سلطان احمد کی وفات پراہم شخصیات کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری

بزرگ عالم دین وممبرپارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی نے معروف سیاسی رہنما اور ترنمول کانگریس سے ممبرپارلیمنٹ سلطان احمد کے انتقال پر اپنے دلی رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ مرحوم سلطان احمد ایک سرگرم سیاسی رہنما ہونے کے ساتھ مسلمانوں کے ملی مسائل سے دلچسپی رکھتے تھے۔

Sep 05, 2017 05:20 PM IST | Updated on: Sep 05, 2017 05:20 PM IST

نئی دہلی۔ بزرگ عالم دین وممبرپارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی نے معروف سیاسی رہنما اور ترنمول کانگریس سے ممبرپارلیمنٹ سلطان احمد کے انتقال پر اپنے دلی رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ مرحوم سلطان احمد ایک سرگرم سیاسی رہنما ہونے کے ساتھ مسلمانوں کے ملی مسائل سے دلچسپی رکھتے تھے اور انھوں نے مختلف موقعوں پرقومی و ملی بیداری کاثبوت دیا۔ مولانا قاسمی نے کہا کہ میرے ان سے ذاتی تعلقات تھے اور وہ سماجی و انفرادی زندگی میں بھی ایک خوش اخلاق،سادہ مزاج اور مخلص انسان تھے ، انھوں نے سیاسی محاذ پر بھی ہمیشہ مسلمانوں کی خیر خواہی و فلاح کے بارے میں فکرمندی کا مظاہرہ کیا۔

ممبرپارلیمنٹ اور مختلف موقعوں پر صوبائی یا مرکزی حکومتوں میں اہم عہدوں پرہونے کے ساتھ ملک کے اہم ملی اداروں سے بھی ان کی وابستگی رہی اورانہوں نے ہر پلیٹ فارم سے مسلمانوں کی خدمت کی۔مولانا قاسمی نے ان کی وفات کو ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ پورے ملک کا خسارہ قرار دیا اور کہا کہ آج کے دور میں ان کے جیسے مخلص اور کام کرنے والے سیاسی لیڈران کاملنا مشکل ہے۔

سلطان احمد کی وفات پراہم شخصیات کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری

سلطان احمد کا4 ؍ستمبرکواچانک دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے انتقال ہوگیا۔

امیر جماعت اسلامی ہند کا تعزیتی بیان

وہیں، سابق مرکزی وزیر اور ترنمول کانگریس کے ممبر پارلیمنٹ سلطان احمد کے کلکتہ میں اچانک انتقال پر امیر جماعت اسلامی ہند مولانا سید جلال الدین عمری نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال کے ایک مخلص و فعال مسلم رہنما کی رحلت ملت کا بڑا نقصان ہے۔ امیر جماعت نے کہا کہ عام سیاسی شخصیات کے برعکس سلطان احمد صاحب ملی و سماجی خدمت میں مسلسل سرگرم رہتے تھے اور اجتماعی مفاد کے کاموں میں سرگرداں  رہنے ہی کی وجہ سے وہ اپنی پارٹی اور ملت کے درمیان مقبول رہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کے دو اہم اجلاس کلکتہ میں ہوئے ، اس کے روح رواں سلطان صاحب تھے۔ ان کا ملت کی مختلف تنظیموں سے براہ راست را بطہ تھا۔ جماعت اسلامی ہند کے افراد اور اس کے کاموں سے بخوبی واقف تھے اور اس سے ہمدردی رکھتے تھے۔ جماعت کے مرکز بھی ان کی کئی موقعے پر آمد رہی ہے۔ ابھی حال میں کلکتہ جانا ہوا تو رفیق جماعت ناصر صاحب کے مکان پر ملاقات کے لئے تشریف لے آئے اور ملت کے مختلف مسائل پر گفتگو کرتے رہے۔ کسے معلوم تھا کہ یہ ان سے آخری ملاقات ہے۔ مولانا عمری نے اللہ تعالیٰ سے سلطان احمد صاحب کی خدمات کی قبولیت ، ان کی مغفرت اور ان کے پسماندگان کو صبرجمیل عطا کرنے کی دعا کی ہے۔

ملک ایک مخلص لیڈر سے محروم: پروفیسر عبد الغفور

راشٹریہ جنتا دل کے سینئر لیڈر اوربہار اقلیتی امور کے سابق وزیر پروفیسر عبدالغفور نے ترنمول کانگریس کے سینئر لیڈر، سابق مرکزی وزیر سیاحت اوررکن پارلیمنٹ سلطان احمد کا دل کا دورہ پڑنے سے انتقال پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے انتقال سے مسلم لیڈر کا خلا پیدا ہوگیا ہے جس کی تلافی ممکن نظر نہیں آرہی ہے۔ انہوں نے ان کی مغفرت کی دعا اور پسماندگان سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ دیرینہ تعلقات تھے اور بہار کی امارت شرعیہ سے بھی منسلک تھے ۔انہوں نے ان کے انتقال کو ایک ملی خسارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ ملی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے اور کلکتہ میں منعقد ہونے والے مسلم پرسنل لا بورڈ کے اجلاس کو کامیاب بنانے میں ان کی جدوجہد قابل تعریف تھی۔ ڈاکٹر عبدالغفور نے کہا کہ وہ متعدد بار رکن اسمبلی رہے اور دو میعاد سے رکن پارلیمنٹ تھے اور وہ وزیر اعلی ممتا بنرجی کے انتہائی قریبی تھے ۔

سلطان احمد قوم وملت کے سچے ہمدرد اور متحرک سیاستداں تھے: مولانا عرفی قاسمی

دوسری طرف، آل انڈیا تنظیم علماء حق کے قومی صدر مولانا محمد اعجاز عرفی قاسمی نے کہا کہ مرحوم صرف ممبر پارلیمنٹ اور ایک سیاست داں ہی نہیں تھے، بلکہ قوم و ملت کے ہمدرداور فعال اور متحرک سیاست داں تھے۔ انھوں نے مرحوم کی سیاسی اور قومی و ملی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ پارلیمنٹ کے اندر اور پارلیمنٹ کے باہر مسلمانوں کے مختلف مسائل کے تئیں ملی قائدین میں بیداری پیدا کرنے اور سیاسی پارٹیوں کو ان مسائل کے حل کے لیے دباؤ بنانے کے لیے ترجیحی طور پر پیش رفت کیا کرتے تھے۔ مولانا قاسمی نے کہا کہ مرحوم نے چالیس سال تک سرگرم سیاست کے میدان میں اپنی کارکردگی دکھائی، مگر انھوں نے سیاست صرف اپنی کرسی کو چمکانے اور ذاتی مفادات کے حصول کے لیے نہیں کی، بلکہ ہر موقع پر قومی، ملکی اور ملی اسلامی مقاصد کو ترجیح دیا کرتے تھے۔ انھوں نے مسلم تنظیموں، ملی اداروں اور اسلامی مدارس کے ساتھ ان کے مراسم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملی اور اسلامی کاز کے لیے کام کرنے والی ہر تنظیم اور جماعت کے دست و بازو کے طور پر کام کرتے تھے۔

واضح رہے کہ سلطان احمد کا4 ؍ستمبرکواچانک دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے انتقال ہوگیا۔ وہ 1973میں طالب علمی کے دورسے ہی سیاست میں سرگرم تھے اورایک زمانے تک یوتھ کانگریس کے ساتھ کام کیا،پھر کانگریس کے ٹکٹ پر ممبراسمبلی منتخب ہوئے۔ اس کے بعد1997میں ترنمول کانگریس کی تشکیل کے بعد وہ اس سے وابستہ ہوگئے اور ٹی ایم سی کے ٹکٹ پر ممبرپارلیمنٹ بھی منتخب ہوئے ،وہ سابق یوپی اے حکومت میں وزیر سیاحت بھی بنائے گئے۔ ساتھ ہی انھوں نے کولکاتا اور ملک کے مختلف ملی اداروں کے سربراہ کے طورپربھی اہم خدمات انجام دیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز