ضمنی انتخابات 2017 : سری نگر میں ووٹنگ کے دوران فائرنگ میں 3 ہلاک ، کئی زخمی

Apr 09, 2017 11:54 AM IST | Updated on: Apr 09, 2017 01:17 PM IST

نئی دہلی : ملک کے 9 ریاستوں میں ایک لوک سبھا اور 10 اسمبلی کے ضمنی انتخابات کے لئے اتوار کو ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ دریں اثنا جموں و کشمیر میں ووٹنگ کے دوران کئی علاقوں میں تشدد کی خبر ہے۔ بڈگام میں کچھ جگہوں پر سیکورٹی فورسز پر لوگوں نے پتھر بازی اور فائرنگ کی گئی، جس میں 3 لوگوں کی موت ہوگئی جبکہ متعدد دیگر  زخمی ہوگئے ۔ اس کے علاوہ گاندربل میں بھی پتھراؤ کی خبر ہے۔ ادھر مدھیہ پردیش کے اٹیر اسمبلی سیٹ پر ہو رہے ضمنی انتخاب کے دوران بی جے پی کے حامیوں پر بوتھ قبضہ کی کوشش کا الزام لگا ہے۔ چوکی پر پتھراؤ کی بھی خبر ہے۔ واقعہ ساكري گاؤں ہے۔ موقع پر فسادیوں نے نصف درجن گاڑیوں میں توڑ پھوڑ بھی کی ۔ تاہم سیکورٹی فورسز نے حالات پر قابو پا لیا ۔

جن 10 اسمبلی سیٹوں پر ووٹنگ ہو رہی ہے، ان میں دہلی کی راجوری گارڈن، مدھیہ پردیش کی اٹیر اور باندھوگڑھ، کرناٹک کی ننجن گڈ اور گنڈلوپیٹ، آسام کی دھیماجي، ہماچل پردیش کی دھورنج، مغربی بنگال کی كاٹھي جنوبی، راجستھان کی دھول پور اور جھارکھنڈ کی لٹيپارا سیٹ شامل ہیں ۔ ووٹوں کی گنتی 13 اپریل کو ہوگی۔

ضمنی انتخابات 2017 : سری نگر میں ووٹنگ کے دوران فائرنگ میں 3 ہلاک ، کئی زخمی

سری نگر لوک سبھا سیٹ کے لئے ووٹنگ

جموں و کشمیر میں سری نگر لوک سبھا سیٹ کے ضمنی الیکشن کیلئے آج سخت حفاظتی بندوبست کے درمیان ووٹنگ شروع ہوگئی۔ اس حلقے کے بیشتر پولنگ مراکز خاص کر گاندربل اور بڈگام اضلاع میں کئی رائے دہندگان پہلی بار اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ ووٹنگ صبح سات بجے شروع ہوئی جو شام پانچ بجے تک چلے گی۔ اس الیکشن میں نو امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں جن میں ریاست کے سابق وزیر اعلی اور اپوزیشن نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے نظیر احمد کے مابین سخت مقابلہ ہے۔ واضح رہے کہ سری نگر لوک سبھا سیٹ پی ڈی پی کے لیڈر طارق حمید کارا کے استعفی کے سبب خالی ہوئی تھی۔

مدھیہ پردیش کی دو اسمبلی سیٹوں پر پولنگ

مدھیہ پردیش کی دو اسمبلی سیٹوں بھنڈ ضلع کی اٹیر اور اومریا ضلع کی باندھوگڑھ (ریزرو) سیٹ پر ضمنی انتخاب کے لئے آج صبح سات بجے پرامن طریقے سے پولنگ شروع ہو گئی۔ ان ضمنی انتخابات میں ریاست میں پہلی بار ووٹر ووٹر ویریفائڈ پیپر (وی وی پی اے ٹی) مشین استعمال کی جارہی ہے۔ اٹیر میں اہم مقابلہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اروند بھدوریا اور کانگریس کے ہیمنت کٹارے کے درمیان ہے۔ باندھوگڑھ میں بی جے پی کے شیونارائن سنگھ اور کانگریس کی ساوتری سنگھ کے مابین ہے۔ ان کے علاوہ اٹیر میں مجموعی طور پر 21 اور باندھوگڑھ میں پانچ امیدواراپنی قسمت آزمارہے ہیں۔ پولنگ شام 5 بجے تک چلے گی۔ دونوں مقامات پر پولنگ کے لئے سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں۔ اٹیر میں مقامی پولیس فورس کے علاوہ مرکزی پولیس فورس (سی اے پی ایف) کی 10 کمپنی تعینات کی گئی ہیں۔ باندھوگڑھ میں دو کمپنی سیکورٹی کا محاذ سنبھالے ہوئے ہے۔

اٹیر میں کل 288 اور باندھوگڑھ میں 264 پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں۔ اٹیر کے تمام 288 اور باندھوگڑھ کے 46 پولنگ مرکز حساس زمرے کے ہیں۔ اٹیر میں ووٹروں کی مجموعی تعداد دو لاکھ 11 ہزار 588 اور باندھوگڑھ میں دو لاکھ ایک ہزار 200 ہے۔ اٹیر اور باندھوگڑھ میں 1270 الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) استعمال کی جارہی ہیں۔ ان میں 909 اٹیر میں اور 361 وی ایم باندھوگڑھ ضمنی انتخابات میں لگی ہیں۔ اٹیر میں 554 اور باندھوگڑھ میں 356 کنٹرول یونٹ لگائی گئی ہیں۔ مجموعی طور پر 830وی وی پی اے ٹی مشین کا استعمال ہو رہا ہے، جس میں اٹیر میں 435 اور باندھوگڑھ میں 395 مشین ہیں۔ اس عمل کے ذریعے ووٹر اس بات کا یقین کر سکیں گے کہ انہوں نے جو ووٹ دیا ہے، وہ صحیح ہے۔

راجستھان میں دھولپور اسمبلی سیٹ کے ووٹنگ

دھولپورراجستھان میں دھولپور اسمبلی سیٹ پر ہو رہے ضمنی الیکشن کیلئے سخت سیکورٹی بندوبست کے دوران آج صبح سات بجے ووٹنگ شروع ہوگئی۔ ضلع انتظامیہ نے ووٹنگ کیلئے نیم فوجی دستہ اور پولیس آر اے سی کی کُل 6 ٹکڑیوں کو سیکورٹی بندوبست کیلئے تعینات کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ بہوجن سماج پارٹی کے ایم ایل اے بی ایل کشواہا کو قتل کے معاملے میں عمرقید کی سزا ہونے پر اس کی رکنیت ختم ہونے کے سبب یہ سیٹ خالی ہوئی ہے۔

آسام میں دھیما جی سیٹ پر ووٹنگ

آسام کی دھیما جی اسمبلی سیٹ کے ضمنی الیکشن کیلئے آج صبح سات بجے ووٹنگ شروع ہوگئی۔ اس اسمبلی حلقے میں دو لاکھ 19 ہزار سے زیادہ ووٹر ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایم ایل اے پردھان بروا کے لکھیم پور لوک سبھا سیٹ سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہونے کے بعد ان کے استعفی کے سبب خالی ہوئی دھیما جی سیٹ پر ضمنی الیکشن کرایا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ مسٹرسروانند سونووال نے وزیر اعلی کا عہدہ سنبھالنے کے بعد لکھیم پور لوک سبھا سیٹ سے استعفی دے دیا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز