مدارس کے طلبہ کو انجینئرنگ اور میڈیکل امتحانات کی تیاری کرانے پر غور

مرکزی حکومت مدارس کے 'باصلاحیت طلبہ کو انجینئرنگ اور میڈیکل کالج میں داخلہ امتحانات کی تیاری کرانے کی ایک تجویز پر غور کر رہی ہے۔

Aug 20, 2017 09:22 PM IST | Updated on: Aug 20, 2017 09:22 PM IST

نئی د ہلی : مرکزی حکومت مدارس کے 'باصلاحیت طلبہ کو انجینئرنگ اور میڈیکل کالج میں داخلہ امتحانات کی تیاری کرانے کی ایک تجویز پر غور کر رہی ہے۔ تاہم اس سلسلہ میں فی الحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔ مدرسہ تعلیم کو مین اسٹریم سے جوڑنے کے لئے مرکزی حکومت کی جانب سے قائم ماہر ین کی کمیٹی نے وزارت اقلیتی امور کے ماتحت چلنے والے ایم اے ای ایف کے سامنے یہ تجویز پیش کی ہے۔

ایم آئی ایف کے ایک سینئر افسر نے نیوز ایجنسی بھاشا کو بتایا کہ 'کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں یہ تجویر پیش کی ہے کہ مدارس کے طلبہ کو انجینئرنگ اور میڈیکل کالج داخلہ امتحانات کی تیاری کے لئے مختلف ریاستوں میں سینٹر بنائے جائیں۔ اس معاملہ پر وزارت اور ایم اے ای ایف کی سطح پر غور کیا جارہا ہے، لیکن ابھی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ اس بارے میں حتمی فیصلہ اگلے چند ہفتوں میں کیا جا سکتا ہے۔ وزارت اقلیتی امور نے مدرسہ تعلیم کو مرکزی دھارے میں شامل کرنے کیلئے گزشتہ سال دسمبر میں سات رکنی ماہر ین کی ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اس کمیٹی نے گزشتہ مارچ مہینے میں حکومت کو اپنی رپورٹ سونپ دی تھی۔

مدارس کے طلبہ کو انجینئرنگ اور میڈیکل امتحانات کی تیاری کرانے پر غور

ماہر ین کی کمیٹی کے کنوینر سید بابر اشرف کو امید ہے کہ کمیٹی کی اس تجویز کو حکومت کی ہری جھنڈی مل جائے گی اور ایک یا دو ماہ کے اندر اندر اس پر کام بھی شروع ہو جائے گا۔ بابر اشرف نے کہا کہ ہم نے اپنی رپورٹ میں یہ کہا ہے کہ ہر ریاست میں کم از کم ایک یا دو ایسے مراکز بنائے جائیں ، جہاں مدارس میں پڑھنے والے باصلاحیت طلبہ کو انجینئرنگ اور میڈیکل کالج داخلہ امتحانات کی تیاری کرائی جا سکے۔ ہم نے یہ بھی کہا ہے کہ انفراسٹرکچر سماجی تنظیموں کا ہو اور حکومت کی سطح پر مالی مدد دی جائے اور نگرانی کا بندوبست کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ایم اے ای ایف اور وزارت کا رخ اس معاملہ پر مثبت رہا ہے۔ امید کرتے ہیں کہ اسے جلد منظوری مل جائے گی۔ ہم چاہتے ہیں کہ ستمبر یا اکتوبر میں اس پر کام شروع ہو جائے۔ سید بابر اشرفنے کہا کہ ' اس پوری کارروائی میں مدارس کے منتظمین اور مسلم معاشرے کی مکمل مدد لی جائے گی ۔ کیونکہ ہم کسی بھی صورت میں مذہبی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ پیدا نہیں کرنا چاہتے۔ ہماری کوشش صرف یہ ہے کہ بچوں کو مرکزی دھارے میں آنے اور ایک اچھا کیریئر بنانے کا موقع ملے۔

Loading...

اپنی رپورٹ کی تیاری کے دوران، کمیٹی نے مدارس کا دورہ کیا اور مدرسہ منتظمین سے گفتگو کی۔ سید بابر اشرفنے کہا کہ حکومت کی منظوری حاصل کرنے کے بعد اتر پردیش سے اس قدم کو شروع کرنے کے لئے کوششیں کی جائیں گی۔ اس کے بعد ملک کے تمام حصوں میں اس طرح کے مراکز بنائے جائیں گے۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز