سی او اے نے شاستری اور سپورٹنگ عملہ کے کانٹریکٹ پر لگائی روک ، ظہیر خان پر بھی ہوگا فیصلہ

Jul 14, 2017 12:18 PM IST | Updated on: Jul 14, 2017 12:18 PM IST

نئی دہلی : ہندوستانی کرکٹ میں جاری تنازع ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے۔ کرکٹ مشاورتی کمیٹی یعنی سچن تندولکر، سوربھ گنگولی اور وی وی ایس لکشمن نے منگل کو روی شاستری (ہیڈ کوچ)، راہل دراوڑ (بیٹنگ مشیر) اور ظہیر خان (گیند بازی مشیر) کی تقرری کی تھی ، اس کے باوجود انہیں آفیشیل کانٹریکٹ نہیں دیا گیا ہے۔ جمعرات کو جب بی سی سی آئی ان کانٹریکٹ تیار کر رہی تھی ، تبھی سی او اے نے انہیں اس کانٹریکٹ کا ڈرافٹ کرنے سے روک دیا اور انہیں بھیجنے کے لئے کہا۔ اب سی او اے ہیڈ کوچ اور سپورٹنگ عملہ کے کانٹریکٹ پر کوئی فیصلہ لے گا۔

بی سی سی آئی کے ایک افسر نے کرکٹ نیکسٹ کو بتایا کہ معاملہ میں نیا موڑ اس وقت آیا جب سی اے سی نے شاستری کے سپورٹنگ عملہ سے متعلق دئے بیان پر سوالات اٹھائے۔ خیال رہے کہ شاستری نے کہا تھا کہ وہ سی اے سی کے فیصلہ (راہل دراوڑ اور ظہیر خان کی تقرری ) سے اتفاق کرتے ہیں، لیکن وہ فل ٹائم بالنگ کوچ چاہتے تھے ، جو سنجے باگر (بیٹنگ کوچ) کے ساتھ کام کرے۔ یہاں تک کی سی او اے نہیں چاہتا کہ مختلف اسسٹنٹ کوچ کی سیلری میں کسی طرح کی نابرابری کی جائے۔

سی او اے نے شاستری اور سپورٹنگ عملہ کے کانٹریکٹ پر لگائی روک ، ظہیر خان پر بھی ہوگا فیصلہ

بی سی سی آئی کی لیگل ٹیم کانٹریکٹ بنا رہی تھی کہ سی او اے نے ان سے سبھی کاغذات طلب کرلئے ۔ اب آخری فیصلہ سی او اے کا ہی ہوگا۔ سچن، گنگولی اور لکشمن شاستری سے بھی ملیں گے اور حتمی فیصلہ اس کے بعد ہی لیا جائے گا۔ شاستری نے اپنے بیان میں یہ صاف کر دیا ہے کہ دراوڑ اور ظہیر کی موجودگی انمول ہوگی ، لیکن وہ پھر بھی فل ٹائم بالنگ کوچ چاہتے ہیں۔

بی سی سی آئی افسر کے مطابق فی الحال ظہیر خان کا سیلری پیکج پر بھی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ گزشتہ مرتبہ جب بورڈ نے سابق تیز گیند باز کے سامنے تقرری کی تجویز پیش کی تھی ، تب انہوں نے 4 کروڑ کا مطالبہ کیا تھا ، لیکن ایسا نہیں لگتا کہ سی او اے اس مطالبہ کو پورا کرے گا ، کیونکہ بیٹنگ کوچ سنجے باگر کو اس سے کہیں کم سیلری مل رہی ہے۔ جبکہ وہ فل ٹائم کوچ ہیں۔

جھوٹی خبروں سے سچن، گنگولی اور لکشمن ناراض 

کرکٹ ایڈوائزری کمیٹی نے سی او اے کے سربراہ ونود رائے کو خط لکھ کر اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ایسا دکھایا جا رہا ہے کہ انہوں نے راہل دراوڑ اور ظہیر خان کی تقرریاں چیف کوچ روی شاستری پر مسلط کی تھیں۔خط میں لکھا گیا ہے کہ ہم نے ظہیر اور دراوڑ کو رکھنے کے بارے میں شاستری سے بات کی تھی اور انہوں نے ان دونوں کو رکھنے کی اپنی خوشی سے منظوری دی تھی کہ اس سے آنے والے دنوں میں ٹیم اور ہندوستانی کرکٹ کو فائدہ ہو گا۔ شاستری کی منظوری حاصل کرنے کے بعد ہی ہم نے ظہیر اور ڈراوڈ کے نام کی سفارش کی۔ خط کے شروع میں سی اے سی نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ ایسے اشارے ملے ہیں کہ سی اے سی نے اپنے دائرہ کار سے باہر جاکر ظہیر اور دراوڑ کو رکھنے کی سفارش کی اور ان دونوں عظیم کھلاڑیوں کے نام چیف کوچ پر مسلط کئے گئے۔ ساتھ ہی ہم نے میٹنگ ختم ہونے کے فورا بعد آپ کو، راہل جوہری اور امیتابھ چودھری کو فون پر بتا دیا تھا کہ میٹنگ میں کیا ہوا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز