بابری مسجد انہدام کیس: سی بی آئی کا اڈوانی اور جوشی کے خلاف مجرمانہ سازش کا معاملہ پھر سے شروع کرنے کا مطالبہ

جسٹس پناکی چندر گھوش اور جسٹس روہنگٹن فابی نریمن کی ٹیم نے تمام متعلقہ فریقوں کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔

Apr 06, 2017 08:22 PM IST | Updated on: Apr 06, 2017 08:23 PM IST

نئی دہلی : مرکزی جانچ بیورو (سی بی آئی) نے اجودھیا میں بابری مسجد گرائے جانے کے معاملہ میں بی جے پی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی ، مرلی منوہر جوشی اور دیگر کے خلاف مجرمانہ سازش رچنے کا معاملہ پھر سے شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔ جسٹس پناکی چندر گھوش اور جسٹس روہنگٹن فابی نریمن کی ٹیم نے تمام متعلقہ فریقوں کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔ قبل ازیں سی بی آئی نے مسٹر اڈوانی ، اوما بھارتی ، کلیان سنگھ اور دیگر کے خلاف دوبارہ سماعت شروع کرنے کی درخواست کی۔

سی بی آئی نے بنچ سے کہا کہ مسٹر اڈوانی اور 12 دیگر لیڈر بابری مسجد گرانے کی سازش میں ملوث تھے۔ سی بی آئی کی طر ف سے پیش وکیل نیرج کشن کول نے دلیل دی کہ بابری مسجد انہدام کے سلسلہ کا ہی ایک کیس رائے بریلی کی عدالت میں بھی چل رہا ہے،جس کی سماعت لکھنؤ کی خصوصی عدالت میں مشترکہ طور پر ہونی چاہئے۔ لکھنؤ کی اس عدالت میں کارسیوکوں کے تعلق سے ایک کیس کی سماعت چل رہی ہے۔

بابری مسجد انہدام کیس: سی بی آئی کا اڈوانی اور جوشی کے خلاف مجرمانہ سازش کا معاملہ پھر سے شروع کرنے کا مطالبہ

جانچ ایجنسی نے کہا کہ الہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کو رد کردینا چاہئے جس میں اس نے مجرمانہ سازش کے الزام کو ہٹادیا تھا۔ دراصل 2010 میں الہ آباد ہائی کورٹ نےمجرمانہ سازش کے الزام کو درست ٹھہرایا تھا مگر رائے بریلی کی عدالت نے تکنیکی بنیاد پر ان لیڈروں کے خلاف مجرمانہ سازش کا کیس چلانے کےفیصلہ کو رد کردیا تھا۔ پچھلے ماہ عدالت نے بابری مسجد انہدام معاملہ کی سماعت دو ہفتہ کےلئے ملتوی کردی تھی اور مسٹر اڈوانی سمیت 13 لیڈروں سے اس معاملہ میں حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دیا تھا۔

مسٹر اڈوانی کے وکیل نے سپریم کورٹ میں دلیل دی کہ اگر مجرمانہ سازش کا مقدمہ پھر سے چلایاگیا تو ان 183 گواہوں کو دوبارہ بلانا ہوگا جن کی ذیلی عدالت میں گواہی ہوچکی ہے۔ رائے بریلی کی عدالت میں 57 گواہوں کے بیان درج کئے جاچکے ہیں اور ابھی 100 سے زیادہ لوگوں کے بیان درج کرنے باقی ہیں۔ لکھنؤ کی عدالت میں 195 گواہوں کی پیشی ہوچکی ہے جبکہ 300 سے زیادہ گواہوں کے بیان درج کئے جانے ہیں۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز