جامعہ اسلامیہ سنابل میں تقسیم اسناد : جو حافظ قرآن بن سکتاہے وہ کچھ بھی بن سکتاہے : ڈاکٹر فردوس وانی

Aug 13, 2017 08:26 PM IST | Updated on: Aug 13, 2017 08:26 PM IST

نئی دہلی: آپ کو سند کی شکل میں جو کاغذکا ٹکرا دیاجارہاہے یہ سند فراغت نہیں بلکہ سند مشغولیت ہے،آپ کو قوم وملت کی قیادت کی ذمہ داری سونپی جارہی ہے ، اس کی بابت آپ سے آخرت میں سوال ہوگا،قوم وملت کی نگاہیں آپ پر ٹکی ہوئی ہیں،منبر ومحراب آپ کے منتظر ہیں،اساتذہ اورذمہ داران ادارہ کے آپ پر عظیم احسانات ہیں،اس لئے ان کو آپ کبھی نہ بھولیں، آپ سے اپیل ہے کہ آپ نیک نامی کا سبب بنیں،جو کچھ آپ نے حاصل کیا ہے اس کی روشنی میںامن وآشتی کا انقلاب کھڑا کرسکتے ہیں۔اس لئے آپ کو اسلامی تعلیمات کا صحیح ترجمان بننا ہوگا اورقوم وملت کی قیادت کی ذمہ داری سے عہدہ برا ہونا ازحد ضروری ہوگاآپ کے سامنے ادارہ کے بانی مولانا عبدالحمید رحمانی رحمہ اللہ کی شخصیت بھی ہونی چاہئے جو اپنے طالب علمی کے زمانہ میں صرف ایک کرتہ اور پاجامہ پر اکتفا کرتے تھے،کرتا پہن کر پاجامہ دھوتے اور پاجامہ پہن کر کرتااور خرچ کے لئے ان کے پاس ایک آدھ آنے بھی نہیں ہوا کرتے تھے۔

ان خیالات کا اظہار جامعہ اسلامیہ سنابل میں منعقد ہونے والے فارغین فضلاء وحفاظ کے مابین تقسیم اسناد کے پروگرام میں صدارت کے فرائض انجام دے رہے مولانا محمد رحمانی سنابلی ،مدنی نے اپنے صدارتی خطاب کے دوران کیا۔واضح رہے کہ یہ پروگرام جامعہ اسلامیہ سنابل سے فارغ ہونے والے علماء اورمعہد عثمان بن عفان لتحفیظ وتجوید القرآن الکریم جوگابائی سے حفظ کی تکمیل کرنے والے طلبہ کے اعزاز میں ہرسال منعقد ہوتاہے۔اس مرتبہ فضلاء کی تعداد ۵۰ جب کہ حفاظ کی تعداد کل۴۲ تھی۔پروگرام کا آغاز اسامہ وصی اللہ کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔اس کے بعدمحمد سہیل فضل الرحمن نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا۔پھرسعد بدرالزماں،عبدالماجد منیرحسین اورمحمد اسامہ محمد انیس نے بالترتیب عربی،اردو اورانگریزی زبان میں فارغین کی طرف سے تاثرات پیش کئے۔

جامعہ اسلامیہ سنابل میں تقسیم اسناد : جو حافظ قرآن بن سکتاہے وہ کچھ بھی بن سکتاہے :  ڈاکٹر فردوس وانی

اس موقع پرصدر مرکز کے ہاتھوں جامعہ ہمدرد کے سابق رجسٹراروڈین اسکول آف لاء جناب ڈاکٹر فردوس وانی صاحب کی خدمت میں مومنٹو پیش کیاگیا ۔مہمان محترم نے طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ آپ جو تعلیم حاصل کررہے ہیں یہ اِس دنیا اوراُس دنیا کے درمیان پل کاکام کرتی ہے ۔ہماری موجودہ صورت حال فٹ بال میچ کے گیند کی طرح ہے جو باہر سے بہت ہی خوبصورت لیکن اندر سے کھوکھلا ہوتا ہے ۔اس لئے ہم ہر میدان میں پٹ رہے ہیں،آپ نے مزیدفرمایاکہ جو حافظ قرآن بن سکتاہے وہ کچھ بھی بن سکتاہے، ضرورت ہے کہ ہم تعلیم ،کرداروعمل کے ذریعہ اپنی حیثیت کو بہتر بنائیں اورکھویا ہوا وقاردوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

اس کے بعد محمد ذکی (ایشیا والے) نے خطاب کرتے ہوئے تین بنیادی باتوں کی طرف طلبہ کی توجہ مبذول کرائی ۔آپ اپنی زندگی اسلامی تعلیمات کی روشنی میں گزاریں،اصلاح معاشرہ کی عظیم ذمہ داری آپ پر عائد ہوتی ہے ،دین آپ کے پاس امانت ہے اس کو دوسروں تک پہنچانا آپ کی ذمہ داری ہے ۔ اس کے بعد جناب اسرار احمد بٹلہ صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات انتہائی سنگین ہیں ،وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ملک وقوم کی خدمت خوب اچھی طرح کریں اورشب وروز خود احتسابی کی عادت ڈالیں۔ مولانانورالہدی سنابلی ،مدنی صاحب نے طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ آپ تمام ذرائع ابلاغ کا مثبت طور پر استعمال کریں اورفارغین جامعہ نے جو کچھ سیکھا ہے اس کو دوسروں تک پہنچائیں،والدین اوراساتذۂ کرام کو نیک دعاؤںمیں یادکرتے رہیں ۔

jamia sanabil (1)

اس موقع سے حافظ شکیل احمد میرٹھی نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملت اسلامیہ کو چیلنجز کا سامنا ہے،امت کی نگاہیں آپ پر لگی ہوئی ہیں،اس لئے ضروری ہے کہ آپ جہاں بھی رہیں اسلامی تشخص کو باقی رکھیں اورمنبرومحراب سے اپنا رشتہ استوار رکھیں۔اس کے بعد مولانا صلاح الدین مقبول احمدمدنی صاحب نے طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ آپ عملی میدان میںاحساس کمتری میں ہرگز نہ مبتلا ہوں،اپنے آپ کو اسوہ بنانے کی کوشش کریں،اپنی روایت کو برقراررکھیں،حلال وحرام کی تمیز کے ساتھ اللہ پر توکل کرتے ہوئے زندگی گزارنے کی کوشش کریں۔

اس کے بعد سنٹر کے خازن محمد یحیی نے کہا کہ آج ہماری جو تصویر دنیا کے سامنے دکھائی جارہی ہے وہ انتہائی گھناؤنی ہے ،اس لئے ہمیں خلوص و للہیت کے ساتھ اورمادّہ پرستی سے بچتے ہوئے دین کی بھرپور خدمت اوراس خراب تصویر کو صاف کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ نیز سنٹر کے جنرل سکریٹری مولانا عاشق علی اثری نے فارغ ہونے والے طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے قرآن کا پہلا سبق جو پڑھنے سے متعلق ہے اس کی یاد دہانی کرائی اورکہا کہ اللہ سے ہر حال میں اپنا رشتہ مضبوط رکھیں،صلاۃ کی پابندی کریں اوراپنے اندر نرمی وشفقت پیداکریں ،کرداروعمل اورقول وگفتار سے لوگوںکو اپنا گرویدہ بنائیں،کتاب وسنت پر مبنی باتوںپر عمل کرنے کی کوشش کریں،اخیر میں جامعہ اسلامیہ سنابل کے پرنسپل مولانا نثاراحمد مدنی نے تمام حاضرین کی خدمت میں کلمۂ تشکرپیش کیا۔اس موقع پر جامعہ اسلامیہ سنابل اورمعہد عثمان بن عفان کے اساتذہ وطلبہ کے علاوہ مشہور علمی شخصیات بھی موجود تھیں۔پروگرام کی نظامت مولانا عبدالبر سنابلی ،مدنی نے کی اورذکی صاحب( ایشا والے) کی جانب سے فارغین جامعہ کو بطور ہدیہ ہینڈ بیگ بھی پیش کیا گیا۔

jamia sanabil (2)

واضح رہے کہ عائشہ صدیقہ شریعت کالج سے فارغ التحصیل طالبات کے چھٹے بیچ کے تقسیم اسناد کا پروگرام سنٹر کے جنرل سکریٹری مولانا عاشق علی اثری کے زیر صدارت صبح ۱۰؍بجے کالج کے بیسمنٹ میں تشبیہ نزہت طالبہ تمہیدیہ کی تلاوت کلام اللہ سے ہوا، اس موقع پر شاہین فاروق طالبہ ثانیہ عالیہ نے اپنی ساتھی طالبات کے ساتھ عائشہ کالج کا اردو ترانہ ، آمنہ لیاقت طالبہ ثانیہ عالیہ نے خطبۂ استقبالیہ ، ذکری ابوالمکرم نے عربی، فاطمہ رئیس الدین نے اردو اور ماجدہ عبدالرؤف نے انگریزی زبان میں فارغ التحصیل طالبات کی نمائندگی کرتے ہوئے تاثرات پیش کئے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز