شرح پیدائش میں کمی کے باوجود 7 برسوں میں ہندوستان بن جائے گا دنیا کی سب سے بڑی آبادی والا ملک

Jul 09, 2017 02:28 PM IST | Updated on: Jul 09, 2017 02:31 PM IST

نئی دہلی : ملک میں خاندانی منصوبہ بندی کی زبردست کوششوں سے شرح پیدائش میں کمی کے باوجود محض سات برسوں میں ہندوستان چین کو شکست دےکر دنیا کی سب سے بڑی آبادی والا ملک بن جائے گا۔ دنیا کے یوم آبادی 11 جولائی کے موقع پر اقوام متحدہ کی طرف سے جاری تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2024 میں ہندوستان آبادی کے لحاظ سے چین سے آگے نکل جائے گا۔ چین کی موجودہ آبادی ایک ارب 40 کروڑ ہے جبکہ ہندوستان کی ایک ارب 30 کروڑ ہے۔

بڑھتی آبادی کے خطرات کو بھانپتے ہوئے ہی اس بار دنیا کے یوم آبادی کا موضوع ’’خاندانی منصوبہ بندی: لوگوں کو بااختیار بنانے اور ممالک کی ترقی‘‘ رکھا گیا ہے۔ یوم آبادی کے ساتھ ہی خاندانی منصوبہ بندی پر ایک بڑی عالمی کانفرنس بھی منعقد کی جا رہی ہے جس کے تحت 2020 تک دنیا بھر میں اور 12 کروڑ خواتین کی رضاکارانہ خاندانی منصوبہ بندی کے لئے حوصلہ افزائی کرنے اور اس کے لئے ضروری سہولیات فراہم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے کیونکہ ایسا مانا گیا ہے کہ دنیا میں 22 کروڑ سے زائد ایسی خواتین ہیں جو حاملہ ہونے کی خواہش نہ رکھنے کے باوجود حمل روکنے کے اقدامات نہیں کرتیں۔

شرح پیدائش میں کمی کے باوجود 7 برسوں میں ہندوستان بن جائے گا دنیا کی سب سے بڑی آبادی والا ملک

ہندوستان نے بھی اس سمت میں بڑی پہل کی ہے اور آبادی کے بے تحاشہ اضافہ سے مفاد عامہ سے جڑے کئی منصوبوں کے پٹری سے اترنے کے خطرے کے پیش نظر نئی قومی صحت پالیسی کے تحت گھریلو سطح پر خاندانی منصوبہ بندی کے لئے ’مشن پریوار وکاس ‘کے نام سے وسیع مہم چلائی ہے۔

نئی پالیسی کے تحت ملک میں سب سے زیادہ تقریبا ًتین فیصد شرح پیدائش والی سات ریاستوں کے 146 اضلاع کی نشاندہی کرکے وہاں کے لوگوں کی خاندانی منصوبہ بندی کے لئے حوصلہ افزائی کے تحت بہت سے پروگرام شروع کئے گئےہیں۔ ان ریاستوں میں شرح پیدائش 2025 تک کم کرکے 2.1 فیصد پر لانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ مہم کے تحت ان وجوہات کا قریب سے پتہ بھی لگایا جا رہا ہے جو آبادی میں اضافہ کی وجہ بن رہی ہیں۔ ان میں خاندانی منصوبہ بندی کی خصوصیات کا فقدان، مناسب طبی مراکز اور وہاں ڈاکٹروں اور میڈیکل اہلکاروں کی کمی اور بنیادی سہولیات کا فقدان جیسی وجوہات کے حل کے لئے ٹھوس پالیسی پر کام ہو رہا ہے۔

دریں اثنا، خاندانی منصوبہ بندی بیداری مہم کے تحت بہت سی نئی پہل بھی کی گئی ہیں۔ نئے شادی شدہ جوڑوں کو ’خاندانی منصوبہ بندی پہل کٹ ‘دستیاب کرائی جا رہی ہے اور خاندانوں میں ساس بہو کے درمیان بہتر بات چیت کے بندوبست کے لئے دربار منعقد کئے جا رہے ہیں، جن میں چھوٹا خاندان رکھنے کی اہمیت کو سمجھایا جا رہا ہے۔ گرام پنچایتوں میں ہر جگہ خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق سہولیات دینے کی تیاری کی گئی ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی کے طریقے اپنانے والوں کو ترغیب دینے کے لئے نقدامداد دینے کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس مہم میں عالمی ادارہ صحت اور بہت سی پرائیویٹ تنظیمیں بھی تعاون کر رہی ہیں۔

اقوام متحدہ آبادی فنڈ کی رپورٹ میں اگرچہ یہ خیال کیا گیا ہے کہ ہندوستان سمیت دنیا کے تمام علاقوں میں شرح پیدائش میں مسلسل کمی کا رجحان ہے اور یہ 2.5 فیصد کی اوسط سطح پر آچکی ہے۔ اس کے باوجود اس بات پر فکر بھی ظاہر کی گئی ہے کہ دنیا کی آبادی میں ہر سال قریب آٹھ کروڑ تیس لاکھ کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے اور اضافہ کی یہ رفتار تھمنے والی نہیں ہے۔

رپورٹ کے مطابق 1987 میں جب دنیا کی آبادی کے دن کی شروعات ہوئی تھی تب دنیا کی آبادی 5 ارب کے ارد گرد تھی ،جو اب سات ارب تک پہنچ چکی ہے۔ سال 2024 تک یہ 8 ارب 60 کروڑ، 2050 تک 9 ارب 80 کروڑ اور 2100 تک 11 ارب 20 کروڑ تک پہنچ جانے کا اندازہ ہے۔ ہندوستان ، نائیجیریا، کانگو، پاکستان، ایتھوپیا، تنزانیہ، امریکہ، یوگنڈا اور انڈونیشیا کا اس میں سب سے زیادہ اہم رول ہوگا۔ عالمی آبادی اضافہ میں تقریباً 50 فیصد حصہ انہی ممالک کا ہوگا۔ اس میں بھی آبادی بڑھنے کی رفتار سب سے زیادہ افریقی علاقے میں دیکھی جائے گی جہاں وسائل کی کمی کی وجہ سے پہلے ہی بے روزگاری اور بھوک کے حالات ہیں۔ آبادی کے لحاظ سے یورپ سے کچھ مثبت اشارہ دیکھنے کو ملنے کی بات کہی گئی اور امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ آنے والی چند دہائیوں میں اس علاقے میں آبادی میں خاصی کمی درج ہوگی کیونکہ اس علاقے میں شرح پیدائش دنیا میں سب سے کم یعنی 1.6 فیصد ہے جبکہ افریقی ممالک میں یہ سب سے زیادہ 4.7 فیصد ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز