یوگی کے دعوے کی پول کھلی: گورکھپور میں بچوں کی موت آکسیجن کی سپلائی رکنے سے ہوئی

Aug 28, 2017 11:46 AM IST | Updated on: Aug 28, 2017 11:46 AM IST

گورکھپور۔ گورکھپور کے بی آر ڈی میڈیکل کالج میں بچوں کی موت پر ڈی جی ایم ای کی رپورٹ اور بارہ صفحات کی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ آکسیجن کی سپلائی تو رکی تھی حالانکہ ساتھ ہی یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسٹور میں آکسیجن سلینڈر کی کمی نہیں تھی ۔ رپورٹ میں اس بیان سے کئی سوال کھڑے ہو رہے ہیں۔ ان میں بچوں کی موت آکسیجن کی کمی سے نہیں ہونے کے حکومت کے دعوے پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

ڈی جی ایم ای کی رپورٹ پر اٹھے کئی سوال

یوگی کے دعوے کی پول کھلی: گورکھپور میں بچوں کی موت آکسیجن کی سپلائی رکنے سے ہوئی

اگر اسپتال میں آکسیجن سلنڈر کی کمی نہیں تھی تو آکسیجن کی سپلائی رکی کیوں؟

اگر بچوں کی موت آکسیجن کی کمی کی وجہ سے نہیں ہوئی تو آکسیجن سپلائی کرنے والی کمپنی کے خلاف ایف آئی آر کیوں درج کی گئی ہے؟

اگر اسپتال میں آکسیجن سلنڈر کی کمی نہیں تھی تو آکسیجن کی سپلائی رکی کیوں؟

انکوائری رپورٹ اور ایف آئی آر میں اگر آکسیجن سپلائی رکنے کی بات مانی گئی ہے، تو پھر ایسا کیوں کہا جا رہا ہے کہ بچوں کی موت آکسیجن کی کمی سے نہیں ہوئی؟

یوپی کے ڈی جی ایم ای کے کے گپتا کی تحریر پر اتوار کو لکھنئو کے حضرت گنج تھانہ میں 9 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ ان میں پہلی ایف آئی آر بدعنوانی، دوسری لاپرواہی برتنے اور تیسری ایف آئی آر پرائیویٹ پریکٹس کے خلاف درج کی گئی ہے۔

اس ایف آئی آر میں بی آر ڈی میڈیکل کالج کے سابق پرنسپل ڈاکٹر راجیو مشرا، ڈاکٹر کفیل خان، ڈاکٹر ستیش، ڈاکٹر پورنیما شکلا، چیف فارماشسٹ گجانن جیسوال، اکاؤنٹنٹ سدھیر پانڈے، اسسٹنٹ کلرک، پشپا سیلس کے ادے،  پرتاپ شرما اور منیش بھنڈاری پر کل 7 دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

 

 

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز