سول سوسائٹی کا بھیڑ کے ہاتھوں قتل سے لوگوں کو بچانے کیلئے قانون سازی کا مطالبہ تیز

Jun 28, 2017 11:31 PM IST | Updated on: Jun 28, 2017 11:31 PM IST

نئی دہلی : ملک کی کئی ریاستوں میں بھیڑ کے ہاتھوں پیٹ پیٹ کر قتل کے معاملات سامنے آنے کے بعد اب لوگوں کی سیکورٹی کے لئے قانون بنانے کا مطالبہ تیز ہوگیا ہے ۔ سول سوسائٹی کی معروف شخصیات کے ایک گروپ نے اس سلسلہ میں انسانی سلامتی قانون (ماسوكا) بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ بھیڑ کی طرف سے پیٹ پیٹ کر مارے جانے کو غیر ضمانتی جرائم کی فہرست میں بھی شامل کرنےکا مطالبہ کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں بھیڑ کے حملوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

سول سوسائٹی نے اس طرح کے ایک واقعہ ہونے پر متعلقہ تھانہ کے افسر کو معطل کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔ علاوہ ازیں انسانی سلامتی قانون میں بھیڑ، بھیڑ کے ذریعہ قتل، افواہ پھیلانا، نفرت اور اسی طرح کی جارحیت کی وضاحت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

سول سوسائٹی کا بھیڑ کے ہاتھوں قتل سے لوگوں کو بچانے کیلئے قانون سازی کا مطالبہ تیز

بھیڑ کی طرف سے قتل کے خلاف قومی سطح پر مہم چلانے والے تحسین پوناوالا نے نیوز 18 سے بات چیت میں کہا کہ 'قتل ایک عام بات بن گئی ہے، لہذا فوری طور سے نئے قانون کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'ہم نے بھیڑ کے ذریعہ قتل کو غیر ضمانتی جرم میں رکھنے کی تجویز پیش کی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ جرم ثابت ہونے پر مجرم کو عمر قید کی سزا ہونی چاہئے۔ اس کے علاوہ عدالتی جانچ ہونے تک علاقہ کے متعلقہ ایس ایچ او کو معطل کر دیا جانا چاہئے، کیونکہ اگر 100 لوگوں کی بھیڑ کسی علاقہ میں داخل ہوتی ہے اور کسی کا قتل کرتی ہے ، تو پولیس کی رضامندی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز