کٹھوعہ آبروریزی کیس : وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے 4 ملزم پولیس اہلکاروں کو کیا برخاست

جموں کشمیر کی وزیر علیٰ محبوبہ مفتی نے کٹھوا عصمت دری معاملہ میں ملز م چار جموں پولیس اہلکاروں کو برخاست کر دیا ۔

Apr 15, 2018 12:28 PM IST | Updated on: Apr 15, 2018 02:16 PM IST

جموں کشمیر کی وزیر علیٰ محبوبہ مفتی نے کٹھوعہ عصمت دری معاملہ میں ملز م چار جموں پولیس اہلکاروں کو برخاست کر دیا ہے۔ خبروں کے مطابق ریاستی حکومت نے اس معاملہ میں ملزم ایک سب انسپکٹر ، ایک ہیڈ کانسٹیبل اور دو ایس پی او کو برخاست کیا  ہے۔

مفتی حکومت نے یہ فیصلہ بی جے پی کے دو لیڈران چودھری سنگھ اور چندر پرکاش کے استعفیٰ کے بعد لیا ہے۔ یہ دونوں لیڈر کٹھوعہ میں 8 سال کی بچی کی آبروریزی اور قتل معاملہ کے ملزموں کی حمایت میں ہوئے مظاہرے میں شامل ہوئے تھے ۔ تاہم محبوبہ مفتی نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔

کٹھوعہ آبروریزی کیس : وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے 4 ملزم پولیس اہلکاروں کو کیا برخاست

محبوبہ مفتی

مفتی نے کٹھوعہ معاملہ میں چیف جسٹس سے بھی فاسٹ ٹریٹ کورٹ شروع کرنے کی گزارش کی تھی ۔ یہ جموں کشمیر میں پہلی فاسٹ ٹریک کورٹ ہوگی ۔ کٹھوعہ معاملہ میں فاسٹ ٹریک کو رٹ 90 دنوں میں اپنا ٹرائل مکمل کرے گی۔

کیا ہے معاملہ:۔

واضح رہے کہ جموں کے کٹھوعہ ضلع میں  خانہ بدوش بکروال برادری کی ایک بچی گزشتہ 10 جنوری کو اپنے گھر کےپاس سے ہی لاپتہ ہو گئی تھی۔ 17 جنوری کو اسی علاقہ کے جنگل میں اس کی لاش ملی ۔ معاملہ میں کرایئم برانچ نےخصوصی تفتیشی ٹیم قائم کی اور اب تک دو پولیس حکام اور 8 افراد کی گرفتاری ہو چکی ہے۔

کرائم برانچ کی چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ سابق ریونیو افسر سنجی رام نے پولیس حکام کو معاملہ دبانے کے لئے 1.5 لاکھ روپئے کی رشوت بھی دی  ۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ معاملہ کو ختم کرنے کے لئے بی جے پی کے ایم ایل ممبر اسمبلی اور سینئر وزرا پر دبائو ڈالا گیا۔

 

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز