Live Results Assembly Elections 2018

اردو اور ہندی کے بیچ کی دیواروں کو ٹوٹنا چاہیے: پروفیسر شمیم حنفی

نئی دہلی۔ یہ کوئی اچھی بات نہیں کہ اردو اور ہندی خانوں میں بٹی رہی۔ ان دیواروں کو ٹوٹنا چاہئے اور یہ کتاب اس جانب ایک بڑا قدم ہے۔

Nov 08, 2017 08:51 PM IST | Updated on: Nov 08, 2017 08:52 PM IST

نئی دہلی۔ یہ کوئی اچھی بات نہیں کہ اردو اور ہندی خانوں میں بٹی رہی۔ ان دیواروں کو ٹوٹنا چاہئے اور یہ کتاب اس جانب ایک بڑا قدم ہے۔ ان خیالات کا اظہارانجمن ترقی اردو (ہند) کے زیر اہتمام اردو گھر نئی دہلی میں خورشید اکرم کی ترتیب دی ہوئی کتاب جدید ہندی شاعری کی رسم رو نمائی کے موقع پر مشہور دانشور و نقاد پروفیسر شمیم حنفی نے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ زبانوں کے بیچ فرق سیاست نے پیدا کیا ہے اور جب زبان اور ادب سیاست کا حصہ بن جائیں تو بڑی تباہی آتی ہے۔ شمیم حنفی نے مزیدکہا کہ اس کتاب میں شامل نظموں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ اتنی آسان زبان میں ہے کہ اس میں اردو نظمیں بھی ملا دی جائیں تو یہ آ پس میں گھل مل جائیں گی۔

اس موقع پر ہندی کے مشہور نقاد پروفیسر وشوناتھ ترپاٹھی نے کہا کہ وہ پابند شاعری کے بہت قائل رہے ہیں لیکن شاعری اب اپنے ارتقا کے اس درجے میں پہنچ گئی ہے کہ بحر سے آزاد شاعری پڑھ کر بھی مہا کاویہ کا احساس ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو اپنا وجود بچائے رکھنے کے لئے شاعری کی بہت ضرورت ہے ۔ سیاست اور سماج میں شاعری کی کمی کا نتیجہ ہے کہ آج ہمیں یہ لکھنا پڑ رہا ہے کہ اب صبح سیرکرنا خطرناک ہے۔مشہور ہندی شاعر منگلیش ڈبرال نے کہا کہ اس طرح کے کاموں سے دو زبانوں کے بیچ کی دوری کم ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کتاب کو دیکھ کر یہ لگتا ہے کہ یہ ہندی شاعروں کا نہیں ہندی نظموں کا انتخاب ہے اور جس میں پورے طور پرخورشید اکرم کی اپنی پسند کا دخل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہندی میں دوسری زبانوں سے قبولیت کا رجحان کم ہو گیا ہے اور یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے۔

اردو اور ہندی کے بیچ کی دیواروں کو ٹوٹنا چاہیے: پروفیسر شمیم حنفی

اس موقع پر ہندی کے مشہور نقاد پروفیسر وشوناتھ ترپاٹھی نے کہا کہ وہ پابند شاعری کے بہت قائل رہے ہیں لیکن شاعری اب اپنے ارتقا کے اس درجے میں پہنچ گئی ہے کہ بحر سے آزاد شاعری پڑھ کر بھی مہا کاویہ کا احساس ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم زبان کے پھیلاؤ اور اس کی گہرائی پر بات کرنے کی بجائے اگر صرف اس بات پر خوش ہو جاتے ہیں کہ اقوام متحدہ میں ایک جملہ ہندی کا بول دیا گیا یا امریکہ کے صدر نے نمستے کہہ دیا تو یہ ہماری ذہنی قلاشی ہے۔ اردو شاعر فرحت احساس نے کہا کہ یہ کتاب اس یقین کے ساتھ شائع کی گئی ہے کہ اس کے پڑھنے والے اب بھی موجود ہیں۔ لیکن سوال یہ کہ اس کو پڑھے گا کون۔ کیونکہ اس وقت انسان کے پاس سوچنے، سمجھنے اور اپنے آپ کو محسوس کرنے کا وقت نہیں ہے، پھر شاعری جو لفظ کے وسیلے سے سامنے آتی ہے اس کے ساتھ زندگی بسر کرنے میں بڑے محالات ہیں۔ پھر بھی ہمیں کچھ حد تک اس بات کا اطمینان ہے کہ اب بھی شاعری کو پڑھنے والے لوگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کی دنیا میں ہر چیز کو vulgarise کر دیا گیا ہے اور جو چیز سب سے زیادہ اس کو جھیل رہی ہے وہ شاعری کی روح ہے۔ ہندی شاعرہ انامیکا نے کہا کہ اس طرح کی کتابوں اور اس طرح کی محفلوں کی بہت ضرورت ہے جہاں ہم ایک دوسرے کو سنیں اور ایک دوسرے سے سیکھیں، انہوں نے امید جتائی کہ اگلی بار جب ہم یہاں جمع ہوں تو تو اس طرح کہ ایک انتخاب اردو شاعری کا ہندی میں اور اور ایک اور انتخاب ہندی کا اردو میں چھپے۔

جلسے کے آغاز میں خورشید اکرم نے کتاب کی اشاعت کی غرض وغایت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہندی نظم کے بیش بہا خزانے سے تھوڑی سی ایسی نظموں کا انتخاب کرنے کی کوشش کی ہے جس سے اردو نظم استفادہ کر کے اپنے آپ کو مزید وسعت دے سکتی ہے۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر نجمہ رحمانی نے انجام دیے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز