"روہنگیائی مسلمانوں کو ایک ماہ میں جموں سے نہیں نکالا گیا ، تو ہم ان پر تشدد کریں گے"

جموں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز نے دھمکی دی ہے کہ اگر جموں میں مقیم روہنگیائی مسلمانوں کو ایک ماہ کے اندر شہر بدر نہیں کیا گیا تو وہ ان کے خلاف تشدد پر اتر آئیں گے۔

Apr 07, 2017 06:38 PM IST | Updated on: Apr 07, 2017 06:38 PM IST

جموں : جموں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز نے دھمکی دی ہے کہ اگر جموں میں مقیم روہنگیائی مسلمانوں کو ایک ماہ کے اندر شہر بدر نہیں کیا گیا تو وہ ان کے خلاف تشدد پر اتر آئیں گے۔ سی سی آئی جموں کے صدر راکیش گپتا نے جمعہ کو یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہم روہنگیائی اور بنگلہ دیشی شہریوں کو جموں سے نکالنے کے لئے ریاستی اور مرکزی سرکار کو ایک مہینے کا وقت دیتے ہیں۔ اورہمارا یہ بھی مطالبہ ہے کہ جن کی زمین پر یہ لوگ رہائش پذیر ہیں، پر پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کا اطلاق کیا جائے‘۔ انہوں نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ’اگر حکومتیں ایسا کرنے میں ناکام ہوئیں تو چیمبر اس روہنگیائی کیمونٹی کے خلاف تشدد شروع کرے گی‘۔

چیمبر کے صدر نے جموں میں مقیم روہنگیائی کیمونٹی پر منشیات کی اسمگلنگ کا الزام لگاتے ہوئے ریاست کے لئے بڑھتا ہوا خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا ’ان لوگوں کو یہاں رہائش پذیر ہونے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ، کیونکہ یہ دہشت گردوں کی حمایت بھی کرسکتے ہیں‘۔ مسٹر گپتا نے کہا ’ان (روہنگیائی مسلمانوں) کو ریاست سے باہر نکالنے کا مطالبہ سب سے پہلے ہم نے ہی کیا تھا۔ عوام کے مفادات کو تحفظ فراہم کرنا ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی دفعہ 370 کے مطابق یہ روہنگیائی شہری یہاں رہائش اختیار نہیں کرسکتے ہیں۔

فائل فوٹو

انہوں نے کہا ’ہمیں دفعہ 370 کی حفاظت کرنی ہے‘۔ مسٹر گپتا نے کہا ’ہم اس سیاسی بحث میں الجھنا نہیں چاہتے کہ ان لوگوں کو کس نے یہاں بسایا۔ لیکن جن لوگوں نے ایسا کیا ہے، کی شناخت ہونی چاہیے اوران کے خلاف کاروائی کی جانی چاہیے‘۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور پنتھرس پارٹی پہلے سے ہی ان روہنگیائی مسلمانوں کی جموں میں موجودگی کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ خیال رہے کہ مرکزی وزارت داخلہ نے بھی ان روہنگیائی شہریوں کو جموں بدر کرنے کے طریقوں پر غور کرنا شروع کردیا ہے۔

داخلہ سکریٹری راجیو مہرشی کی جانب سے 3 اپریل کو نئی دہلی میں بلائی گئی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں روہنگیائی مسلمانوں کو جموں بدر کرنے کا معاملہ زیر بحث آیا تھا۔ میٹنگ میں ریاستی چیف سکریٹری بی آر شرما اور پولیس سربراہ ڈاکٹر ایس پی وید نے بھی شرکت کی تھی ۔

Loading...

جموں میں اگرچہ مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے قریب تین لاکھ رفیوجی بھی رہائش پذیر ہیں، تاہم بی جے پی اور پنتھرس پارٹی انہیں ہر ایک سہولیت فراہم کئے جانے کے حق میں ہیں۔ جموں میں گذشتہ ماہ (مارچ) کے تیسرے ہفتے میں کچھ روہنگیائی مسلمانوں کے قبضے سے مبینہ طور پر آدھار کارڈ برآمد ہوئے تھے جس کے بعد ریاستی حکومت نے شہر میں مقیم روہنگیائی رفوجیوں اور بنگلہ دیشی شہریوں کے پاس موجود دستاویزات کی جانچ پڑتال کا عمل شروع کردیا تھا۔

حکومتی اعداد وشمار کے مطابق جموں کے مختلف حصوں میں مقیم بنگلہ دیش اور میانمار کے تارکین وطن کی تعداد 13 ہزار 400 ہے۔ ایڈوکیٹ ہنر گپتا جو کہ بی جے پی کی لیگل سیل کے ممبر بھی ہیں، نے ریاستی ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی ایک عرضی دائر کر رکھی ہے جس میں عدالت سے جموں میں مقیم برما کے روہنگیائی تارکین وطن اور بنگلہ دیشی شہریوں کی شناخت کرکے انہیں جموں بدر کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

عرضی گذار نے الزام لگایا ہے کہ بنگلہ دیش اور میانمار سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی جموں میں موجودگی سے ریاست میں علیحدگی حامی اورہند مخالف سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔ ہنر گپتا نے دائر کردہ مفاد عامہ کی عرضی میں عدالت سے یہ کہتے ہوئے میانمار اور بنگلہ دیش کے تارکین وطن کو جموں وکشمیر سے کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کی استدعا کی ہے کہ ریاست یا اقوام متحدہ نے جموں وکشمیر کے کسی بھی جگہ کو رفیوجی کیمپ قرار نہیں دیا ہے۔

انہوں نے عرضی میں میانمار اور بنگلہ دیش کے تارکین وطن کو ریاستی خزانے سے فراہم کئے جانے والے فوائد کو روکنے کی عدالت سے ہدایات کی بھی استدعا کی ہے۔ مفاد عامہ کی عرضی میں بنگلہ دیش اور میانمار کے تارکین وطن کی تعداد میں گذشتہ چند برسوں کے دوران ہونے والے اچانک اضافے پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ مفاد عامہ کی عرضی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بنگلہ دیش اور میانمار کے تارکین وطن کی موجودگی سے ریاست میں علیحدگی حامی اور بھارت مخالف سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔ خیال رہے کہ فروری کے اوائل میں جموں شہر میں چند ہورڈنگز نمودار ہوئیں جن کے ذریعے پنتھرس پارٹی کے لیڈروں نے روہنگیائی اور بنگلہ دیشی مسلمانوں کو جموں چھوڑنے کے لئے کہا تھا۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز