سید شہاب الدین کے انتقال پر مختلف سیاسی، دینی اور سماجی جماعتوں کے رہنماوں کے تعزیتی پیغامات

Mar 04, 2017 09:12 PM IST | Updated on: Mar 04, 2017 09:12 PM IST

نئی دہلی۔  معروف ملی رہنما’دانشور‘سیاست داں اور سفارت کار سید شہاب الدین کی وفات پر نائب صدر جمہوریہ محمد حامد انصاری سمیت مختلف دینی اور سماجی جماعتوں اور تنظیموں کے رہنماوں نے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کی وفات کو ملک و ملت کے لئے عظیم خسارہ اور ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ہے۔ نائب صدر حامد انصاری‘ جو سید شہاب الدین کی نماز جنازہ او رتدفین میں بھی شامل تھے‘ نے ایک تعزیتی پیغام میں کہا کہ ’مجھے معروف سیاست داں‘اسکالر‘ سفارت کار او رسابق ممبر پارلیمنٹ سید شہاب الدین کی موت کی خبر سن کر گہرا صدمہ پہنچا ہے۔ وہ عزم مصمم والے شخص تھے اور انہوں نے ان تمام امور کو پورے لگن اور مضبوط ارادوں کے ساتھ آگے بڑھایا جو انہیں عزیز تھے۔وہ ہندوستان میں ہمہ جہت اور بدعنوانی سے پاک جمہوریت کے لئے انتھک کام کرنے کے لئے یاد کئے جائیں گے۔‘ سید شہاب الدین کے رشتہ داروں کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ انہوں نے اپنا ایک دوست کھودیا اور یہ ان کا ذاتی نقصان ہے۔

مولانا محمد ولی رحمانی ‘ جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ و امیر شریعت بہار،اڑیسہ و جھارکھنڈ نے سید شہاب الدین کی وفات کو ایک بڑا حادثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملت اسلامیہ ہند اس وقت جن حالات سے دوچار ہے ایسے نازک موڑ پر سید صاحب کی وفات ملت اسلامیہ کے لئے بڑا ہی اہم حادثہ ہے۔ وہ مسلم پرسنل لا بورڈ کی تحریک سے شروع دن سے جڑے رہے،وہ گوناگوں خوبیوں کے مالک تھے، پوری زندگی ہردم متحرک اور ہر لمحہ ملت کی فلاح و بہبود کے لئے سرگرم رہے ۔ مسلم پرسنل لا بورڈ اور مسلم مجلس مشاورت کے پلیٹ فارموں سے نازک ترین وقت میں بھی پوری سرگرمی کے ساتھ ملت کی خدمت انجام دی۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد نے کہا کہ جناب سید شہاب الدین کی ملی خدمات ہمیشہ یاد کی جائیں گیں۔ وہ انتہائی بے باک لیڈر تھے ان میں علامہ اقبال کی تڑپ‘ مولانا آزاد کا تدبر تھا۔ ان جیسا قائد ہندوستانی مسلمانوں کو برسہا برس تک نہیں مل سکتا۔و ہ نہ صرف ایک مفکر تھے بلکہ ایک ایسے سیاست دان تھے جن میں مستقبل کی آہٹ سننے کی صلاحیت تھی اور وہ مسلمانوں کے ہی نہیں بلکہ تمام کمزور طبقات کی آوازتھے جن کی دور رس نگاہیں آنے والے ہندوستان کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتی تھیں۔

سید شہاب الدین کے انتقال پر مختلف سیاسی، دینی اور سماجی جماعتوں کے رہنماوں کے تعزیتی پیغامات

ممبرپارلیمنٹ مولانااسرارالحق قاسمی نے کہاکہ سید شہاب الدین کی وفات سے ہندوستانی مسلمانوں کا بہت بڑا نقصان ہوا ہے جس کی بھرپائی مشکل ہے۔ مرحوم نے ایک عرصے تک سیاسی و سماجی سطح پر مسلمانوں کی نمائندگی کی اور ان کے مسائل و مشکلات کوحکومتی ایوانوں میں اٹھانے اور انہیں حل کروانے میں اہم رول اداکیا اوراس حوالے سے وہ ہمیشہ یاد کئے جاتے رہیں گے۔ مولانااسرارالحق قاسمی نے مرحوم کے لئے دعائے مغفرت اور ان کے وارثین کے لئے صبر جمیل کی دعاء کی ہے۔ آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے سید شہاب الدین کے سانحۂ ارتحال پر اپنے تعزیتی بیان میں کہا ہے کہ بلاشبہ انہوں نے ملک گیر سطح پر اپنی بہترین واعلیٰ صلاحیتوں سے ملت اسلامیہ کے درمیان اپنی شناخت بنائی۔ پارلیمنٹ (راجیہ سبھا ولوک سبھا) میں اپنی موجودگی کے ساتھ مسلمانوں کے متفرق ایشوز پر انہوں نے غیر معمولی خدمات انجام دیں۔ انہوں نے ’’مسلم انڈیا‘‘ میگزین اور (انگریزی ماہنامہ) نکالا اور مسلمانوں کی حالت زار اور مختلف ملازمتوں میں ان کی موجودگی وعدم موجودگی سے اعداد وشمار پر بڑی عرق ریزی سے کام کیے۔ وہ ملی معاملات وایشوز کے ساتھ ساتھ حکومتی پالیسیوں پر بھی اپنی گہری نظر رکھتے تھے، بحیثیت مجموعی متفرق خدمات کے لیے انہیں بھلایا نہیں جا سکتا۔ ان کا انتقال ملت اسلامیہ کے لئے ایک عظیم خسارہ ہے۔

سابق مرکزی وزیر کے رحمان خان نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ سید شہاب الدین ایک عظیم مسلم رہنما تھے ۔ وہ ایک عظم مفکر تھے او ر مسلمانوں کو تعلیمی اور آئینی حقوق دلانے کے لئے انتھک کوشش کی۔ بہار کے سابق وزیر شمائل نبی نے مرحوم شہاب الدین کو ایک بے لوث او ربے غرض لیڈر قرار دیتے ہوئے کہا کہ قوم و ملت کے لئے مجنونانہ کیفیت ان پر ہر وقت طاری رہتی تھی اور قوم و ملت کا درد ان میں اتنا تھا کہ وہ ہمیشہ اس سے بے تاب رہتے تھے۔ مسٹر شمائل نبی نے مرحوم کے ساتھ اپنے پچاس سالہ تعلقات کو یاد کرتے ہوئے کہاکہ میں نے انہیں ایک مرد آہن کی شکل میں پایا ۔ ان کی موت پوری ملت کا نقصان ہے۔ اللہ قوم کو ان کا نعم البدل عطا کرے۔ ممتاز اسلامی اسکالر اور مولانا آزاد یونیورسٹی جودھ پور کے وائس چانسلر پروفیسر اختر الواسع نے کہا کہ آزادی کے بعد مولانا ابوالکلام آزاد، رفیع احمد قدوائی، ڈاکٹر سید محمود، مولانا حفظ الرحمان اور ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی کے بعد مرحوم سید شہاب الدین نے حسب جرات ملک و ملت کی جو خدمت کی ہے وہ ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کو ایک بار پھر متحرک اور فعال بنانے میں ان کی کاوشوں کو مطلق فراموش نہیں کا جاسکتا۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے سید شہاب الدین کے سانحۂ ارتحال کو ملک وملت اور انسانیت کا عظیم خسارہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک جہاندیدہ انسان اورمعروف قومی وملی دانشورتھے۔ انہوں نے بھرپور زندگی پائی اور پوری زندگی قوم وملت اور وطن عزیز کی بے لوث خدمت میں لگادی۔وہ ایک متواضع انسان تھے اور ہندوستانی مسلمانوں کی مضبوط آواز مانے جاتے تھے۔ وہ سب کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں رہتے تھے جس کی بناپرتمام مکاتب فکر کے نزدیک یکساں مقبول تھے ۔

جماعت اسلامی ہند کے امیر سید جلال الدین عمر ی نے سید شہاب الدین کی وفات کو ملت کا عظیم نقصان قرا ردیتے ہوئے کہا کہ وہ بڑی شخصیت کے مالک تھے او ر سلیمان سیٹھ اور بنات والا کے بعد واحد ایسے مسلم رہنما تھے جنہوں نے پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی آواز ہمیشہ بڑی بے باکی کے ساتھ اٹھائی اور کبھی بھی کسی پارٹی کے آگے سرنگوں نہیں ہوئے۔وہ ہر بات اور اپنی موقف کو پوری جرات اور ہمت کے ساتھ رکھتے تھے۔ مولانا مفتی عطاء الرحمن قاسمی چیرمین شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ و رکن مجلس عاملہ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے کہا کہ سید شہاب الدین شاہ بانو اور بابری مسجد تحریک کے سرگرم و پر جوش اور باہوش قائد و رہنما رہے ہیں ۔ ایک زمانہ میں وہ ہندوستان کے سیاسی افق پر نیر تاباں کی طرح چمکتے دمکتے اور ضو افشانی کرتے نظر آتے تھے، لیکن بابر ی مسجد کی شہادت کے تکلیف دہ سانحہ کے بعد وہ کچھ بجھ سے گئے تھے اور داخلی ملی قیادت کی رقابت کا شکار ہو گئے تھے۔ سید شہاب الدین کے دوسرے قابل ستائش ملی کاموں کے علاوہ ان کا ایک زبر دست اور نا قابل فراموش کارنامہ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے دونوں گروپوں میں انضمام و اتحاد ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کے جنر ل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے کہا کہ مرحوم کی وفات سے مسلم قیادت میں ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے ، انھوں نے مختلف معاملے میں سینہ سپر ہو کر حالات کا مقابلہ کیا ، وہ ایک صاحب رائے انسان تھے ، حضرت فدائے ملت مولانا سید اسعد مدنی ؒ ان سے کئی معاملات میں مشورہ کرتے اور جمعیۃ کے پروگراموں میں شرکت کے لیے خاص طور سے دعوت دیتے ، نیز ان کے پروگراموں میں بھی پابندی سے شریک ہوتے تھے ۔ اسلامک پیس فاؤنڈیشن آف انڈیا کے جنرل سکریٹری مولانا سید طارق انور نے سید شہاب الدین کے انتقال کو ناقابل تلافی نقصان قراردیتے ہوئے کہا کہ ان کی فکر انگیز تقریریں اور تحریریں مسلمانوں پر گہرے اثرات مرتب کرتی تھیں ، ان کی علمی ، ملی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ جماعت اسلامی ہند حلقہ دہلی و ہریانہ کے امیر عبدالوحید نے کہا کہ سید شہاب الدین نے ملت اسلامیہ کی رہنمائی کا فریضہ بحسن خوبی انجام دیا ہے ۔جب جب مسلمانوں پر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا ہے انہوں نے بڑھ کر ملت کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی ہے ۔ان کی ملی خدمات ہمیشہ یاد کی جائیں گیں۔ وہ انتہائی بے باک لیڈر تھے۔ انصاف مورچہ کنوینر ، سیّد کمال اشرف نے کہا کہ مرحوم سیّد شہاب الدین نے اپنی پوری زندگی قومِ مسلم کی خدمت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ وہ کافی نڈر، بے باک ہوکر قوم کی فلاح و بہبود کے لیے بولتے تھے۔ آپ نے اپنی مجاہدانہ زندگی میں بابری مسجد تحریک کو مسلمانوں کے گھروں تک پہنچایا جسے کبھی بھلایا نہیں جاسکتا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز