عدلیہ کے تمام شعبوں میں مسلم وکلاء کی کم ہوتی نمائندگی باعث تشویش: سرفراز احمد

عدلیہ کے تمام شعبوں میں مسلم وکلاء کی کم ہوتی نمائندگی پر تشویش کا اظہار کرتے سپریم کورٹ کے وکیل اور اٹارنی سولیسٹر سرفراز احمد صدیقی نے کہا کہ اگر بروقت اس پر سنجیدگی سے غور و خوض نہیں کیا گیا تو آنے والے حالات مسلمانوں کے لئے مزید خراب ہوسکتے ہیں۔

Oct 25, 2017 12:23 PM IST | Updated on: Oct 25, 2017 12:23 PM IST

نئی دہلی۔ عدلیہ کے تمام شعبوں میں مسلم وکلاء کی کم ہوتی نمائندگی پر تشویش کا اظہار کرتے سپریم کورٹ کے وکیل اور اٹارنی سولیسٹر سرفراز احمد صدیقی نے کہا کہ اگر بروقت اس پر سنجیدگی سے غور و خوض نہیں کیا گیا تو آنے والے حالات مسلمانوں کے لئے مزید خراب ہوسکتے ہیں۔ یہ بات انہوں نے گزشتہ روز مسلم وکلاء کی ایک میٹنگ میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان اتحاد و اتفاق کے فقدان اور کسی محاذ پر یکجا نہ ہونے کی وجہ سے شعبہ عدل وانصاف اور اس سے منسلک شعبوں میں ان کی نمائندگی دن بہ دن کم ہوتی جارہی ہے۔ یہاں تک عدالت عالیہ اور عدالت عظمی میں بھی نمائندگی کم ہوگئی ہے۔ اس لئے ہمیں بار کونسل سمیت تمام اداروں میں متحد ہوکر اپنی نمائندگی بڑھانے کے بارے میں سنجیدگی سے غور وخوض کرنا چاہئے۔

مسٹر صدیقی جو آل انڈیا ایڈووکیٹس فورم فور جسٹس کے سکریٹری جنرل بھی ہیں، نے کہا کہ دہلی بار کونسل جو سب سے اہم ادارہ ہے ، اس میں ہمارے کم از کم تین امیدوار آسانی سے جیت سکتے ہیں اگر ہم متحد ہوکر زیادہ تعداد میں ووٹ دیں تو یہ تعداد بڑھ بھی سکتی ہے

عدلیہ کے تمام شعبوں میں مسلم وکلاء کی کم ہوتی نمائندگی باعث تشویش: سرفراز احمد

مسلم وکلاء میٹنگ کے بعد پوز دیتے ہوئے۔

اور اسی میں سے بار کونسل آف انڈیا اور دیگر ادارے میں نمائندہ بن کر جاتے ہیں اوراگر ہم نے اچھے امیدوار کومنتخب کیا تو اس کے دوررس اور مفید نتائج برآمد ہوں گے۔ سپریم کورٹ کے وکیل عبدالرحمان نے اس موقع پر کہا کہ ہمیں ایک پیمانہ بنانا چاہئے اور ان امیدواروں کو میدان میں اتارنا چاہئے جو نہ صرف جیت سکتے ہوں بلکہ بہت سی خوبیوں کے مالک ہوں اور اس سلسلے میں وکلاء کا ایک بڑا پروگرام کرکے ان کی رائے لئے جانے کا مشورہ دیا۔

سپریم کورٹ کے وکیل اور آل انڈیا ایڈووکیٹس فورم فور جسٹس کے صدراطہر علی نے کہا کہ ہمارے اندر انتشار و افتراق نے ہمیں سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے اور یہ نقصان تمام شعبہ ہائے حیات میں نمایاں طور پر نظر آرہا ہے۔ لہذا اس سے سبق سیکھتے ہوئے ہم اپنے

امیدواروں کی کامیابی پرتوجہ مرکوز کریں تا کہ مسلمانوں کے حق میں لڑائی لڑنے میں آسانی ہو۔  محترمہ زیبا خاں نے اس موقع پر منفی چیزوں سے توجہ ہٹانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ امیدواروں کے انتخاب میں مثبت چیزوں اور کارکردگی کو پیش نظر رکھا جائے اور خوبیوں پر روشنی ڈال کر ووٹروں (مسلم وکلاء) کو بیدار کیا جائے تاکہ صحیح امیدوار کے انتخاب میں آسانی ہو ۔ میٹنگ میں شمس قادر، نوشاد علی، اصغر خاں ، مشتاق احمد سمیت درجنوں وکلاء موجود تھے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز