ندوۃ العلما کے ڈیڑھ سو سے زائد طلباء نے خون کا عطیہ پیش کیا

لکھنؤ کے بلرام پور اسپتال میں مدرسہ کے ڈیڑھ سو سے زیادہ طلباء نے خون کا عطیہ پیش کیا۔

Oct 14, 2017 04:52 PM IST | Updated on: Oct 14, 2017 04:52 PM IST

 لکھنؤ ۔ تحریک پیام انسانیت کے تحت مشہور دینی درسگاہ ندوۃ العلما نے ایک اور غیر معمولی مثال قائم کی ہے۔ آج لکھنؤ کے بلرام پور اسپتال میں مدرسہ کے ڈیڑھ سو سے زیادہ طلباء نے خون کا عطیہ پیش کیا۔ قابل ستائش بات یہ ہے کہ یہ عطیہ فرقہ پرستی کو ختم کرکے آپسی بھائی چارے اوراتحاد کے فروغ کے لئے پیش کیا گیا۔

یہ ایک نا قابل فراموش حقیقت ہے کہ جب جب ملک کو ضرورت پیش آئی ہے علماء کرام اور مدارس کے طلباء نے آگے بڑھ کرجان ومال کی قربانیاں پیش کی ہیں۔ لیکن سچائی یہ بھی ہے کہ موجودہ وقت میں ان قربانیوں کو مکمل طورپر نظراندازکردیا گیا ہے اورمدارس اسلامیہ پر طرح طرح کے الزامات لگائے جا رہے ہیں جو باعث تشویش بھی ہے اور باعثِ توہین بھی ۔ لیکن ملک کے لئے سچا جذبہ رکھنے والے لوگ ہار کہاں مانتے ہیں۔

ندوۃ العلما کے ڈیڑھ سو سے زائد طلباء نے خون کا عطیہ پیش کیا

انہوں نے قربانیاں ماضی میں بھی پیش کی تھیں اور یہ سلسہ آئندہ بھی جاری رہے گا ۔ جو لوگ اپنا خون یعنی اپنی جان  دینے کے لئے تیار ہیں، ان سے اور کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ فرقہ پرست لوگوں کو چاہئے کہ وہ مدارس کے طلبا کے ان جذبوں کو سمجھیں اوران قربانیوں کو محسوس کریں ۔ پیام انسانیت کی تحریک مولانا علی میاں ندوی نے شروع کی تھی اوراس تحریک کا ہرسپاہی انسانیت کی فلاح و بہبود، ملک کی سلامتی و ترقی، برادران وطن کے تحفظ کے لئے اپنی جان دینے تک کے لئے تیار ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز