نیا انکشاف ، یوپی اسمبلی میں برآمد پاوڈر پی ای ٹی این نہیں ، پالش میں استعمال ہونے والا کوارٹز پاؤڈر تھا

Aug 06, 2017 06:25 PM IST | Updated on: Aug 06, 2017 06:25 PM IST

لکھنؤ: اترپردیش اسمبلی میں گزشتہ 12 جولائی کو ملنے والا پاؤڈر طاقتور دھماکہ خیز مواد پنٹائري تھريٹال ٹیٹراناٹریٹ ( پی ای ٹی این) کی بجائے کوارٹز پاؤڈر نکلا۔ ایوان چلنے کے دوران ملمے والے پاؤڈر پی ای ٹی این بتائے جانے پر انتظامیہ کے ہوش اڑ گئے تھے۔ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے اسے دہشت گردانہ سازش تک بتا دیا تھا۔ آنا فانا میں اسمبلی عمارت کی حفاظت میں كمانڈو تعینات کر دیئے گئے تھے۔ کافی تعداد میں پاس منسوخ کر دیئے گئے تھے۔

پولیس کے اعلی سطحی ذرائع کے مطابق انسداد دہشت گرد ی اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے پاؤڈر کو جانچ کے لیے سی ایف ایس ایل حیدرآباد بھیجا تھا، جہاں سے قومی جانچ ایجنسی (این آئی اے) کو بھیجی رپورٹ میں پاؤڈر پی ای ٹی این کے بجائے کوارٹز بتایا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد کی لیب نے رپورٹ مرکزی تفتیشی ایجنسی کو بھیج دی ہے۔ ریاستی پولیس کو بھی یہ جلد دستیاب ہوجائے گی۔

نیا انکشاف ، یوپی اسمبلی میں برآمد پاوڈر پی ای ٹی این نہیں ، پالش میں استعمال ہونے والا کوارٹز پاؤڈر تھا

اس سے پہلے، گزشتہ 12 جولائی کو پاؤڈر ملنے پر لکھنؤ کی سرکاری لیب نے پاؤڈر طاقتور دھماکہ خیز مواد پی ای ٹی این بتا دیا تھا۔ وزیر اعلی نے تحقیقاتی رپورٹ آنے پر 14 جولائی کو اس کی جانچ این آئی اے کے حوالے کا اعلان ایوان میں ہی کر دیاتھا۔ دھماکہ خیز مواد بتائے جانے کی وجہ سے سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے ممبر اسمبلی اور سابق وزیر منوج پانڈے انکوائری کاری کی ایجنسیوں کے راڈار پر آگئے تھے کیونکہ پاؤڈر انہی کی سیٹ کے کشن کے نیچے ملا تھا۔

ماہرین کے مطابق کوارٹز پاؤڈر عام طور پر سيمنٹ کی مضبوطی، وال کوٹنگ، گلاس مینوفیکچرنگ وغیرہ کے کام میں آتا ہے۔ مارکیٹ میں یہ 16 روپے سے 28 روپے فی کلو گرام کے درمیان ملتا ہے۔ اسے ’سليكان اكسايڈ‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ ذرائع نے لکھنؤ کی لیب کے حکام کے خلاف کارروائی کے امکان سے انکار نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حتمی رپورٹ آنےسے پہلے اس سلسلے میں کچھ بھی عام نہیں کیا جانا چاہئے تھا، لیکن جلدبازی میں پاؤڈر کو طاقتور دھماکہ خیز بتا کر سنسی پھیلائي گئی۔ اس میں کارروائی ہو سکتی ہے۔

گزشتہ 14 جولائی کو ایوان میں حکومت نے اسمبلی اسپیکر ہردے نارائن دکشت کی ہدایت پر دھماکہ خیز مواد ملنے کی جانچ این آئی اے سے کرانے کا اعلان کیا تھا۔ مسٹر دکشت نے ہدایت دی تھی کہ معاملہ نہایت سنگین ہے اس لئے اس کی جانچ این آئی اے سے ہونی چاہئے۔ اس سے پہلے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے دھماکہ خیز مواد سے ملنے کو مہلک دہشت گرد سازش کا حصہ قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ حفاظت کو چیلنج کرتا ہے۔ دہشت گرد سازش کا حصہ ہے۔ اس لئے اس کی جانچ این آئی اے سے ہونی ہی چاہیے۔ این آئی اے کے حکام نے اسمبلی کا معائنہ بھی کیا تھا۔ اس معاملے میں ایک ایف آئی آر حضرت گنج تھانے میں درج کرائی گئی تھی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز