سی اے جی کا سنسنی خیز انکشاف ، کھلے كوڑےدانوں کے درمیان گندے پانی سے بنتا ہے ٹرین میں ملنے والا کھانا

Jul 21, 2017 09:28 PM IST | Updated on: Jul 22, 2017 08:59 AM IST

نئی دہلی : ہندوستانی ریلوے میں زیادہ کرایہ ادا کرنے کے باوجود مسافروں کی مشکلیں کم ہوتی نظر نہیں آ رہی ہیں۔ بہتر سہولیات کے لئے زیادہ سے زیادہ ریل کرایہ ادا کرنے والے مسافروں کو ریل کی بد سے بدتر حالت سے ہر روز دو چار ہونا پڑ رہا ہے۔ اس بات کی تصدیق کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی رپورٹ نے بھی کر دی ہے۔ پارلیمنٹ میں پیش کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی رپورٹ کے مطابق ہندوستانی ریلوے میں دیا جانے والا کھانا انسانوں کے کھانے کے لائق نہیں ہے۔

سی اے جی نے ریلوے میں مسافروں کے کھانے پینے کو لے کر بڑے سوالات کھڑے کئے ہیں۔آڈٹ میں پایا گیا ہے کہ ریلوے کی فوڈ پالیسی میں لگاتار تبدیلی کی وجہ سے مسافروں کو بہت زیادہ پریشانیاں ہو رہی ہیں۔ لہذا ریلوے کی فوڈ پالیسی مسافروں کے لئے ہمیشہ ایک سوال برقرار رہتی ہے۔سی اے جی کی رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ حفظان صحت کو برقرار رکھنے کے لئے صاف ستھری چیزوں کا استعمال نہیں کیا جاتا ہے۔

سی اے جی کا سنسنی خیز انکشاف ، کھلے كوڑےدانوں کے درمیان گندے پانی سے بنتا ہے ٹرین میں ملنے والا کھانا

کھانے پینے کی تیاری کے دوران صفائی کا مناسب خیال نہیں رکھا جاتا ہے۔ اس سے ریلوے کی خود طے کی گئی صفائی سے متعلق پالیسیوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ کھانا یا دیگر اشیاء لینے کے بعد کسٹمر کو بل بھی نہیں دیا جاتا ہے۔

ریلوے اور سی اے جی کی مشترکہ ٹیم نے منتخبہ 74 اسٹیشنوں اور 80 ٹرینوں میں معائنہ کیا ۔ اس دوران آڈیٹر نے پایا کہ کھانا بنانے اور سروے کرنے کے لئے حفظان صحت کا بالکل بھی خیال نہیں رکھا جاتا۔کھانا بنانے کے لئے غلیظ پانی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ وہیں ڈسٹبن ڈھکا ہوا نہیں پایا گیا اور مکمل طور پر صاف بھی نہیں ہوتا ہے۔ کھانے کو مکھی، کیڑے مکوڑے، چوہے اور ككروچ سے بچانے کے لئے کوئی پختہ بندوبست بھی نہیں ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز