کشمیر میں سماجی ویب سائٹس کو بلاک کرنے کا سلسلہ شروع ، بھارتیہ ائرٹیل نے لی سبقت

Apr 22, 2017 06:50 PM IST | Updated on: Apr 22, 2017 06:50 PM IST

سری نگر: وادئ کشمیر جہاں تھری جی اور فور جی موبائیل انٹرنیٹ خدمات 17 اپریل سے معطل ہیں، میں مواصلاتی کمپنیوں نے سماجی ویب سائٹس کو بلاک کرنا شروع کردیا ہے۔ نجی مواصلاتی کمپنی بھارتی ائرٹیل لمیٹڈ نے جمعہ کو سماجی ویب سائٹوں کو بلاک کرنے کی کامیاب مشق کے بعد جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب کو معروف سماجی ویب سائٹ ’فیس بک‘ اور پیغام رسانی کی ایپلی کیشن ’وہاٹس ایپ‘ کو باضابطہ طور پر بلاک کردیا۔ رپورٹوں کے مطابق حکومت نے مواصلاتی کمپنیوں کو اپنے انٹرنیٹ صارفین کی سماجی ویب سائٹس تک رسائی کو تاحکم ثانی بند رکھنے کے لئے کہا ہے۔

بتایا جارہا ہے کہ حکومت کی جانب سے سماجی ویب سائٹس پر غیرمعینہ مدت تک کے لئے پابندی لگانے کا اقدام سیکورٹی فورسز کے مبینہ مظالم کی ویڈیوز اور تصاویر کو سماجی ویب سائٹس پر شیئر کرنے، احتجاجیوں کو اکٹھا ہونے، کسی بھی طرح کی افواہوں کو پھیلنے سے روکنے کے لئے اٹھایا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں نجی مواصلاتی کمپنی ’ائرٹیل‘ اور نجی انٹرنیٹ سروس پرووائڈر ’سی این ایس ‘ نے اپنے صارفین کی معروف سماجی ویب سائٹس فیس بک اور وٹس ایپ تک رسائی بلاک کردی ہے، وہیں سرکاری مواصلاتی کمپنی بی ایس این ایل نے اپنے براڈ بینڈ اور ٹو جی انٹرنیٹ کے صارفین کی سماجی ویب سائٹس تک رسائی کو یہ رپورٹ فائل کئے جانے تک جاری رکھا تھا۔

کشمیر میں سماجی ویب سائٹس کو بلاک کرنے کا سلسلہ شروع ، بھارتیہ ائرٹیل نے لی سبقت

بھارتی ائرٹیل کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ کمپنی نے حکومتی احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے اپنے صارفین کی ’فیس بک‘ اور ’وٹس ایپ‘ تک رسائی کو بند کردیا ہے۔ انہوں نے بتایا ’حکومتی احکامات پر ہم نے اپنی صارفین کو فراہم کی جانے والی انٹرنیٹ خدمات کی رفتار بھی کم کردی ہے۔ ہم اس وقت اپنے صارفین کو ٹو جی کے تحت قریب 20 کے بی پی ایس کی ڈاؤن لوڈ رفتارڈاٹا سروس فراہم کررہے ہیں‘۔

حیران کن بات یہ ہے کہ گرمائی دارالحکومت سری نگر میں بیشتر میڈیا ، کارپوریٹ اور سرکاری دفاتر کو انٹرنیٹ خدمات فراہم کرنے والی نجی سروس پرووائڈر ’سی این ایس ‘ نے اپنے صارفین کی تین معروف سماجی ویب سائٹس فیس بک، ٹویٹر اور وہاٹس ایپ تک رسائی 9 اپریل سے بند کر رکھی ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس نے سرکاری حکم نامے پر عمل درآمد کیا ہے۔ سی این ایس کے مطابق انہیں گذشتہ ہفتے حکومت کی جانب سے ایک حکم نامہ موصول ہوا جس میں انہیں سماجی ویب سائٹس تک رسائی بند کرنے کے لئے کہا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے مذکورہ حکم نامے پر فوری عمل درآمد یقینی بناتے ہوئے صارفین کی فیس بک اور ٹویٹر تک رسائی بند کردی ہے۔ سری نگر میں سی این ایس کے تمام صارفین نے بتایا کہ وہ گذشتہ دو ہفتوں سے فیس بک اور ٹویٹر استعمال کرنے سے قاصر ہیں۔ بعض میڈیا ادارے فیس بک اور ٹویٹر تک رسائی بند ہونے کی وجہ سے اپنی خبروں کی لنکس سماجی ویب سائٹس پر شیئر نہیں کرپارہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ سی این ایس اور ائرٹیل کی جانب سے سماجی ویب سائٹس تک رسائی بند کرنے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے وادی میں سماجی ویب سائٹس کے استعمال پر پابندی لگانے کا سلسلہ پہلے ہی شروع کرچکا ہے۔ بعض رپورٹوں کے مطابق حکومت کی جانب سے سماجی ویب سائٹس پر لگائی جانے والی پابندی وادی میں موسم گرما کے چھ مہینوں تک جاری رکھی جاسکتی ہے۔ اگرچہ ذرائع نے اُن سماجی ویب سائٹس کا نام ظاہر نہیں کیا جن پر امکانی طور پر پابندی لگے گی، تاہم بتایا جارہا ہے کہ فیس بک، مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹویٹر، پیغام رسانی کی ایپلی کیشن ’وٹس ایپ‘، ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ ’یوٹیوب‘ اور وائبر کو پابندی کے دائرے میں لایا جاسکتا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز