میرٹھ : ٹوٹی ہوئی مورتی ملنے کے بعد فرقہ وارانہ کشیدگی ، جم کر توڑ پھوڑ ، فائرنگ ، متعدد زخمی

Jun 10, 2017 11:28 PM IST | Updated on: Jun 10, 2017 11:28 PM IST

میرٹھ : اترپردیش میں میرٹھ کے دیہی علاقے میں ایک مذہبی مقام پر آج مورتی ٹوٹی ہوئی ملنے پر کشیدگی پیدا ہوگئی ۔ دو فرقوں کے درمیان ہوئے پتھراؤ اور فائرنگ میں تین افراد زخمی ہو گئے۔ کشیدگی کے پیش نظر علاقے میں اضافی پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ بھاون پور میں گڑھ روڈ پر واقع گوكل پور کے شیو مندر میں ایک مورتی ٹوٹی ہوئی نے پر دونوں فرقہ کے لوگ آمنے سامنے آ گئے اور پتھراؤ اور فائرنگ سے خوف و ہراس پھیل گیا۔ حالات اس وقت بگڑ گئے جب مشتعل لوگوں نے گڑھ روڈ پر ہنگامہ کرتے ہوئے جام لگا دیا اور قطار میں کھڑی گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کر دی۔

اس دوران پولیس کے ساتھ بھی بدسلوکی کی گئی۔ پولیس نے کسی طرح جام ہٹایا۔ بعد میں میڈیکل کالج اسپتال کی ایمرجنسی میں بھی ہنگامہ ہوا۔ احتیاط کے طور پر گاؤں میں بھاری پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔ انہوں بتایا کہ شیو مندر کا بندوبست پجاری راجارام دیکھتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ مندر میں پوجا کرنے پہنچے لوگوں نے ٹوٹی ہوئی مورتی دیکھ کر پجاری راجارام کو اطلاع دی۔ اس کی اطلاع پورے گاؤں میں آگ کی طرح پھیل گئی اور بڑی تعداد میں لوگ مندر پر جمع ہو گئے۔ واقعہ سے مشتعل لوگ پولیس اور انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کرنے لگے۔ اسی دوران کنٹرول روم کو اطلاع دے دی گئی جس پر پولیس فورس موقع پر پہنچ گئی۔

میرٹھ :  ٹوٹی ہوئی مورتی ملنے کے بعد فرقہ وارانہ کشیدگی ، جم کر توڑ پھوڑ ، فائرنگ ، متعدد زخمی

واقعہ کے خلاف ہندو سوابھیمان سنستھا اور بجرنگ دل کے عہدیدار بھی موقع پر پہنچ گئے۔ اسی دوران گاؤں والوں نے ہنگامہ شروع کر دیا اور مورتی توڑنے کا الزام گاؤں کے اقلیتی فرقہ پر لگایا اور نعرے بازی کرنے لگے جس سے گاؤں میں فرقہ وارانہ کشیدگی ہوگئی۔  پولیس اور انتظامی کے افسران نے دوسری مورتی منگاكر مندر میں نصب کرا دی جس کے بعد لوگ پرسکون ہو ئے ۔ مندر کے پجاری کی تحریر پر نامعلوم افراد کے خلاف مذہبی جذبات بھڑکانے، دان پاتر چوری کرنے اور پوجا کے مقام کو نقصان پہنچا نے کا پولیس نے مقدمہ بھی درج کر لیا ہے ۔

پولیس نے بتایا کہ شہر سے تقریبا 25 وی ایچ پی کارکنان موٹرسائیکلوں پر سوار ہوکر گوكل پور پہنچ گئے اور انہوں نے نعرے بازی شروع کر دی اور کچھ ہی دور واقع ایک مسجد کے قریب سڑک پر آ گئے۔ جمعہ کی رات نماز ادا کرکے اقلیتی فرقہ کے لوگ باہر آ گئے اور دونوں فرقوں کے لوگوں میں مار پیٹ شروع ہو گئی اور پتھراؤ اور فائرنگ بھی کی گئی جس سے بھگدڑ مچ گئی۔

وی ایچ پی کے مشتعل کارکنوں کی ایڈیشنل پولیس سپرنٹنڈنٹ کے ساتھ بھی ہاتھاپائی ہوئی جس کے خلاف احتجاج میں کارکنوں نے رادھا گووند کالج کے سامنے گڑھ روڈ پر جام لگا دیا اور گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی۔ پولیس نے کسی طرح سمجھا کر وی ایچ پی کارکنوں کو ہٹا کر جام کھلوایا۔  اس کے بعد زخمیوں کو اسپتال میں داخل کرنے پر وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے کارکنوں نے ہنگامہ کر دیا۔ بھاری پولیس فورس لگا کر وی ایچ پی کارکنوں کو قابو میں کرکے زخمیوں کا علاج کیا گیا۔ کشیدگی کو دیکھتے ہوئے گوكل پور اور میڈیکل کالج میں بھاری پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔

اس معاملہ میں میرٹھ زون کے ایڈیشنل پولیس ڈائریکٹر جنرل آنند کمار نے آج بتایا کہ شروع میں حالات کو قابو میں کر لیا گیا تھا اور دوسری مورتی نصب کرا دی گئی تھی۔ بعد میں وی ایچ پی کارکنوں نے گاؤں میں پہنچ کر ہنگامہ کر دیا جس پر دوبارہ تنازعہ پیدا ہوگیا۔ انہوں نے بتایا کہ حالات کے پیش نظر علاقے میں بھاری پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ویڈیو فوٹیج دیکھ کر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز