مایا وتی نے نسیم الدین صدیقی کو بیوی اور بیٹے سمیت بی ایس پی سے کیا برطرف

بہوجن سماج پارٹی کے سینئر لیڈر نسیم الدین صدیقی کو پارٹی کو سے باہر کا راستہ دکھا دیا گیا ۔

May 10, 2017 10:49 AM IST | Updated on: May 10, 2017 12:56 PM IST

لکھنؤ: بہوجن سماج پارٹی(بی ایس پی)کی حکمت عملی بنانے والوں میں شمار کئے جانے والے پارٹی کے جنرل سکریٹری نسیم الدین صدیقی کو ان کی اہلیہ حسنیٰ صدیقی اور بیٹے افضل صدیقی کے ساتھ آج بی ایس پی سے برطرف کردیا گیا۔ ان پر پارٹی مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ساتھ ساتھ اسمبلی انتخابات میں امیدواروں سے پیسے لینے کا الزام تھا۔ مسٹرصدیقی کو ان کی بیوی اور بیٹے سمیت پارٹی سے نکالنے سے متعلق بی ایس پی کی صدرمحترمہ مایاوتی کے فیصلے کے سلسلے میں راجیہ سبھا رکن اور پارٹی کے جنرل سکریٹری ستیش چندر مشر نے اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ مسٹر صدیقی کو محترمہ مایاوتی نے کئی بار بلایا۔انہیں کئی پیغام بھیجے گئے لیکن وہ اپناموقف رکھنے نہیں آئے۔ مسٹر مشر نے بتایا کہ مسٹر صدیقی ان کی بیوی اور بیٹے کوپارٹی سے نکالنے کے سوائے کوئی طریقہ ہی نہیں بچا تھا۔

بی ایس پی حکومتوں میں 18-18اہم محکموں سے وزیررہے مسٹر صدیقی کو محترمہ مایاوتی کا بہت قریبی سمجھاجاتاتھا۔ وہ قانون ساز کونسل میں اپوزیشن کےلیڈر بھی رہے ہیں۔اس وقت وہ قانون ساز کونسل میں بی ایس پی کے لیڈر تھے۔ان کی اہلیہ حسنیٰ صدیقی بھی قانون ساز کونسل کی رکن ہیں۔ان کے بیٹےافضل نے 2014میں لوک سبھا کاالیکشن لڑاتھا۔

مایا وتی نے نسیم الدین صدیقی کو بیوی اور بیٹے سمیت بی ایس پی سے کیا برطرف

بالی وال کے بہترین کھلاڑی رہے مسٹر صدیقی کو بی ایس پی کا مسلم چہرہ مانا جاتا تھا۔ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں مسٹر صدیقی نے 403میں سے 100سیٹوں پر مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دلایا تھا۔انہیں الیکشن کے بعد ہی اترپردیش اور اتراکھنڈ کے پارٹی انچارج کے عہدے سے ہٹاکر مدھیہ پردیش کا انچارج بنایا گیا تھا۔

بنیادی طورپر باندا ضلع کے رہنے والے نسیم الدین 1988میں بی ایس پی میں شامل ہوئے تھے۔ وہ 1991 میں پہلی بار اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے لیکن 1993 میں وہ الیکشن ہار گئے۔ بطور وزیراعلی محترمہ مایاوتی کے دور حکومت میں چاروں بار وہ اہم محکموں کے وزیر رہے۔مسٹر صدیقی محترمہ مایاوتی کے اس قدر قریب تھے کہ انہوں نے گزشتہ جولائی میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما دیا شنکر سنگھ کے بی ایس پی صدر کے خلاف کئےگئے مبینہ تبصرے کے سلسلے میں پارٹی کے احتجاجی مظاہرے کی قیادت کی تھی۔

مسٹر سنگھ کی اہلیہ محترمہ سواتی سنگھ نے بی ایس پی کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ ہی ان کے خلاف بھی کئی سنگین دفعات میں مقدمہ درج کرایا تھا۔ محترمہ مایاوتی نے مسٹر صدیقی کے بیٹے افضل کو ریاست کے مغربی علاقوں میں اسمبلی انتخابات میں تشہیری مہم کی کمان سونپی تھی۔ دوسری جانب،مسٹر صدیقی نے فی الحال ابھی اس فیصلے پر کوئی فوری تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے،لیکن ان کے قریبی ذرائع کے مطابق وہ کل پریس کانفرنس کرکے محترمہ مایاوتی پر کئ الزامات لگا سکتے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز