یوم آزادی : کشمیر ایک انسانی مسئلہ ، ہمیں سپریم کورٹ پر پورا یقین : وزیر اعلی محبوبہ مفتی

جموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ریاست کو خصوصی پوزیشن عطا کرنے والی آئین ہند کی دفعہ 35 اے پر پورے ملک میں چھڑی ہوئی بحث پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں سپریم کورٹ پر پورا یقین ہے۔

Aug 15, 2017 01:15 PM IST | Updated on: Aug 15, 2017 01:15 PM IST

سری نگر: جموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ریاست کو خصوصی پوزیشن عطا کرنے والی آئین ہند کی دفعہ 35 اے پر پورے ملک میں چھڑی ہوئی بحث پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں سپریم کورٹ پر پورا یقین ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرسی کی لڑائی اپنی جگہ لیکن جہاں ریاست کے تشخص کی بات آتی ہے تو ریاست کی سبھی سیاسی جماعتیں متحد ہیں۔ محترمہ مفتی نے یہاں بخشی اسٹیدیم میں منعقدہ یوم آزادی کی تقریب میں اپنی تقریبا 13 منٹ طویل تقریر میں پاکستان اور چین کے ساتھ ملنے والی سرحدوں پر جاری کشیدگی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں وزیر خارجہ سشما سوراج کے اس بیان سے خوشی ہوئی ہے کہ جنگ کے بعد بھی بات چیت کا ہی راستہ اختیار کرنا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے مابین کشیدگی کا سب سے زیادہ خمیازہ اہلیان جموں وکشمیر کو بھگتا پڑتا ہے۔ وزیر اعلیٰ محترمہ مفتی نے کشمیر کو ایک انسانی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے کہا تھا کہ ہم مسئلے کو انسانیت کے دائرے میں حل کریں گے۔ انہوں نے کشمیری والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کے ہاتھوں میں بندوقوں اور پتھروں کے بجائے قلم اور کتابیں تھمادیں۔

یوم آزادی : کشمیر ایک انسانی مسئلہ ، ہمیں سپریم کورٹ پر پورا یقین : وزیر اعلی محبوبہ مفتی

فائل فوٹو

محترمہ مفتی نے سپریم کورٹ میں زیر سماعت دفعہ 35 اے کے معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ’لوگ کہتے ہیں کہ جموں وکشمیر ہندوستان کا تاج ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ۔ بغیر کسی شک و شبہ کے جموں وکشمیر ہندوستان کا تاج ہے۔ اور اس کو تاج بن کر ہی رہنا چاہیے۔ ہمیں اس ملک کے ہر ادارے پر یقین ہے۔ ہم نے دیکھا کہ آج تک کئی کوششیں ہوئیں۔ جس طرح یہاں کچھ لوگ ہیں جن کی سوچ ہم سے بالکل الگ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں 1947 سے بھی پیچھے جانا چاہیے۔ اسی طرح ملک میں ایسے لوگ ہیں جو ہمیں 1947 ء پر لے جانا چاہتے ہیں۔ جو کبھی ایک چیز کو لیکر تو کبھی دوسری چیز کو لیکر سپریم کورٹ کا رخ کرتے ہیں۔

ہمیں اپنے سپریم کورٹ پر یقین ہے۔ جب جب کسی نے جموں وکشمیر کے خصوصی تشخص کی طرف اگلی اٹھائی اور اس کو زک پہنچانے کی کوشش کی تو سپریم کورٹ نے اس کوشش کو ناکام بنایا۔ مجھے یقین ہے کہ آج جو معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، سپریم کورٹ وہی موقف اختیار کرے گا جو وہ گذشتہ 70 برسوں سے اختیار کرتا آیا ہے‘۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دفعہ 35 اے کے دفاع کے لئے ریاست کی تمام سیاسی جماعتیں متحد ہیں۔ انہوں نے کہا ’جہاں جموں وکشمیر کے تشخص کی بات آئے گی ہم سب اکٹھے ہیں۔ کرسی کی لڑائی الگ ہے۔ سیاسی لڑائی الگ ہے۔ جب ہمارے تشخص کی بات آئے گی، ہم سب ایک ہیں۔

میں کشمیر کے سینئر لیڈر فاروق عبداللہ صاحب کا شکر گذار ہوں جنہوں نے مجھے ملاقات کا موقع دیا۔ میں نے اُن سے گذارش کی کہ ہمیں بتائیں کہ آج پھر کوئی سپریم کورٹ میں گیا ہے، پھر سے کسی نے دفعہ 370 پر وار کرنی کی کوشش کی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ انہوں نے بہت ہی پیار بلکہ ایک شفقت والے باپ کی طرح میری بات سنی اور کچھ مشورے دیے۔ جن پر میں نے عمل کیا۔ ہماری ریاست میں مشکلات ہی مشکلات ہیں۔ جب بھی مجھے ضرورت پڑے گی تو مجھے یقین ہے کہ وہ اپنی شفقت کا ہاتھ میرے سر پر رکھیں گے اور مجھے ہمیشہ مشورہ دیتے رہیں گے کہ ہمیں آگے کیا کرنا ہوگا۔ کس طرح سے اس ریاست کو مصیبت سے نکالا جاسکتا ہے‘۔

یوم آزادی کی اس تقریب میں ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ ، متعدد کابینی وزراء، مختلف سیاسی جماعتوں کے لیڈران اور سول و پولیس انتظامیہ کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ نے کشمیر کو ایک انسانی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے کہا تھا کہ ہم مسئلے کو انسانیت کے دائرے میں حل کریں گے۔ انہوں نے کہا ’کشمیر ایک انسانی مسئلہ ہے۔ واجپائی صاحب نے کہا تھا کہ جموں وکشمیر کا مسئلہ ہم انسانیت کے دائرے میں حل کریں گے۔ مجھے امید ہے کہ مرکزی حکومت اس بات پر عمل کرکے جموں وکشمیر کے لوگوں اس مصیبت اور اس تکلیف باہر آنے کا موقع دیں گے۔ بات چیت ہی واحد حل ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز