وزیر اعظم مودی نے ہندوستان کی سب سے بڑی روڈ ٹنل کو قوم کے نام کیا وقف

Apr 02, 2017 05:37 PM IST | Updated on: Apr 02, 2017 05:38 PM IST

چنانی (ادھم پور) ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کی سہ پہر کو جموں خطہ کے ضلع ادھم پورہ میں کشمیر شاہراہ پر بنائی گئی بھارت کی سب سے بڑی روڑ ٹنل کو قوم کے نام وقف کیا۔ یہ ایشیا کی سب سے بڑی دو طرفہ ٹنل ہونے کا اعزاز بھی رکھتی ہے۔ کشمیر شاہراہ پر ضلع ادھم پورہ کو ضلع رام بن سے جوڑنے والی یہ 9 اعشاریہ 2 کلو میٹر طویل ’چنانی ناشری ٹنل‘ فن تعمیر اور جدید ٹیکنالوجی کی ایک عظیم شاہکار ہے۔ چنانی میں اس ٹنل کو وزیراعظم مودی کی جانب سے قوم کے نام وقف کئے جانے کے موقعے پر سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہوں کے مرکزی وزیر نتن گڈکری، ریاستی گورنر این این ووہرا، وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی، وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر مملکت و مقامی ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر جتیندر سنگھ اور ریاستی نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ بھی موجود تھے۔ وزیر اعظم مودی نے ٹنل کے افتتاح کے بعد اس کی تعمیر کے ساتھ منسلک رہنے والے انجینئروں کے ساتھ گروپ فوٹو بنوائی جنہوں نے مسٹر مودی کے حق میں نعرے لگائے۔ وزیراعظم نے بعد ازاں مسٹر ووہرا اور محترمہ مفتی کے ساتھ کھلی چھت والی جپسی میں بیٹھ کر ٹنل کے راستے سے اس کے دوسرے سرے ’ناشری‘ اور واپسی میں چنانی تک سفر کیا۔ انہوں نے سفر کے دوران ٹنل کے فن تعمیر کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔

وزیر اعظم کے دورے کے لئے ادھم پورہ اور رام اضلاع میں سیکورٹی کے فقیدالمثال انتظامات کئے گئے تھے جبکہ سرحدوں اور سرحدی علاقوں میں تعینات فوج اور سیکورٹی فورسز کو الرٹ رکھا گیا تھا۔ دو ٹیوبوں والی یہ ہمہ موسمی اور دوسمتی ٹنل 286 کلو میٹر طویل سری نگر۔ جموں قومی شاہراہ کو چار گلیاروں والی سڑک بنانے کے پروجیکٹ کا حصہ ہے۔ ہمالیائی پہاڑی سلسلہ پر قریب 4 ہزار فٹ بلندی پر بنائی گئی اس ٹنل کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی بدولت 44 کلو میٹر کا سفر سمٹ کر ساڑھے دس کلو میٹر رہ گیا ہے جبکہ شاہراہ پر سفر کرنے والے ہر مسافر کے دو گھنٹے بچ جائیں گے۔ اس کے علاوہ ہر روز 27 لاکھ روپے کے ایندھن کی بچت ہوگی۔ تاہم وقت کی بچت کے لئے اس ٹنل کا راستہ اختیار کرنے والے مسافر چند خوبصورت و دلچسپ مقامات بشمول کدھ (جوکہ لذیذ مٹھائیوں کے لئے مشہور ہے) ، پٹنی ٹاپ(جو کہ قدرتی خوبصورتی کے لئے مشہور ہے) اور بٹوٹ (جو کہ اونچی اونچی پہاڑیوں کے لئے مشہور ہے)کا نظارہ نہیں کرپائیں گے۔اس ٹنل کی بدولت وادی کے دس اضلاع اور خطہ لداخ کے دو اضلاع کو بالعمول اور جموں خطہ کے پہاڑی اضلاع رام بن، ڈوڈہ، بھدرواہ اور کشتواڑ کو بالخصوص بہتر روڑ کنک ٹیوٹی فراہم ہوگی۔

وزیر اعظم مودی نے ہندوستان کی سب سے بڑی روڈ ٹنل کو قوم کے نام کیا وقف

انفراسٹرکچر لیزنگ اینڈ فائنانشل سروسز لمیٹڈ نامی کمپنی نے اس ٹنل کو بنانے کا کام 23 مئی 2011 میں شروع کرکے ریکارڈ ساڑھے پانچ برسوں میں مکمل کیا۔ اس ٹنل کی تعمیر پر 3720 کروڑ روپے کا خرچہ آیا ہے۔ اس ٹنل کو گزشتہ ماہ (مارچ) کی 9 سے 15 تاریخ تک گاڑیوں کی ٹرائل رن کے لئے کھلا رکھا گیا تھا۔ چنانی ناشری ٹنل جو کہ انجینئرنگ کا ایک عظیم شاہکار ہے، عالمی معیار کے ’مربوط ٹنل کنٹرول سسٹم‘ سے لیس بھارت کی پہلی ٹنل ہے۔ اس کی بدولت ٹنل کے اندر وینٹی لیشن، فائر کنٹرول، سگنلز، کیمونی کیشن اور بجلی کا نظام از خود چالو ہوجاتا ہے۔ چنانی ناشری ٹنل کے اندر کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو ٹالنے کے لئے اس کے انٹری پوائنٹس پر سکینرس نصب کئے گئے ہیں۔ اس ٹنل کے دونوں ٹیوب ایک دوسرے کے متوازی بنائے گئے ہیں۔ دونوں ٹیوبوں کی چوڑائی کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جہاں 13 میٹر پر محیط ایک حصے کو ٹریفک کی نقل وحرکت کے لئے رکھا گیا ہے، وہیں 6 میٹر والے حصے کو ایمرجنسی کی صورت میں استعمال کئے لئے ریزرو رکھا گیا ہے۔ چنانی ناشری بھارت کی واحد اور دنیا کی چھٹی ایسی روڑ ٹنل ہے جو قاطع (ٹرانسورس) وینٹی لیشن کے نظام سے لیس ہے۔ ٹرانسورس وینٹی لیشن کی بدولت گاڑیوں سے خارج ہونے والے دھواں کی ٹنل کے اندر موجودگی کے بہت کم امکانات ہیں۔ اس نظام کی بدولت ٹنل کے راستے سے سفر کرنے والے مسافر گھوٹن سے محفوظ رہیں گے اور ٹنل کے اندر اچھی روشنی برقرار رہے گی۔ 2 اعشاریہ 85 کلو میٹر طویل جواہر ٹنل کے برخلاف چنانی ناشری ٹنل میں موبائیل فون بھی کال کرنے کے لئے استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ مواصلاتی کمپنیوں جیسے بی ایس این ایل، ائرٹیل اور آئیڈیا نے ٹنل کے اندر اپنی سگنل دستیاب کردی ہے۔ اس کے علاوہ نجی 92.7 ایف ایم نے بھی اپنی سگنل دستیاب کردی ہے۔ ٹنل کے دونوں ٹیوب صد فیصد واٹر پروف ہیں۔

modi-jammu

ٹنل کے اندر گاڑیوں کی نقل وحرکت کو مانیٹر کرنے کے لئے ہر 75 میٹر کے بعد سی سی ٹی وی کیمرہ نصب کیا گیا ہے۔ ٹنل کے اندر مجموعی طور پر 124 سی سی ٹی وی کیمرے نصب کردیے گئے ہیں۔ معقول روشنی کے لئے ٹنل کو چوبیسوں گھنٹے چلنے والی تھری ٹائیر لائٹنگ سسٹم سے لیس کیا گیا ہے۔ ٹنل کے اندر ہر 150 میٹر کے بعد ایس او ایس بوکس نصب کئے گئے ہیں جن کو مسافر کسی مشکل کی صورت میں ایمرجنسی ہاٹلائنز کی صورت میں استعمال کریں گے۔ مدد کی ضرورت پڑنے پر مسافروں کو اس ایس او ایس بوکس کا دروازہ کھول کر ’ہیلو‘ کہنا پڑے گا جس کے بعد اُس شخص کی آئی ٹی سی آر سیکشن میں بات ہوجائے گی۔ ان ایس او ایس بوکسوں میں فرسٹ ایڈ سہولیت کے علاوہ کچھ اہم ادویات بھی موجود رکھی گئی ہیں۔ سانس لینے میں تکلیف یا دوسری کسی تکلیف کی صورت میں ایس او ایس بوکس کے ذریعے آئی ٹی سی آر سے رابطہ قائم کرنے پر ایمبولینس یا کرین ٹنل کے ریزریو راستے سے فوری طور پر مدد کے لئے پہنچ جائے گی۔ پانچ یا پانچ میٹر سے کم لمبائی والی گاڑیوں کو ٹنل سے گذرنے کی اجازت ہوگی۔ گاڑیوں کی لمبائی چیک کرنے کے لئے ٹنل کے داخلی پوائنٹس پر خصوصی سنسرس نصب کئے گئے ہیں۔ تاہم اس ٹنل کا راستہ اختیار کرنے والی چھوٹی گاڑیوں کو یکطرفہ سفر کے لئے 55 روپے جبکہ دوطرفہ سفر کے لئے 85 روپے ادا کرنا پڑیں گے۔ اس ٹنل سے بار بار سفر اختیار کرنے والی گاڑیوں کے لئے 1870 روپے بطور ماہانہ ٹول ٹیکس کا آپشن رکھا گیا ہے۔

بڑی گاڑیوں جیسے منی بسوں کو یکطرفہ سفر کے لئے 90 روپے جبکہ دوطرفہ سفر کے لئے 135 روپے ادا کرنا پڑیں گے۔ ٹنل میں گاڑیوں کی حد رفتار 50 کلو میٹر فی گھنٹہ مقرر کی گئی ہے۔ بھاری گاڑیوں جیسے بسوں اور ٹرکوں کو یکطرفہ سفر کے لئے 190 روپے جبکہ دوطرفہ سفر کے لئے 285 روپے ادا کرنا پڑیں گے۔ قابل ذکر ہے کہ دنیا کی سب سے طویل 24 اعشاریہ 51 کلو میٹر طویل روڑ ٹنل ناروے میں ہے۔ چنانی ناشری کے علاوہ کشمیر شاہراہ پر ساڑھے آٹھ کلو میٹر طویل بانہال قاضی گنڈ روڑ ٹنل پر کام جاری ہے جس کو 2018 میں مکمل کیا جائے گا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز