اجودھیا میں بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کی تعمیر ضروری : وسیم رضوی ، دی یہ نئی دلیل

اترپردیش شیعہ سینٹرل وقف بورڈ نے ملک میں اتحاد،مسلمانوں کے تحفظ اور بھائی چارہ ب کورقرار رکھنے کیلئے اجودھیا میں متنازع بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کی تعمیر کو ضروری بتایا ہے۔

Oct 17, 2017 03:18 PM IST | Updated on: Oct 17, 2017 05:00 PM IST

لکھنؤ: اترپردیش شیعہ سینٹرل وقف بورڈ نے ملک میں اتحاد،مسلمانوں کے تحفظ اور بھائی چارہ ب کورقرار رکھنے کیلئے اجودھیا میں متنازع بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کی تعمیر کو ضروری بتایا ہے۔ بورڈ کے چار بار سے لگاتار چیئرمین رہے وسیم رضوی نے بابری مسجد پر اپنے بورڈ کے مالکانہ حق کا دعویٰ بھی کیاہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مسجد کو بابر کی فوج کے شیعہ کمانڈر میر باقی نے تعمیر کرائی تھی، اسلئے اس پر پہلا حق شیعہ مسلمانوں کا بنتا ہے،لیکن ملک میں اتحاد،مسلمانوں کے تحفط اور بھائی چارہ بنائے رکھنے کیلئے شیعہ سینٹرل وقف بورڈ چاہتاہے کہ مسجد کی جگہ پر رام مندر کی تعمیر ہو۔

ایک سوال کے جواب میں مسٹررضوی نے یو این آئی سے کہا کہ بہوجن سماج پارٹی(بی ایس پی)،سماج وادی پارٹی(ایس پی)کی سرکاروں میں ان کا منہ سرکاری وجوہات سے بند تھا مگر اب ان کو بولنے کی آزادی ہے۔اسلئے انہوں ے مسلمانوں کے تحفظ،بھائی چارہ اور ملک میں اتحاد کیلئے بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر تعمیر کی بات کی ہے۔

اجودھیا میں بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کی تعمیر ضروری : وسیم رضوی ، دی یہ نئی دلیل

اترپردیش شیعہ سینٹرل وقف بورڈ چیئر مین وسیم رضوی

انہوں نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ سنی وقف بورڈ کے حق میں آبھی جائے تو وہاں مندر کی تعمیر ممکن نہیں ہے۔انہوں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے نہ چاہتے ہوئے بھی کوئی بابری مسجد کو ٹوٹنے سے نہیں بچاپایا۔

مسٹر رضوی نے بتایا کہ اسلام کے قانون کے مطابق کوئی شخص یا ادارہ مسجد کا مالک نہیں ہوسکتا۔انہوں نے واضح کیاکہ مسجد کا مالک تو اللہ ہی ہوتا ہے، لیکن جب مسجد فساد کا سبب بن جائے تو اس کو چھوڑ دینا ہی ٹھیک ہوتا ہے۔ انہوں نے پیغمبر اسلام کی زندگی میں خود ان کے ذریعہ توڑی گئی ایسی ہی مسجد کا حوالہ دیا،انہوں نے کچھ ایسے فتووں کا بھی حوالہ دیا جن میں کہا گیا ہے کہ مسجد فساد کی جگہ پر نہیں ہونا چاہئے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز