جب حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کشمیر کی طویل ترین ہڑتال کا موجب بنی

Jul 08, 2017 09:01 PM IST | Updated on: Jul 08, 2017 09:01 PM IST

سری نگر۔ حزب المجاہدین کمانڈر برہان مظفر وانی کو گذشتہ برس 8 جولائی کو جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے بم ڈورہ ککرناگ میں ایک مختصر جھڑپ کے دوران اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ ہلاک کر دیا گیا۔ ایچ ایم کا پوسٹر بائے سمجھے جانے والے برہان کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی پوری وادی ابل پڑی اور گاؤں گاؤں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر موجودگی کے باعث برہان وانی کشمیر میں ایک گھریلو نام بن گیا تھا۔ وادی میں برہان وانی کی ہلاکت کے بعد بھڑک اٹھنے والی احتجاجی مظاہروں کی لہر کے دوران سیکورٹی فورسز کی کاروائی میں کم از کم 96 عام شہری ہلاک جبکہ 15 ہزار دیگر زخمی ہوگئے۔ 22 سالہ برہان وانی ضلع پلوامہ کے قصبہ ترال کا رہنے والا تھا۔ کشمیری عوام کے لئے حق خودارادیت کا مطالبہ کررہے حریت کانفرنس کے دونوں گروہوں کے سربراہان سید علی گیلانی و میرواعظ مولوی عمر فاروق اور جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے برہان وانی کی ہلاکت کے بعد ہفتہ وار احتجاجی کلینڈر جاری کرنے کا سلسلہ شروع کیا ۔ وادی میں برہان وانی کی ہلاکت کے بعد علیحدگی پسند قیادت کی اپیل پر کم از کم 150 دن ہڑتال رہی ۔

کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار مسلسل 133 دنوں تک ہڑتال کی گئی۔ برہان وانی کی ہلاکت کے بعد پیلٹ گن یا چھرے والی بندوق کے سبب سینکڑوں کی تعداد میں عام شہری بالخصوص نوجوان اپنی ایک یا دونوں آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوگئے جبکہ دیگر 14 کی موت واقع ہوئی۔ اگرچہ پیلٹ گن کے خلاف عالمی سطح پر اٹھنے والی آوازوں کے درمیان مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے ستمبر کے اوئل میں سری نگر میں یہ اعلان کیا تھا کہ’ اب کشمیر میں چھرے والی بندوق کی جگہ پاوا شیلوں کا استعمال ہوگا‘ جس سے کسی کی موت نہیں ہوگی، لیکن باوجود اُس اعلان کے وادی میں احتجاجی مظاہرین کے خلاف چھرے والی بندوق کا استعمال بغیر کسی روک ٹوک کے بدستور جاری ہے۔ سخت ترین کرفیو اور پابندیوں کے باوجود ایک محتاط اندازے کے مطابق 9 جولائی کو قریب 5 لاکھ لوگوں نے ترال پہنچ کر برہان وانی کے جلوس جنازہ میں شرکت کی جبکہ نماز جنازہ کم از کم 4 بار ادا کی گئی۔ اسی روز وادی کے مختلف علاقوں میں سیکورٹی فورسز کی احتجاجی مظاہرین پر فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد جاں بحق ہوئے۔ برہان وانی کی ہلاکت کے خلاف وادی بھر میں بھڑک اٹھنے والے شدید پرتشدد احتجاجی مظاہروں کے بعد سخت ترین کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا گیا تھا جس کو مختلف علاقوں میں 55 دنوں تک جاری رکھا گیا ۔

جب حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کشمیر کی طویل ترین ہڑتال کا موجب بنی

فوٹو کریڈٹ: گیٹی امیجیز

کشمیری علیحدگی پسند قیادت نے برہان وانی کی ہلاکت کے بعد ہفتہ وار احتجاجی کلینڈر جاری کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔ برہان کی ہلاکت کے بعد وادی میں 19 نومبر کو پہلی بار کوئی ہڑتال نہیں رہی کیونکہ علیحدگی پسند قیادت نے اپنے ہفتہ وار احتجاجی کلینڈر میں دو روزہ ڈھیل کا اعلان کردیا تھا۔ وادی میں برہان وانی کی ہلاکت کے بعد علیحدگی پسند قیادت کی اپیل پر کم از کم 150 دن ہڑتال رہی۔ وادی کے سرکردہ ادیب، شاعر اور تاریخ دان ظریف احمد ظریف کا کہنا ہے کہ یہ وادی میں اب تک کی تاریخ کی طویل ترین ہڑتال ہے۔ کشمیر کی تجارتی انجمنوں کا کہنا ہے کہ ہڑتال کے باعث وادی کی معیشت کو ہر ہڑتال کے دن اوسطً 120 کروڑ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ سب سے زیادہ نقصان ٹرانسپورٹ، تجارتی اور سیاحتی شعبوں کا ہوا ۔ وادی میں وہ تمام ہوٹل خالی پڑ ے رہے جو جون کے مہینے میں سیاحوں سے کھچا کھچ بھرے ہوا کرتے تھے۔ وادی میں برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سیکورٹی فورسز کی کاروائی میں کم از کم 96 عام شہری ہلاک جبکہ 15 ہزار دیگر زخمی ہوگئے۔ اس کے علاوہ ریاستی پولیس کے دو اہلکار ہلاک جبکہ سیکورٹی فورسز بشمول ریاستی پولیس کے قریب پانچ ہزار اہلکار زخمی ہوگئے۔

سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کی احتجاجی مظاہرین کے خلاف کاروائیوں کا سب سے المناک پہلو یہ رہا کہ سینکڑوں افراد بالخصوص نوجوان ایسے ہیں جو چھرے (پیلٹ) لگنے سے اپنی ایک یا دونوں آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوگئے ہیں۔ پیلٹ گن یا چھرے والی بندوق کے شکار اِن شہریوں میں ایسے کمسن لڑکے اور لڑکیاں بھی شامل ہیں، جن کی عمر پانچ سے دس برس کے درمیان ہے۔ پیلٹ گن کے شکار ہونے والے یہ نوجوان اور بچے اب اپنے مستقبل کے بارے میں انتہائی مایوسی کا شکار ہیں۔ وادی میں برہان وانی کی ہلاکت کے بعد موبائیل فون اور انٹرنیٹ خدمات بھی معطل کردی گئی ۔ جہاں موبائیل فون سروس اکتوبر کے وسط میں بحال کی گئی ، وہیں موبائیل انٹرنیٹ خدمات 18 نومبر کو بحال کی گئیں۔ میرواعظ مولوی عمر فاروق کی قیادت والی حریت کانفرنس کے شعبہ حقوق انسانی کا دعویٰ ہے کہ وادی میں 2017 ء کی ایجی ٹیشن کے دوران پیلٹ لگنے سے 1200 سے زائد افراد کی ایک آنکھ بے کار ہو گئی جن میں نوجوان ،بچے ، بڑے بزرگ اور خواتین شامل ہیں ۔40 افراد کی دونوں آنکھوں کی بینائی پیلٹ لگنے کی وجہ سے متاثر ہوئی ۔ کشیدگی کے دوران کئی ایک مرتبہ سرکاری مواصلاتی کمپنی بی ایس این ایل اور نجی انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرز کی خدمات معطل کی گئیں جس کے باعث کشمیر کی صورتحال پر مبنی خبروں کی ترسیل اور اخباروں کی اشاعت پر انتہائی منفی اثر ات مرتب ہوئے۔

کشیدگی کے پہلے مہینے یعنی جولائی میں حکومت کی جانب سے اخباروں کی اشاعت پر عائد کردہ غیراعلانیہ پابندی کے سبب وادی میں بیشتر اخباروں کی اشاعت مسلسل پانچ دنوں تک بند رہی ۔ برہان وانی کی ہلاکت کے ساتھ ہی کشمیر انتظامیہ نے سری نگر کے پائین شہر میں واقع 622 برس قدیم تاریخی جامع مسجد کو سخت محاصرے میں لیکر اس کے باب الداخلے مقفل کردیے۔ انیس ہفتوں تک مقفل اور سیکورٹی فورسز کے محاصرے میں رہنے کے بعد کشمیری عوام کی اس سب سے بڑی عبادت گاہ میں قریب پانچ ماہ بعد 25 نومبر کو جمعہ کی نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی۔ مورخین کے مطابق 1842 ء کے بعد ایسا پہلی مرتبہ ہوا کہ جب کسی حکومت نے سری نگر کی تاریخی جامع مسجد کو مسلسل ساڑھے چار ماہ تک مقفل رکھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز