رامجس کالج میں تشدد کے سلسلہ میں مودی حکومت نے طلب کی رپورٹ ، تین پولیس اہلکار معطل ، طلبہ کا احتجاج

انسانی وسائل کی ترقی کے مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر نے آج یہاں نامہ نگاروں کے سوالات کے جواب میں کہا، ’میں نے یونیورسٹی سے رپورٹ طلب کی ہے

Feb 23, 2017 08:36 PM IST | Updated on: Feb 23, 2017 08:39 PM IST

نئی دہلی: دہلی کے رامجس کالج میں دو تنظیموں کے طالب علموں کے مابین تشدد کے معاملے میں پولیس کی طرف سے کارروائی نہ کئے جانے کے الزامات کے درمیان مرکزی حکومت نے دہلی یونیورسٹی سے رپورٹ طلب کی ہے۔ انسانی وسائل کی ترقی کے مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر نے آج یہاں نامہ نگاروں کے سوالات کے جواب میں کہا، ’میں نے یونیورسٹی سے رپورٹ طلب کی ہے۔‘

اس سے قبل مسٹر جاوڈیکر نے ایک دیگر پروگرام میں کہا تھا کہ گزشتہ دنوں طالب علموں کے درمیان ہوئی جھڑپ کے معاملے میں حکومت کوئی مداخلت نہیں کرے گی۔ مسٹر جاوڈیکر نے اعلی تعلیم ایسوچیم کی طرف سے منعقد کانفرنس کے افتتاح کے بعد صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں کہا کہ دہلی یونیورسٹی ایک خود مختار ادارہ ہے اور حکومت خود مختار اداروں کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتی۔ یہ پولیس کا کام ہے جو اپنا کام کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ اس معاملے میں کوئی ٹیوٹر یا طالب علم نے شکایت بھی نہیں کی۔

رامجس کالج میں تشدد کے سلسلہ میں مودی حکومت نے طلب کی رپورٹ ، تین پولیس اہلکار معطل ، طلبہ کا احتجاج

واضح رہے کہ رامجس کالج کے ایک پروگرام میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلبہ رہنماؤں عمر خالد اور شہلا راشد کو بلائے جانے کو لے کر طالب علموں کی دو تنظیموں میں تنازعہ ہو گیا تھا جس نے بعد میں تشدد کی شکل اختیار کرلی تھی۔ مارکسی کمیونسٹ پارٹی، سوراج مہم کی نوجوان یونٹ یوتھ فار سوراج اور عام آدمی پارٹی نے اس معاملے میں پولیس پر کارروائی نہ کرنے کا الزام لگایا ہے۔ اكیڈمكس فار ایکشن اینڈ ڈولپمنٹ نے بھی تشدد کی مذمت کی ہے۔

دریں اثنا پرتشدد جھڑپ کے دوران طلبہ اور میڈیا کے خلاف مبینہ زیادتیوں کے الزام میں آج تین پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا۔ الزام ہے کہ ان پولیس اہلکاروں نے کالج کیمپس میں ایک انعقاد کو لے کر اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد(اے بی وی پی) اور آئسا کے کارکنوں کے درمیان ہوئی مارپیٹ کو روکنے کی کوشش نہیں کی، بلکہ اے بی وی پی کے حملہ آور طالب علموں کا ساتھ دیا تھا۔ اس معاملے میں مرکز نے بھی دہلی یونیورسٹی سے رپورٹ طلب کی ہے۔

Loading...

ملزم پولیس اہلکاروں کی معطلی کے احکامات آنے کے پہلے آئسا کے طالب علموں نے ملزم پولیس اہلکاروں اور حملہ آور اے بی وی پی کے طالب علموں کے خلاف کارروائی کی مانگ کو لے کر آج پولیس ہیڈکوارٹر کے باہر احتجاج کیا تھا اور اس معاملے میں پولیس ڈپٹی کمشنر امولیہ پٹنائک کو ایک میمورینڈم بھی سونپا تھا۔ طالب علم چاہتے تھے کہ اس معاملے میں اے بی وی پی اور ملزم پولیس اہلکاروں کے خلاف مختلف ایف آئی آر درج کی جائیں۔ تاہم پولیس نے اس سے انکار کرتے ہوئے معاملہ کرائم برانچ کے سپرد کر دیا۔ کرائم برانچ کے خصوصی کمشنر ایس بي كے سنگھ نے طالب علموں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ تشدد کے واقعہ کے بارے میں اپنی کوئی بھی شکایت کرائم برانچ کے پولیس ڈپٹی کمشنر کے سامنے براہ راست درج کرا سکتے ہیں۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز