کشمیر : سنگ باری کے سدباب کیلئے اب اسکولوں میں دکھائی جائیں گی حب الوطنی پر مبنی بالی ووڈ فلمیں

بالی ووڈ فلموں کے ذریعے سنگ باری کا تدارک کرنے کے اس مجوزہ منصوبے کے تحت عسکریت پسندی سے متاثرہ علاقوں میں قائم اسکولوں میں فلموں کے 200 سے زائد شوز چلائے جائیں گے

Mar 26, 2017 03:44 PM IST | Updated on: Mar 26, 2017 03:44 PM IST

نئی دہلی: وزیر اعظم مودی کی قیادت والی مرکزی سرکار ایک منصوبے پر کام کررہی ہے جس کے تحت وادئ کشمیر میں عادی سنگ باری کو اس عادت سے دور کرنے کے لئے اسکولوں میں بالی وڈ فلموں کے شوز چلائے جائیں گے۔ بالی ووڈ فلموں کے ذریعے سنگ باری کا تدارک کرنے کے اس مجوزہ منصوبے کے تحت عسکریت پسندی سے متاثرہ علاقوں میں قائم اسکولوں میں فلموں کے 200 سے زائد شوز چلائے جائیں گے۔

اسکولوں میں دکھائی جانے والی فلمیں کی اصناف میں تفریح، کامیڈی اور حب الوطنی شامل ہوں گی۔ جنوبی ہندوستان کے شہر حیدرآباد سے شائع ہونے والے انگریزی روزنامہ دکن کرانیکل نے اپنی ایک رپورٹ میں اس کا انکشاف کرتے ہوئے لکھا ہے ’نریندر مودی کی حکومت جموں وکشمیر میں سنگ باری کا بالی وڈ فلموں کے ذریعے نجات پانے کا منصوبہ بنا رہی ہے‘۔ رپورٹ کے مطابق وزارت اطلاعات و نشریات اور وزارت فروغ انسانی وسائل وادی کے تمام عسکریت پسندی سے متاثرہ علاقوں میں قائم اسکولوں میں 200 سے زائد فلموں کے شوز چلانے کا منصوبہ بنارہی ہے۔ اس پہل کے تحت متاثرہ اضلاع میں 40 ہزار طلباء کو ٹارگیٹ کیا جائے گا۔

کشمیر : سنگ باری کے سدباب کیلئے اب اسکولوں میں دکھائی جائیں گی حب الوطنی پر مبنی بالی ووڈ فلمیں

علامتی تصویر

اخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے ’یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسکولوں میں دکھائی جانے والی فلمیں کی اصناف میں تفریح، کامیڈی اور حب الوطنی شامل ہوں گی‘۔ مرکزی معاونت والی اسکیم راشٹریہ مدیامک شکھشاابھیان (آر ایم ایس اے) کے تحت بالی وڈ فلموں کے ان 200 شوز کو یا تو اسکولوں یا کرایہ پر لی گئی جگہوں پر دکھایا جائے گا۔

دکن کرانیکل نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے ’دلچسپی کی بات تو یہ ہے کہ جہاں ملک کے دوسرے حصوں میں ایسے شوز این جی اووز کے ذریعے چلائے جاتے ہیں، وہیں سرکار نے اس حساس خطے (کشمیر) میں یہ کام اپنی ایجنسیوں کو سپرد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے‘۔ خیال رہے کہ انڈیا ٹوڈے نے اپنی یکم مارچ کی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ ’سنگبازی‘ جو پہلے گرمائی دارالحکومت سری نگر کے سیول لائنز علاقہ مائسمہ اور پائین شہر کے چند گنے چنے علاقوں تک محدود تھی، اب کشمیر کے دیہی علاقوں تک پھیل گئی ہے اور اس میں برہان وانی کی ہلاکت کے بعد غیرمعمولی اضافہ درج کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ دیہی علاقوں میں نوجوان سنگبازوں کے ہجوم زیادہ ہی جنونی ہوتے ہیں اور ان میں 4 اور 5 سال کی عمر کے بچے بھی شامل ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ دیہی علاقوں میں سنگبازی کے واقعات میں اضافے کے سبب سیکورٹی فورسز کو انسداد عسکریت پسندی کی کاروائیوں کے دوران خاصی دقعتوں ں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ زیادہ تر ممبران اسمبلی حملوں کے خوف کی وجہ سے اپنے حلقوں کا دورہ کرنے سے بھی ڈرتے ہیں۔ انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ وادی کی زمینی صورتحال یہ ہے کہ گذشتہ چند برسوں کے دوران سنگبازی کے واقعات میں غیرمعمولی اضافہ درج کیا گیا ہے اور سیکورٹی فورسز کے مطابق ریاستی سرکار کی لوگوں تک پہنچنے کی نااہلیت اس کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ زیادہ تر ممبران اسمبلی حملوں کے خوف کی وجہ سے اپنے حلقوں کا دورہ کرنے سے بھی ڈرتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا ’وزیر اعلیٰ (محبوبہ مفتی) نے گذشتہ چند مہینوں کے دوران کچھ علاقوں کا دورہ کیا، لیکن وہ ہمیشہ چاروں طرف سے سیکورٹی فورس اہلکاروں سے گھیری ہوئی ہوتی ہیں جس کی وجہ سے مقامی لوگ اُن سے بات نہیں کرپاتے ہیں‘۔

رپورٹ میں ایک عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا تھا ’چونکہ وہ اننت ناگ سے منتخب ہوئی ہیں، لیکن وہ وہاں نہیں دیکھی جاتی ہیں‘۔ فوجی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل بپن راوت کی سنگبازوں کو حالیہ وارننگ کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ ان ریمارکس کی وجہ سے سیکورٹی فورسز کو مستقبل قریب میں پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سنگبازوں کے خلاف شروع کردہ کریک ڈاؤن کا اثر عارضی جبکہ آنے والا گرمی کا موسم ایک بار پھر گرم ثابت ہوسکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا ’وزیر اعلیٰ (محبوبہ مفتی) نے گذشتہ چند مہینوں کے دوران کچھ علاقوں کا دورہ کیا، لیکن وہ ہمیشہ چاروں طرف سے سیکورٹی فورس اہلکاروں سے گھیری ہوئی ہوتی ہیں جس کی وجہ سے مقامی لوگ اُن سے بات نہیں کرپاتے ہیں‘۔ رپورٹ میں ایک عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا تھا ’چونکہ وہ اننت ناگ سے منتخب ہوئی ہیں، لیکن وہ وہاں نہیں دیکھی جاتی ہیں‘۔ فوجی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل بپن راوت کی سنگبازوں کو حالیہ وارننگ کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ ان ریمارکس کی وجہ سے سیکورٹی فورسز کو مستقبل قریب میں پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سنگبازوں کے خلاف شروع کردہ کریک ڈاؤن کا اثر عارضی جبکہ آنے والا گرمی کا موسم ایک بار پھر گرم ثابت ہوسکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا ’مقامی جنگجو کے جھڑپ میں پھنسنے کے وقت سنگبازی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں‘۔ قابل ذکر ہے کہ کشمیر ایک ایسا خطہ ہے جہاں ایک بھی سنیما گھر موجود نہیں ہے۔

جن سنیما گھروں میں 1980 کی دہائی میں فلمیں دکھائی جاتی تھیں وہ اب یا تو سیکورٹی فورسز کی زیر تصرف ہیں یا ان کی عمارتیں بوسیدہ ہوچکی ہیں۔ وہ بھی اس حقیقت کے باوجود کہ وادی کی برف سے ڈھکی پہاڑیاں، سرسبز و شاداب کھیت اور دلکش آبی ذخائر بالی ووڈ کو فلموں کی عکس بندی کے لئے یہاں کھینچ لاتے ہیں اور بیسویں صدی کی چھٹی سے لیکر آٹھویں دہائی تک بیشتر بالی ووڈ فلموں کی عکس بندی یہیں ہوئی ہیں۔ وادی کے حالات پر گہری نگاہ رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے ’ وادی میں 1980 کی دہائی کے اواخر میں نامساعد حالات نے جنم میں لیا جس نے یہاں سب کچھ تبدیل کرکے رکھ دیا ہے‘۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز