بورڈ کے ذمہ داران اورعلمائے کرام سنی اورشیعہ وقف بورڈوں کےانضمام کے حق میں نہیں

لکھنؤ۔ سنی اور شیعہ وقف بورڈوں کے انضمام کو لے کر ایک بار پھر اتر پردیش میں بحث گرم ہے۔

Oct 24, 2017 08:14 PM IST | Updated on: Oct 24, 2017 08:14 PM IST

لکھنؤ۔ سنی اور شیعہ وقف بورڈوں کے انضمام کو لے کر ایک بار پھر اتر پردیش میں بحث گرم ہے۔ بی جی پی حکومت کی ترجمانی کرنے والے لوگ بھلے ہی انضمام کی کوششوں میں لگے ہوں لیکن وقف بورڈ کے ذمہ داران اور علمائے کرام اس کے حق میں نہیں ۔

اتر پردیش میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد مسلسل ایسے موضوعات پر بات کی جا رہی ہے، جن کا کوئی نہ کوئی تعلق سب سے بڑی اقلیت یعنی مسلمانوں سے ہے۔ کہا تو یہ بھی جانے لگا ہے کہ مسلمانوں کو پریشان کرنے، ان کے مسائل کو مزید پیچیدہ بنانے اور الجھانےکے لئے یہ حکمت عملی وضع کی گئی ہے۔ وقف بورڈوں کے انضمام کے معاملے میں وسیم رضوی کہتے ہیں کہ یہ قانونی طور پر ممکن ہی نہیں ہے ۔

بورڈ کے ذمہ داران اورعلمائے کرام سنی اورشیعہ وقف بورڈوں کےانضمام کے حق میں نہیں

مولانا خالد رشید ۔عالم دین

علماء کہتے ہیں کہ یہ کسی طورپر مناسب نہیں۔  کیونکہ مشترکہ مفادات کے مسائل میں ایک ہونے کے باوجود بھی دونوں مسالک کے نظریات مختلف ہیں اور وہ اپنے اپنے طور پر وقف املاک  یا اسکی آمدنی کا استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ضرروت بورڈوں کے انضمام کی نہیں بلکہ بدعنوانیاں ختم کرنے کی ہے ۔ بات اب پردے، طلاق، گئو کشی، گوشت بندی، اور خواتین تحفظ سے لے کروقف املاک کے تحفظ اورانضمام تک آ گئی ہے۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ لوگوں کے بنیادی حقوق کی ادائیگی اورمسائل حل کرنے کے بجائے ایسے موضوعات پر بات کی جا رہی ہے جو بظاہرعوام کے حق میں نہیں ۔

Loading...

Loading...

ری کمنڈیڈ اسٹوریز