سری نگر اور بڈگام میں طلبہ اور سیکورٹی فورسز کے مابین جھڑپ، پولیس افسر سمیت متعدد زخمی، حالات کشیدہ

May 15, 2017 10:02 PM IST | Updated on: May 15, 2017 10:02 PM IST

سری نگر: دارالحکومت سری نگر کے سری پرتاب (ایس پی) کالج اور وسطی ضلع بڈگام کے گورنمنٹ ہائر سکینڈری اسکول و گورنمنٹ ڈگری کالج ماگام کے طالب علموں کی پیر کے روز سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ ہوئی ۔اس میں ایک سینئر پولیس افسر سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ دوسری جانب ایس پی کالج احاطے میں واقع ایس پی ہائر سکینڈری اسکول میں درس وتدریس کی سرگرمیاں آج پانچویں دن بھی معطل رہیں۔ ایس پی کالج کے متعدد طلباء نے آج کلاسوں کا بائیکاٹ کرتے ہوئے کالج احاطے میں احتجاج کرنا شروع کردیا۔ احتجاجی طلباء گذشتہ چار ہفتوں کے دوران حراست میں لئے گئے طالب علموں کی رہائی کا مطالبہ کررہے تھے۔

تاہم جب شدید نعرے بازی کے مرتکب ان احتجاجی طلباء نے مولانا آزاد روڑ کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی، تو کالج احاطے کے باہر پہلے سے تعینات سیکورٹی فورسز نے انہیں آگے جانے سے روک دیا۔ جب احتجاجی طلباء نے واپس کالج احاطے میں داخل ہونے سے انکار تو سیکورٹی فورسز نے انہیں منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔

سری نگر اور بڈگام میں طلبہ اور سیکورٹی فورسز کے مابین جھڑپ، پولیس افسر سمیت متعدد زخمی، حالات کشیدہ

file photo

سیکورٹی فورسز کی کاروائی سے کچھ طالب علم مشتعل ہوئے اور پتھراؤ کرنے لگے۔ طرفین کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ قریب تین گھنٹوں تک جاری رہا۔ جھڑپوں کے دوران پولیس تھانہ کرال کڈھ کا اسٹیشن ہاوس آفیسر (ایس ایچ او) سہیل مشتاق پتھر لگنے سے زخمی ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ متعدد طالب علموں و سیکورٹی فورس اہلکاروں کو معمولی نوعیت کی چوٹیں آنے کی اطلاعات ہیں۔

دریں اثنا وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں گورنمنٹ ہائر سکینڈری اسکول اور گورنمنٹ ڈگری کالج ماگام کے طالب علموں نے آج ایک بار پھر سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں کیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق درجنوں طالب علموں نے پیر کی صبح اسکول و کالج کے مشترکہ احاطے کے اندر آزادی حامی احتجاجی مظاہرے شروع کئے۔ تاہم جب احتجاجی طلباء نے سڑک پر آنے کی کوشش کی تو وہاں پہلے سے تعینات سیکورٹی فورسز نے انہیں منتشر کرنے کے لئے پہلے لاٹھی چارج اور بعد ازاں آنسو گیس کا استعمال کیا۔ طرفین کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ کچھ دیر تک جاری رہا۔

اگرچہ وادی میں ابتدائی طور پر طالب علموں کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ 15 اپریل کو سیکورٹی فورسز کی جانب سے ڈگری کالج پلوامہ میں طالب علموں کے خلاف طاقت کے استعمال کے خلاف بطور احتجاج شروع ہوا تھا، تاہم طالب علموں کے یہ احتجاجی مظاہرے اب ’آزادی حامی احتجاجی لہر‘ کی شکل اختیار کررہے ہیں۔ تاہم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صورتحال پوری طرح سے کنٹرول میں ہے اور وادی کے بیشتر تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز کو پُرتشدد احتجاج کے مرتکب ہونے والے طالب علموں سے نمٹنے کے دوران حتی الامکان صبر وتحمل کا مظاہرہ کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔ 15 اپریل کو ڈگری کالج پلوامہ کے طالب علموں نے کالج کے باب الداخلے کے سامنے سیکورٹی فورسز کی جانب سے ناکہ بٹھانے کے خلاف شدید احتجاج کیا تھا جس کے بعد سیکورٹی فورسز نے کالج احاطے کے اندر گھس کر شدید لاٹھی چارج، ٹیئر گیس اور پیلٹ کی شیلنگ کرکے قریب 60 طالب علموں کو زخمی کردیا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز