علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پہنچی سی بی آئی کی ٹیم ، تاہم کسی کو نہیں پتہ کس چیز کی ہورہی ہے جانچ

Jul 14, 2017 01:14 PM IST | Updated on: Jul 14, 2017 01:14 PM IST

علی گڑھ : علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ماضی میں ہوئی بے ضابطگیوں کی جانچ کرنے ان دنوں سی بی آئی کی دو رکنی ٹیم کیمپس میں موجود ہے ۔ سی بی آئی کی موجودگی سے جہاں کچھ حلقوں میں خوشی ہے وہیں یونیورسٹی انتظامیہ کچھ بھی واضح کرنے سے بچ رہی ہے ۔ اے ایم یو میں ملازمتوں کے ساتھ ہی فنڈ کو خرد برد کرنے جیسے الزامات ماضی میں لگتے رہے ہیں۔

وائس چانسلرنسیم احمد کا زمانہ ہو یا پروفیسر پی کے عبدالعزیز سے لے کر لیفٹیننٹ جنرل ضمیرالدین شاہ ، سبھی کے دور میں یونیورسٹی میں بے ضابطگیوں کی خبریں عام ہوئیں اور شکایتیں مرکزی جانچ ایجنسی سی بی آئی تک پہنچی۔ حالیہ سی بی آئی جانچ کے سلسلہ میں کہا جارہا ہے کہ وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کی شکایت پر یہ انکوائری ہورہی ہے ۔ ذرائع کے مطابق 2006 میں جوائنٹ فائنانس افسر شکیب ارسلان اور ڈپٹی فائنانس افسر مسعود الرحمن کی تقرری میں ہوئی ضابطگیوں کے سلسلہ میں دو رکنی ٹیم علی گڑھ میں موجود ہے۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پہنچی سی بی آئی کی ٹیم ، تاہم کسی کو نہیں پتہ کس چیز کی ہورہی ہے جانچ

اے ایم یو ٹیچرس ایسوسی ایشن کے سکریٹری مصطفی زیدی کہا کہنا ہے کہ زیادہ تر وائس چانسلر کے دور میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں ، جس کی جانچ کا مطالبہ بھی کیا گیا ۔ ہم نے بھی کئی شکایتیں کیں، جس کے ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں ۔ حالیہ سی بی آئی جانچ کے بابت کچھ معلوم نہیں ہے اور نہ ہی ان لوگوں نے ہم سے رابطہ کیا ہے ، لیکن یہ صحیح ہے کہ جانچ ہورہی ہے ۔

سی بی آئی ٹیم کی کیمپس میں موجودگی کی بات کو تسلیم کرتے ہوئے یونیورسٹی میڈیا صلاح کار جسیم محمد نے بتایا کہ ٹیم کیمپس میں موجود ہے ۔ ہم نے یونیورسٹی ایڈمنسٹریٹو بلاک میں ان کو ایک کمرہ دیا ہوا ہے، جہاں ٹیم کے ممبران اپنا کام کررہے ہیں ۔ وہ یونیورسٹی انتظامیہ سے جو بھی مدد طلب کررہے ہیں ، وہ انہیں دی جارہی ہے ۔ وہ کس معاملہ میں جانچ کررہے ہیں یہ ابھی واضح نہیں ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز