بہادر شاہ ظفر کے باقیات کو رنگون سے واپس لانے کا مطالبہ تیز

سوشلسٹ پارٹی نے بہادر شاہ ظفر کے باقیات رنگون سے واپس لائے جانے کا حکومت سے مطالبہ کیا ہے۔

May 10, 2017 10:29 AM IST | Updated on: May 10, 2017 10:29 AM IST

نئی دہلی : سوشلسٹ پارٹی نے بہادر شاہ ظفر کے باقیات رنگون سے واپس لائے جانے کا حکومت سے مطالبہ کیا ہے۔پارٹی کے صدر ڈاکٹر پریم سنگھ نے آج یہاں جاری ایک بیان میں یہ مطالبہ کیا۔  ہندوستان کے جانباز فوجیوں نے 10 مئی 1857 کو میرٹھ میں برطانوی حکومت کے خلاف بغاوت کا آغاز کیاتھا۔ ملک کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرانے کے مقصد سے وہ میرٹھ سے 10 مئی کو چل کر11 مئی کو دہلی پہنچے اور بادشاہ بہادر شاہ ظفر سے آزادی کی جنگ کی قیادت کرنے کی درخواست کی۔

بادشاہ نے فوجیوں اور ان کے ساتھ آئےشہریوں کی پیشکش کی قدر کی اور 82 سال کی عمر میں آزادی کی پہلی جنگ کی قیادت قبول کی۔ کئی وجوہات سے فوجی وہ جنگ جیت نہیں پائے۔ انگریزوں نے بادشاہ پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا اور اکتوبر 1858 میں انہیں قید کرکےدہلی سے رنگون بھیج دیا۔ وہاں 7 نومبر 1862 کو 87 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا اور 'بدنصیب ظفر' کو وہیں گمنامی کے اندھیرے میں دفن کیا گیا۔

بہادر شاہ ظفر کے باقیات کو رنگون سے واپس لانے کا مطالبہ تیز

سوشلسٹ پارٹی پہلی جنگ آزادی کے عظیم رہنما اور بہترین شاعر بہادر شاہ ظفر کے باقیات واپس لانے کا مطالبہ صدرجمہوریہ سے 2013 میں کر چکی ہے۔ پارٹی نے اس بابت صدر جمہوریہ کو میمو دیا تھا۔ سوشلسٹ پارٹی کے سینئر رکن جسٹس راجندر سچر نے صدرجمہوریہ سے ملاقات کر کے دعا کی تھی کہ وہ بادشاہ کے باقیات واپس ہندوستان لانے کے لئے حکومت سے کہیں۔

پہلی جنگ آزادی کی 160 ویں سالگرہ کے موقع پر سوشلسٹ پارٹی کے صدر ڈاکٹر پریم سنگھ نے ایک بار پھر صدرجمہوریہ کو میمو بھیج کر اپیل کی ہے کہ وہ اپنی مدت کے آخری دنوں میں ظفر کے باقیات واپس لانے کا ضروری کام انجام دیں۔ اس سے ملک کی آزادی کی جدوجہد کی مشترکہ وراثت کا احترام ہوگااور وہ مضبوط ہو گی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز