دامن پر لگنے والے فسادات کے داغ چھڑانا ایس پی کے لئے آسان نہیں : مایاوتی

Jan 15, 2017 08:50 PM IST | Updated on: Jan 15, 2017 08:50 PM IST

لکھنؤ: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر مایاوتی نے آج کہا کہ مغربی اترپردیش میں مسلم ووٹوں کو حاصل کرنے کی خواہش میں کانگریس کے ساتھ اتحاد کے لئے بے تاب حکمراں سماج وادی پارٹی (ایس پی) کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس کے دامن پر فرقہ وارانہ فسادات کا داغ لگا ہے جو آسانی سے دھلنے والا نہیں ہے۔

اپنی 61 ویں سالگرہ کے موقع پر محترمہ مایاوتی نے یہاں منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ سماج وادی پارٹی کے دور حکومت کے دوران مظفرنگر، دادری اور بلند شہر میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کی ٹیس اور درد آج بھی لوگوں کے دلوں میں تازہ ہے۔ ایس پی کی حکمرانی میں صوبے کے باشندوں نے امن و قانون کی بدحالی اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے اور وہ دوبارہ ایسي پارٹی کی حکومت کو دیکھنا قطعی پسند نہیں کریں گے۔

دامن پر لگنے والے فسادات کے داغ چھڑانا ایس پی کے لئے آسان نہیں : مایاوتی

محترمہ مایاوتی نے سوال کیا کہ کانگریس اور دیگر جماعتوں کے لوگ سماج وادی پارٹی کے لیے ووٹ کس طرح مانگ سکتے ہیں جبکہ سب کو معلوم ہے کہ اس حکومت کا اصلی چہرہ کیسا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے بعد اگر بی ایس پی کی حکومت بنتی ہے تو سماج وادی پارٹی کے کئی لیڈر جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوں گے یا خطے چھوڑنے پر مجبور هوں گے۔

انہوں نے دعوی کیا کہ بی جے پی حکمرانی والی ریاستوں میں بھی قانون کی حالت نہایت قابل رحم ہے۔ للت مودی اور وجے مالیا جیسے بھگوڑوں کے معاملے میں عوام وزیر اعظم نریندر مودی کی دریادلی دیکھ چکے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز