اترپردیش ضمنی انتخابات : سائیکل پر سوار ہاتھی نے کئے ایک تیر سے دو شکار

Mar 14, 2018 08:39 PM IST | Updated on: Mar 14, 2018 08:39 PM IST

لکھنو : اترپردیش میں سماجوادی پارٹی - بہوجن سماج پارٹی کی سیاسی دوستی انتخابی امتحان میں پاس ہوگئی ہے ۔ اس سے جتنا جھٹکا بی جے پی کو لگا ہے ، اس سے زیادہ کانگریس کی بے چینی بڑھی ہے ۔ گورکھپور اور پھولپور میں کانگریس کو لوگوں نے بری طرح سے خارج کردیا ۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس نتائج کے بعد کانگریس کی سیٹ بارگیننگ پاور ختم ہوگئی ہے۔

او بی سی - دلت - مسلم اتحاد کا فارمولہ بی جے پی کے اہم گڑھ گورکھپور میں پاس ہونے کے بعد اب اترپردیش میں سماجوادی پارٹی اور بی ایس پی اپنے اعتبار سے سیٹ دیں گی یا پھر اس کو اکیلے میدان میں اترنا پڑے گا ۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق کانگریس اب کم سے کم یوپی میں تو بڑے بھائی کے رول میں نہیں ہوگی۔ بی ایس پی صدر مایا وتی نے اپنی ایک چال سے نہ صرف بی جے پی کو شکست دی ہے بلکہ کانگریس کو بھی اس کی یوپی والی حیثیت بتادی ہے۔

اترپردیش ضمنی انتخابات : سائیکل پر سوار ہاتھی نے کئے ایک تیر سے دو شکار

مایاوتی اور اکھیلیش یادو ۔ فائل فوٹو

سیاسی جانکاروں کا کہنا ہے کہ دلت ووٹ ہر ریاست میں ہے ، اس لئے اگر او بی سی - مسلم - دلت اتحاد بنتا ہے تو ہی اپوزیشن بی جے پی کو چیلنج دے پائے گا ۔ اس بات کو بی ایس پی کے سینئر لیڈر امید سنگھ بھی مانتے ہیں ۔ سنگھ کے مطابق پارٹی نے اپنے لئے گجرات میں 25 اور ہماچل میں کانگریس کی ہاری ہوئی 10 سیٹیں مانگی تھیں ، لیکن اس نے نہیں دی ، اب ہم نے پھولپور اور گورکھپور میں ایس پی کو حمایت دے کر ایک تیر سے دو نشانے لگائے ہیں ۔ بی جے پی کا قلعہ مندہم کیا ہے اور کانگریس سے بی ایس پی کو نظر انداز کرنے کا بدلہ بھی لیا ہے۔

کانگریس نے ان دونوں سیٹوں پر ایس پی سے پہلے اپنا امیدوار اعلان کردیا تھا ۔ اس معاملہ میں اس نے نہ تو بی ایس پی سے رائے لی تھی اور نہ ہی ایس پی سے۔ ریاستی صدر راج ببر انتخابی تشہیر کے دوران ایس پی اور بی ایس پی کی دوستی کو بھی موقع پرستی بتا رہے تھے۔

بہن جی : دی رائز اینڈ فال آف مایا وتی نام کی کتاب لکھنے والے سینئر صحافی اجے بوس کہتے ہیں کہ زمینی سطح پر ایس پی اور بی ایس پی کے کارکنان مل رہے ہیں ، یہ اس نتیجہ سے ثابت ہوگیا ہے ، ایس پی اور بی ایس پی کے ساتھ آنے سے مسلم ووٹوں کی بھی تقسیم نہیں ہوگی ، جس کا فائدہ اتحاد کو ملے گا ۔ جاٹو ووٹ بی ایس پی کے ساتھ ہے ، دیگر دلتوں کی بات نہیں کی جاسکتی ہے ، اس جیت سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ ایس پی اور بی ایس پی 2019 کے عام انتخابات میں ساتھ آسکتے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز