بریلی کے زمین کی گہرائی میں ملا خطرناک بیكٹيريا ، سبھی علاقوں کا پانی پینے کے قابل نہیں

Jul 17, 2017 11:14 PM IST | Updated on: Jul 17, 2017 11:14 PM IST

بریلی : بریلی کے زمین کی گہرائی میں خطرناک بیكٹيريا ملا ہے ۔ حال ہی میں ہوئی ایک ریسرچ سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ بریلی کے تمام علاقوں کا پانی پینے کے قابل نہیں رہ گیا ہے ۔ ریسرچ میں اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ اگر پانی کی درستگی پرغور نہیں کیا گیا تو یہ پانی انسان کی صحت کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے موجودہ سرکار یا میونسپل کارپوریشن کی سطح پر کوئی ایکشن پلان تیار نہیں ہے کہ کیسے اس خطرے سے اس عوام کو بچایا جائے ، جو اس پانی کا استعمال کر رہی ہے۔

بریلی کالج کے شعبہ نباتیات میں ایک ریسرچ سے ثابت ہوا ہے کہ بریلی کے تمام محلے اور کالونیاں کا پانی پینے کے قابل نہیں ہے ۔ ریسرچ کے لیے کل دو سو نلوں کو منتخب کیا گیا تھا۔ ان تمام کا پانی جمع کرکے ان کی لیب میں جانچ کرائی گئی ۔ شعبہ نباتیات کےکئی سینئر پروفیسر اور اساتذہ نے ریسرچ میں پایا کہ 80 سے 120 فٹ تک گہرے نلوں کے پانی میں ای کولی بیكٹيريا ملا ہے ۔ اس بیکٹیریا کی وجہ سے كولايٹس، پیلیا، ہیپیٹائٹس بی جیسی خطرناک بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ اس کے لیے اسپتالوں، فیکٹریوں اور کالونیوں میں واٹر ڈرینیج کے جدید طریقہ کار کو اپنانے کی ضرورت ہے ۔

بریلی کے زمین کی گہرائی میں ملا خطرناک بیكٹيريا ، سبھی علاقوں کا پانی پینے کے قابل نہیں

اسپتال، فیکٹری اوركالونیوں میں واٹر ڈرینیج سسٹم بہت نیچے لگاتے ہیں، جس سے گندہ پانی رس رس کر سو فٹ کی گہرائی سے بھی نیچے چلا گیا ہے ۔ لہذا بریلی کے تقریبا 60 علاقہ ایسے ہیں، جہاں نلوں کا پانی پینے کے قابل نہیں رہ گیا ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز