پونچھ میں پاکستان نے کی جنگ بندی کی خلاف ورزی ، 10 سالہ افراز احمد اور 15 سالہ شمیمہ اخترکی موت

Oct 02, 2017 12:48 PM IST | Updated on: Oct 02, 2017 01:45 PM IST

جموں : جموں وکشمیر کے ضلع پونچھ میں پاکستان کے ساتھ لگنے والی لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کچھ دنوں کی خاموشی کے بعد ایک بار پھر شدید گولہ باری سے لرز اٹھی ہے۔ گولہ باری کے نتیجے میں سرحد کے اس پار ایک دس سالہ لڑکا اور ایک 15 سالہ لڑکی ہلاک جبکہ 11 دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔ سرحد پار فائرنگ کے نتیجے میں ایک فوجی گاڑی کو بھی نقصان پہنچا ہے، تاہم کسی فوجی اہلکار کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ جموں وکشمیر پولیس نے اپنے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ میں کہا ’پاکستان کی طرف سے پونچھ کے کیرنی اور ڈگوار سیکٹروں میں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی۔ پاکستانی فائرنگ کے نتیجے میں کیرنی میں ایک دس سالہ لڑکا جاں بحق ہوا ہے۔ سرحد پار سے ہونے والی فائرنگ کا جواب دیا جارہا ہے‘۔ پولیس نے ایک ٹویٹ میں کہا ’پاکستان کی طرف سے صبح 10 بجکر 25 منٹ پر ڈگوارمیں ایک بار پھر فائرنگ کی گئی۔ اس کے نتیجے میں ایک 15 سالہ لڑکی کی موقع پر ہی موت واقع ہوئی جبکہ 4 دیگر زخمی ہوگئے۔ زخمیوں اور مہلوکین کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے‘۔ پاکستانی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے 10 سالہ کمسن لڑکے کی شناخت افراز احمد ولد عبدالرشید ساکنہ ناکہ قصبہ کیرنی اور 15 سالہ لڑکی کی شناخت شمیمہ اختر دختر محمد صادق ساکنہ ڈگوار کے بطور کی گئی ہے۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ زخمیوں کی تعداد 11 ہے جن میں سے شدید طور پر زخمی ہونے والے تین افراد کو جموں کے میڈیکل کالج و اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انسانی جانوں کا یہ نقصان سرحد پار سے داغے گئے مارٹر شیل کیرنی اور ڈگوار کے آبادی والے علاقوں میں گرنے سے ہوا ہے۔ زخمیوں میں ایک خاتون اور اس کا لڑکا بھی شامل ہے جن کی شناخت 55 سالہ ریشماں بی شاکر الدین اور 31 سالہ محمد رفیق ساکنہ کیرنی کے بطور کی گئی ہے۔ دفاعی ذرائع نے بتایا ’پاکستان کی طرف سے گذشتہ نصف شب کو کیرنی اور ڈگوار سیکٹروں میں بھارتی فوج کی اگلی چوکیوں اور سرحدی علاقوں پر چھوٹے و ہلکے ہتھیار سے فائرنگ کے علاوہ مارٹر گولے داغنے کا سلسلہ شروع ہوا‘۔ انہوں نے بتایا کہ سرحد پار سے ہونے والی بلااشتعال فائرنگ کا موثر اور منہ توڑ جواب دیا جارہا ہے۔

پونچھ میں پاکستان نے کی جنگ بندی کی خلاف ورزی ، 10 سالہ افراز احمد اور 15 سالہ شمیمہ اخترکی موت

ذرائع نے بتایا کہ سرحد پار سے پھینکے گئے کچھ شیل کیرنی نامی گاؤں میں گر گئے جس کے نتیجے میں انسانی جانوں کو نقصان پہنچا۔ اس دوران ریاستی نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ نے پاکستان کی طرف سے بلااشتعال فائرنگ کو بزدلانہ حرکت قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ’پاکستان ایک دہشت گرد ریاست ہے۔ ایک طرف یہ (پاکستان) سفید پرچم دکھارہا ہے، لیکن دوسری جانب سرحد پر آبادی والے علاقوں کو نشانہ بناتا ہے‘۔ ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ سرحدوں پر تعینات فوجی اہلکار پاکستان کی بلااشتعال فائرنگ کا منہ توڑ جواب دے رہے ہیں۔

جموں وکشمیر میں پاکستان کے ساتھ لگنے والی سرحدوں پر گذشتہ قریب دو ماہ سے کشیدگی کا ماحول بنا ہوا ہے۔ اس دوران دونوں اطراف کئی انسانی جانوں کا اتلاف ہوا۔ اس کے علاوہ مال مویشیوں کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔ جموں کے آر ایس پورہ اور رام گڑھ سیکٹر میں 22 اور 23 ستمبر کی درمیانی رات کو پاکستان کی فائرنگ کے نتیجے میں 3 عام شہری اور سرحدی حفاظتی فورس (بی ایس ایف) کے 2 جواں زخمی ہوگئے۔ پاکستان کی طرف سے 22 ستمبر کو ارنیہ، آر ایس پورہ اور رام گڑھ میں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی جس کے نتیجے میں میں 4 عام شہری زخمی، 6 مویشی ہلاک جبکہ 34 دیگر زخمی ہوگئے۔ فائرنگ سے 2 رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا ۔ دوسری طرف پاکستان نے اسی دن دعویٰ کیا کہ سیالکوٹ میں ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے کم از کم 6 عام شہری ہلاک جبکہ 26 دیگر زخمی ہوگئے ۔

ارنیہ سیکٹر میں 21 کو پاکستانی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں 3 عام شہری زخمی، 2 رہائشی مکانوں کو نقصان، 3 مویشی ہلاک جبکہ 6 دیگر زخمی ہوگئے ۔ 20 ستمبر کو شمالی کشمیر کے کیرن سیکٹر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر سرحد پار سے ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں فوج کا ایک جوان جاں بحق ہوگیا۔ مہلوک فوجی کی شناخت سپاہی راجیش کھٹاری کے بطور کی گئی۔ جموں کے ارنیا سیکٹر میں بین الاقوامی سرحد پر 16 اور 17 ستمبر کی درمیانی رات کو پاکستانی رینجرز کی فائرنگ سے ایک معمر خاتون ہلاک جبکہ پانچ دیگر عام شہری زخمی ہوگئے ۔ یہ بات یہاں قابل ذکر ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سنہ 2003 میں سرحدوں پر جنگ بندی کا معاہدہ ہوا۔ اس کے بعد سے دونوں ممالک ایک دوسرے پر اس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے آئے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز