ضمنی انتخابات 2017 نتائج : 10 میں سے 5 سیٹوں پر بی جے پی کامیاب ، تین سیٹوں پر کانگریس جیتی

Apr 13, 2017 05:04 PM IST | Updated on: Apr 13, 2017 06:01 PM IST

نئی دہلی: آٹھ ریاستوں کی 10 اسمبلی سیٹوں پر ہوئے ضمنی انتخابات میں سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اب تک پانچ سیٹوں پر جیت حاصل کر لی ہے۔ کانگریس کو تین سیٹیں ملی ہیں  ۔ علاوہ ازیں مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس ، جھارکھنڈ میں جے ایم ایم نے جیت درج کی ۔ تاہم اس مرتبہ دہلی میں عام آدمی پارٹی کو بڑا جھٹکا لگا ، کیونکہ اس کے امیدوار تیسرے نمبر پر رہے ۔

یوپی اسمبلی انتخابات میں جیت حاصل کرنے والی بی جے پی نے ان ضمنی انتخابات میں بھی اپنی جیت کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ہماچل پردیش کی بھورانج، مدھیہ پردیش کی باندھوگڑھ، آسام کی دھیماجی ، دہلی کی راجوری گارڈن سیٹ اور راجستھان کی دھول پور سیٹ پر کامیابی حاصل کی ہے ۔ کرناٹک میں حکمراں کانگریس نے دونوں سیٹوں پر جیت درج کی ، مدھیہ پردیش کی اٹیر سیٹ پر بھی کانگریس نے جیت حاصل کی  اور جھارکھنڈ میں جھارکھنڈ مکتی مورچہ لٹی پاڑا سیٹ پر جیت حاصل کرنے میں کامیاب رہی ۔

ضمنی انتخابات 2017 نتائج : 10 میں سے 5 سیٹوں پر بی جے پی کامیاب ، تین سیٹوں پر کانگریس جیتی

دہلی کی تینوں کارپوریشنوں کے 23 اپریل کو ہونے والے انتخابات سے پہلے اروند کیجریوال کی عام آدمی پارٹی کو آج زبردست جھٹکا لگا۔ راجوری گارڈن اسمبلی ضمنی انتخابات میں بی جے پی۔اکالی اتحاد کے منجندر سنگھ سرسا نے کانگریس کی میناکشی چندیلا کو 14652 ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ عام آدمی پارٹی کے امیدوار ہرجیت سنگھ 10243 ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبرپر رہے۔

کارپوریشن انتخابات سے عین 10 دن قبل آئے ضمنی انتخابات کے نتائج عام آدمی پارٹی کے لئے مایوس کن ہیں۔ سال 2015 میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں صحافی سے سیاست میں آئے جرنیل سنگھ نے مسٹر سرسا کو 10036 ووٹوں سے شکست دی تھی۔ پنجاب اسمبلی کے حالیہ انتخابات میں سابق وزیر اعلی پرکاش سنگھ بادل کے خلاف الیکشن لڑنے کے لئے جرنیل سنگھ نے یہاں سے استعفی دے دیا تھا۔

آسام کی دھیماجی اسمبلی سیٹ پر ہوئے ضمنی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے امیدوار رنجن پیگو نے نو ہزار ووٹوں سے جیت درج کی۔ بی جے پی امیدوار کو 75ہزار217 ووٹ ملے جبکہ ان کے قریب ترین حریف کانگریس کے امیدوار بابولال سونووال کو 65 ہزار932 ووٹ ملے۔ بی جے پی ممبر اسمبلی پردھان باروہ کے لوک سبھا کے لئے منتخب ہونے کے بعدیہ نشست کے خالی ہونے پر ضمنی انتخابات ہوئے تھے۔ مسٹر سروانند سونووال کے آسام کا وزیر اعلی بننے کے بعد انہوں نے اپنی لوک سبھا سیٹ سے استعفی دے دیا تھا جس کے بعد باروہ اس سیٹ سے رکن پارلیمان منتخب ہوئے تھے۔

ہماچل پردیش کی بھورنج اسمبلی سیٹ پر ہوئے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کے امیدوار انل دھیمان نے 8290 ووٹوں سے جیت درج کی۔مسٹر دھیمان کو 24ہزار434 ووٹ ملے جبکہ ان کے قریب ترین حریف کانگریس کے امیدوار پرومیلا کو 21ہزار614 ووٹ ملے جبکہ بی جے پی کے باغی لیڈر اور آزاد امیدوار پون کمار کو 4ہزر630 ووٹ ملے۔ سابق وزیر تعلیم کے دھیمان کے گزشتہ برس انتقال کے بعد بی جے پی نے ان کے بیٹے انل دھیمان کو اس سیٹ پر اپنا امیدوار بنایا تھا۔

کرناٹک کی دو اسمبلی سیٹوں ننجن گڈ اور گنڈلوپیٹ میں ہوئے ضمنی انتخابات میں حکمراں کانگریس نے آج جیت درج کرکے ان دونوں سیٹوں کو اپنے پاس برقرار رکھا۔ ننجن گڈ اسمبلی سیٹ پر کانگریس امیدوار کلالے کیشومورتی نے سابق وزیر اور بی جے پی امیدوار وی سرینواس پرساد کو 21ہزار334 ووٹوں سے شکست دی جبکہ گنڈلوپیٹ سیٹ پر کانگریس امیدوار گیتا مادھو پرساد نے اپنے قریب ترین حریف بی جے پی کے امیدوار نرنجن کمار کو 10ہزار887 ووٹوں سے شکست دی۔

ننجن گڈ ریزرو سیٹ سابق کانگریس ایم ایل اے اور ریونیو وزیر سرینواس پرساد کے استعفی کے بعد خالی ہوئی تھی جس کے بعد اس پر ضمنی انتخاب کرایا گیا۔ انہوں نے اس بار بی جے پی کے ٹکٹ پر پھر الیکشن لڑ ا۔ حکمران کانگریس نے اس سیٹ پرکیشومورتی کو میدان میں اتارا۔ گنڈلوپیٹ سیٹ پر کانگریس ممبر اسمبلی اور وزیر ایچ ایل مہادیو پرساد کے دو جنوری کو ہوئے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔ کانگریس نے آنجہانی مہادیو کی بیوی گیتا کو انتخابی میدان میں اتارا ہے جہاں ان کا مقابلہ بی جے پی کے سی ایس نرنجن کمار سے ہے۔

مغربی بنگال کی کانٹھی جنوبی اسمبلی سیٹ پر ہوئے ضمنی انتخابات میں حکمراں ترنمول کانگریس کی امیدوار چندریما بھٹاچاریہ نے 42 ہزار سے زیادہ ووٹوں کے فرق سے جیت درج کی۔ الیکشن افسر نے یہاں بتایا کہ محترمہ بھٹاچاریہ نے اپنے قریبی حریف بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے امیدوار سریندر موہن جن کو 42ہزار526 ووٹوں کے بڑے فرق سے شکست دی۔ محترمہ بھٹاچاریہ کو 95ہزار369 ووٹ ملے جبکہ بی جے پی کو 52ہزار843 ووٹ ملے، جودیگراپوزیشن جماعت ہندستانی کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی) اور کانگریس کے امیدواروں سے کہیں زیادہ ہیں۔ سی پی آئی کے امیدوار اتم پردھان 17ہزار423 ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔ کانٹھی جنوبی سیٹ پر دوسرے نمبر پر آکر بی جے پی نے سب کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ سال 2016 میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں پارٹی کو محض 16 ہزار ووٹ ملے تھے۔ یہ سیٹ پہلے بھی ترنمول کانگریس کے پاس ہی تھی جو ممبر اسمبلی دبیندو ادھیکاری کے تملک سے ممبر پارلیمنٹ منتخب ہونے کے بعد خالی ہوئی تھی۔

راجستھان میں دھول پور اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی محترمہ شوبھارانی نے کامیابی حاصل کرلی ہے۔ الیکشن افسر منیش فوجدار نے بتایا کہ بی جے پی امیدوار شوبھا رانی کشواہا نے اپنے قریب ترین حریف کانگریس کے بنواری لال شرما کو 36 ہزار 673 ووٹوں سے شکست دی۔ بی جے پی کی محترمہ کشواہا کو 91 ہزار 548 ووٹ ملے جبکہ کانگریس کے مسٹر شرما کو 54 ہزار 875 ووٹ ملے۔ انہوں نے بتایا کہ باقی تمام امیدواروں کی ضمانت ضبط ہو گئی ہے۔ اس سیٹ پر 952 ووٹروں نے نوٹا کا استعمال کیا ۔ خیال رہے کہ قتل کے معاملے میں بہوجن سماج پارٹی کے ممبر اسمبلی بی ایل کشواہا کو قید کی سزا سنائے جانے کے بعد یہ سیٹ خالی ہوئی تھی۔ اس سیٹ پر بھارتیہ جنتا پارٹی نے کشواہا کی بیوی کو ہی اپنا امیدوار بنایا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز