بی ایس اپی ایم ایل سی محمود علی کی جائیداد قرق ، غیر قانونی کان کنی کے کیس میں بینک اکاؤنٹس بھی منجمد

Nov 09, 2017 07:00 PM IST | Updated on: Nov 09, 2017 07:00 PM IST

سہارنپور: اترپردیش کے سہارنپور میں غیر قانونی کانکنی معاملے میں 44 کروڑ 74 لاکھ روپے کی وصولی کے احکامات کے ساتھ ریونیومحکمہ نے بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے قانون ساز کونسل رکن (ایم ایل سی) محمود علی کی املاک كو ضبط کرتے ہوئے ان کے بینک اکاؤنٹس کو سیز کردیا ہے۔ ضلع مجسٹریٹ پرمود کمار پانڈے نے آج یہاں بتایا کہ بی ایس پی ایم ایل سی محمود علی کو سہارنپور میں گزشتہ پانچ برس سے کان کنی پٹا ملا ہوا تھا . غیر قانونی کان کنی کے معاملے پر ریاستی حکومت نے 44 کروڑ 74 لاکھ روپے کا جرمانہ لگایا ہے۔ ضلع انتظامیہ نے رقم جمع نہیں کئے جانے پر املاک ضبطی اور بینک اکاؤنٹ سیز کئے جانے کا حکم دیا ہے ۔

مسٹر پانڈے کے مطابق ایس ڈی ایم جگراج سنگھ نے مرزا پور واقع اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی شاخ میں محمود علی کے اکاؤنٹ کو بھی سیز کر دیا ہے۔ انتظامیہ یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ محمود علی کے اکاؤنٹ میں کتنی رقم جمع ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں بی ایس پی ایم ایل سی کے گھر پر نوٹس چسپہ کر دی گئی ہے۔ضلع مجسٹریٹ پانڈے نے یہ بھی بتایا کہ کان کنی معاملے میں جن پٹہ داروں پر جرمانہ کیا گیا ان میں سے کسی نے بھی رقم جمع نہیں کی ہے۔

بی ایس اپی ایم ایل سی محمود علی کی جائیداد قرق ، غیر قانونی کان کنی کے کیس میں بینک اکاؤنٹس بھی منجمد

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز