اکھلیش کی بڑھ سکتی ہیں مشکلیں، یوگی 2012 سے ہونے والی تقرریوں کی انکوائری كرائیں گے

Jul 19, 2017 09:19 PM IST | Updated on: Jul 19, 2017 09:19 PM IST

لکھنؤ۔  اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے ریاستی پبلک سروس کمیشن کی 2012 سے ہونے والی اب تک کی تقرریوں کی تحقیقات مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے کرانے کا آج اعلان کیا ہے۔ مسٹر یوگی نے اسمبلی میں بجٹ پر ہونے والی بحث کے دوران ایوان میں کہا کہ اتر پردیش پبلک سروس کمیشن کی تقرریوں میں وسیع پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے۔ لہذا 2012 سے اب تک ہونے والی تقرریوں کی تحقیقات مرکزی تفتیشی بیورو سے کرائی جائے گی۔ جانچ ہوگی، کارروائی ہوگی۔ ہریانہ کے ایک وزیر اعلی تقرریوں میں دھاندلی کے الزام میں ہی دس سال سے جیل میں سڑ رہے ہیں۔

غور طلب ہے کہ 15 مارچ 2012 کو وزیر اعلی کی حیثیت سے سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے صدر اکھلیش یادو نے حلف برداری لیا تھا۔ ان کی حکومت پانچ سال چلی۔ ان کی حکومت کے دور میں کمیشن کی تقرریوں پر کئی بار سوال کھڑے ہوئے۔ الہ آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک کو دخل دینا پڑا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے نوجوانوں کا حق مرنے نہیں دیں گے۔ تقرریوں میں سپریم کورٹ نے روک لگا رکھی تھی۔ تقرریوں کے کاغذات میں آگ بھی لگا دیئے گئے۔ اب ایسا نہیں ہو گا۔ جانچ ہوگی اور مجرم بخشے نہیں جائیں گے۔ مسٹر یوگی ایک گھنٹہ 36 منٹ کی اپنی تقریر میں کافی جارحانہ نظر آئے۔ انہوں نے ایس پی پر تیز حملے کئے ۔ان کا کہنا تھا کہ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کےقانون ساز پارٹی کے لیڈر لال جی ورما کہہ رہے تھے کہ فائلیں جلائی گئیں۔ واقعی بھرتی میں یہی ہوا۔ پولیس بھرتی میں وسیع پیمانے پردھاندلی کی گئی۔ تین سال میں ڈیڑھ لاکھ پولیس اہلکاروں کی بھرتی کی جائے گی۔ اسی سال 33 ہزار کریں گے جس میں تین ہزار سب انسپکٹر اور 30 ​​ہزار سپاہیوں کی بھرتی ہوگی۔ بھرتی مکمل طور پر شفاف ہوگی۔

اکھلیش کی بڑھ سکتی ہیں مشکلیں، یوگی 2012 سے ہونے والی تقرریوں کی انکوائری كرائیں گے

file photo

وزیر اعلی نے کہا کہ دس برسوں میں جتنی بھی تقرری ہوئی سب پر انگلی اٹھی کیونکہ، تقرری کروانے والوں کی نیت صاف نہیں تھی۔ نوجوانوں کو ان کے حق سے محروم کیا گیا۔ حزب مخالف اور سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر رام گووند چودھری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’آپ لوگ غیر مالی امداد والے اسکول کے اساتذہ کو اكسا كر انتشار پھیلاتے ہیں ۔ استاتذہ بھرتی نہیں ہوئے تو اس کے لئے مجرم آپ ہیں۔ میری حکومت نہیں۔ مجھے آئے تو اب چار ماہ ہی ہوئے ہیں۔ ان کے ذریعے آپ لوگ افراتفری پھیلا رہے ہیں‘‘۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اگر مالی مدد دے گی تو اسکول کو قومیانہ ہوگا۔ اس کا انتظام نظام کے خود مختاری میں مداخلت ہے۔ آپ لوگ اساتذہ کو کیوں فقیر بنا رہے ہیں۔ ان کی حکومت تو نوجوانوں کو اپنی مدد آپ کرنے ولا بنانا چاہتی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز