جموں وکشمیر: نیشنل کانفرنس اورپی ڈی پی کی مخالفت کے بعد ملتوی ہوسکتے ہیں بلدیاتی اورپنچایت الیکشن

اکتوبرمیں بلدیاتی اور نومبرمیں پنچایت الیکشن کوملتوی کرنے کا الیکشن کمیشن پرد باو بن گیا ہے۔

Sep 12, 2018 01:26 PM IST | Updated on: Sep 12, 2018 01:26 PM IST

جموں وکشمیرمیں اکتوبراورنومبرمیں ہونے والے بلدیاتی اورپنچایت انتخابات کوملتوی کیا جاسکتا ہے۔ نیشنل کانفرنس اورپی ڈی پی نے ان الیکشن کی مخالفت کی ہے۔ جموں وکشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ اورمحبوبہ مفتی نے ریاست میں ہونے جارہے ان الیکشن کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

محبوبہ مفتی نے کہا تھا کہ "پنچایت الیکشن اورسپریم کورٹ میں 35 اے کو لے کرچل رہے کیس کے آپسی تعلقات کو لے کرجس طرح کی باتیں سامنے آرہی ہیں، اس سے لوگوں کے دماغ میں کئی طرح کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں"۔

جموں وکشمیر: نیشنل کانفرنس اورپی ڈی پی کی مخالفت کے بعد ملتوی ہوسکتے ہیں بلدیاتی اورپنچایت الیکشن

فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی: فائل فوٹو

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے ماحول مین الیکشن کرانے کے فیصلے پرایک بارپھرسےغورکرلیا جائے۔ اس حالت میں الیکشن ہوئے تو پی ڈی پی بھی ان میں حصہ نہیں لے گی"۔

اس سے قبل نیشنل کانفرنس کے صدرفاروق عبداللہ نے کہا تھا کہ اگرمرکزی حکومت دفعہ 35 اے پراپنا رخ واضح نہیں کرتی ہے تو ان کی پارٹی الیکشن کا بائیکاٹ کردے گی۔ انہوں نے کہا تھا کہ "ہم اپنے کارکنان کے پاس جا سکتے ہیں اورانہیں ووٹ دینے کے لئے کہہ سکتے ہیں؟ سب سے پہلے ہمارے ساتھ انصاف کریں اورآرٹیکل -35 اے  کولے کراپنا رخ واضح کریں۔ اگرایسا نہیں ہوتا ہے، تو پھرہم صرف مقامی بلدیاتی اورپنچایت الیکشن ہی نہیں بلکہ لوک سبھا الیکشن اوراسمبلی الیکشن کا بھی بائیکاٹ کریں گے"۔

چارمرحلوں میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن یکم اکتوبرسے 5 اکتوبرتک ہونے ہیں جبکہ پنچایت الیکشن 8 نومبرسے 4 دسمبرکے درمیان ہوں گے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں دفعہ 35 اے پرسماعت اگلے سال جنوری تک کے لئے ملتوی کردیا گیا ہے۔ حکومت نے کہا تھا کہ ریاست میں دسمبرتک پنچایت الیکشن ہونے ہیں، ایسے میں کسی بھی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے سماعت کو کچھ ماہ کے لئے ملتوی کردیا جائے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز