بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے راجیہ سبھا سے دیا استعفی، تین صفحات میں نائب صدر کو بتائی وجہ

Jul 18, 2017 05:34 PM IST | Updated on: Jul 18, 2017 05:35 PM IST

نئی دہلی : بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے راجیہ سبھا سے استعفی دے دیا ہے۔ مایاوتی نے راجیہ سبھا چیئرمین اور نائب صدر حامد انصاری کو اپنا استعفی نامہ سونپ دیا ہے ۔ مانسون اجلاس کے دوسرے دن منگل کو اتر پردیش میں ہو رہے فسادات پر بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے راجیہ سبھا میں سخت رد عمل کا اظہار کیا تھا ۔ ایوان کی کارروائی کے دوران انہوں نے کہا کہ 'میری بات نہیں سنی جا رہی ہے، میں آج استعفی دے دوں گی۔

مایاوتی نے ایوان سے باہر نکلنے کے بعد اخباری نمائندوں سے کہا کہ میں نے تحریک التوا کے تحت نوٹس دیا تھا جس میں بولنے کے لئے تین منٹ کی کوئی حد نہیں ہوتی ۔ جب میں نے سہارن پور ضلع کے شبیر پور گاؤں کا معاملہ اٹھانے کی کوشش کی تو حکمراں پارٹی کےارکان کھڑے ہوکر ہنگامہ کرنے لگے اور مجھے بولنے نہیں دیا گیا۔ اگر میں دلتوں اور محروموں کا معاملہ ایوان میں نہیں اٹھا سکتی تو میرا راجیہ سبھا میں آنے کا کیا فائدہ۔ اس لئے میں نے استعفی دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ آج ہی اپنا استعفی سونپ دیں گی۔

بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے راجیہ سبھا سے دیا استعفی، تین صفحات میں نائب صدر کو بتائی وجہ

محترمہ مایاوتی نے الزام لگایا کہ جب سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت اقتدار میں آئی ہے پورے ملک میں دلتوں، پسماندہ، مسلمانوں، عیسائیوں، کسانوں، مزدوروں اور مڈل کلاس کا استحصال ہورہا ہے۔ آندھراپردیش میں روہت ویمولا معاملہ اور گجرات میں اونا معاملہ ہوا۔ اترپردیش میں بی جے پی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے دلتوں پر مسلسل کبھی گؤرکشا کے نام پر تو کبھی کسی دیگر بہانے سے حملے ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شبیر پور میں انتظامیہ کے حکام کی موجودگی میں دلتوں کا استحصال کیا گیا۔ ان کے 60 سے 70گھر جلا دےئے گئے، ماؤں بہنوں کا استحصال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے انہیں ہیلی کاپٹر سے وہاں جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ سڑک راستے سے جانے پر بھی جگہ جگہ ان کے لئے دقتیں پیدا کی گئیں۔ ان کے زیڈ پلس سیکورٹی ہونے کے باوجود انہیں سیکورٹی فراہم نہیں کی گئی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز