بوفورس گھوٹالہ: راجیو گاندھی کو بچانے کے لئے ہندوستان-سویڈن میں ہوئی تھی ڈیل

Jan 25, 2017 11:00 AM IST | Updated on: Jan 25, 2017 11:01 AM IST

نئی دہلی۔ امریکی جانچ ایجنسی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی کی شبیہ کا خیال رکھتے ہوئے سویڈن نے بوفورس گھوٹالے کی جانچ بند کر دی تھی۔ سی آئی اے کی جانب سے عوامی کئے گئے دستاویزات کے مطابق حکومت ہند اور سویڈن نے ایک منصوبہ بندی کے تحت بوفورس ڈیل میں بچولیوں کو دی گئی رقم کی معلومات خفیہ رکھی تھی۔

اكنامكس ٹائمز کے مطابق سی آئی اے نے 'سویڈن کا بوفورس ہتھیار گھوٹالہ' کے عنوان سے ایک خفیہ دستاویزجاری کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ بوفورس ڈیل سے منسلک معلومات سویڈن میں لیک ہو گئی تھی۔ اس معلومات سے راجیو گاندھی کے علاوہ نوبل انڈسٹریز (پیرنٹ کمپنی) کے لئے پریشان کن صورت حال پیدا ہو سکتی تھی۔ اسی بات کا خیال رکھتے ہوئے سویڈن اور ہندوستان کے درمیان ایک اتفاق ہوا کہ ڈیل میں رقم کے لین دین کا حساب خفیہ رکھا جائے۔ چند ماہ بعد سویڈن کی حکومت نے اس معاملے کی تحقیقات ہی بند کر دی تھی۔ سی آئی اے نے دعوی کیا ہے کہ ان کی یہ رپورٹ پوری طرح سے اپریل 1998 کے تخمینہ پر تیار کی گئی تھی۔ بوفورس گھوٹالے پر ہنگامہ مچنے کے بعد 1989 کے عام انتخابات میں کانگریس ہار گئی تھی، لیکن جانچ کی تلوار راجیو گاندھی پر لٹکی رہی، جو کسی نتیجے پر نہیں پہنچی۔

بوفورس گھوٹالہ: راجیو گاندھی کو بچانے کے لئے ہندوستان-سویڈن میں ہوئی تھی ڈیل

سویڈن ریڈیو نے کیا تھا دلالی کا انکشاف

معلوم ہو کہ بوفورس توپوں کی خریداری میں دلالی کا انکشاف اپریل 1987 میں سویڈن ریڈیو نے کیا تھا۔ ریڈیو کے مطابق بوفورس کمپنی نے 1437 کروڑ روپے کا سودا حاصل کرنے کے لئے ہندوستان کے بڑے سیاستدانوں اور فوج کے افسران کو رشوت دی تھی۔

راجیو گاندھی حکومت نے مارچ 1986 میں سویڈن کی اے بی بوفورس سے 400 ہوبتجر توپیں خریدنے کا معاہدہ کیا تھا۔ اس انکشاف نے ہندوستانی سیاست میں کھلبلی مچا دی اور راجیو گاندھی اس کے نشانہ بنے۔ 1989 کے لوک سبھا انتخابات کا یہ بنیادی مدعا تھا جس نے راجیو گاندھی کو اقتدار سے باہر کر دیا اور وی پی سنگھ قومی محاذ حکومت کے وزیر اعظم بنے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز