبے بلخ میں طالبان کے حملے میں 135 سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد امریکی وزیر دفاع جم میٹس نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ افغانستان میں سیکیورٹی فورسز کو ایک اور مشکل سال کا سامنا کرنا پڑے گا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز