مودی حکومت اپنی چوڑیاں اتارکرپاکستان کو منہ توڑ جواب دے : کانگریس

نئی دہلی۔ کانگریس نے پاکستانی فوج کی طرف سے ہندوستانی جوانوں کے ساتھ کئے گئے وحشیانہ سلوک کی سخت مذمت کرتے ہوئے آج کہا کہ مودی حکومت کو 'چوڑیاں اتار کر' پاکستان کو منہ توڑ جواب دینا چاہئے۔

May 02, 2017 04:32 PM IST | Updated on: May 02, 2017 04:32 PM IST

نئی دہلی۔ کانگریس نے پاکستانی فوج کی طرف سے ہندوستانی جوانوں کے ساتھ کئے گئے وحشیانہ سلوک کی سخت مذمت کرتے ہوئے آج کہا کہ مودی حکومت کو 'چوڑیاں اتار کر' پاکستان کو منہ توڑ جواب دینا چاہئے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر کپّل سبل نے یہاں پارٹی ہیڈ کوارٹر میں صحافیوں کو بتایا کہ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) حکومت کے وقت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی ایک لیڈر اور ممبر پارلیمنٹ نے دہشت گردانہ واقعات پر اس وقت کے وزیر اعظم کو چوڑیاں بھیجنے کی بات کہی تھی۔ مسٹر سبل نے مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی کا نام لئے بغیر کہا کہ "وہ لیڈر ابھی مودی حکومت میں وزیر ہیں۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنے وزیر اعظم کو چوڑیاں کب بھیجیں گی؟ مودی حکومت کو اپنی چوڑیاں اتار کر پاکستان کو منہ توڑ جواب دینا چاہئے۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ حکومت ہماری توقعات کو پورا کرے گی"۔ انہوں نے کہا کہ سال 2013 کے ہیمراج کیس پر بی جے پی کی سینئر لیڈر سشما سوراج نے 'ایک کے بدلے دس سر' لانے کی بات کہی تھی۔ اب مودي حکومت کو بتانا چاہئے کہ 'دو کے بدلے کتنے سر' لائے جائيں گے۔

کانگریس لیڈر نے کہا کہ مودی حکومت کی پاکستان کے تئیں کوئی پالیسی نہیں ہے جس سے دہشت گردی اور تشدد کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔ ملک میں جب کل وقتی وزیر دفاع نہیں ہیں تو مکمل حفاظتی پالیسی بھی نہیں بنے گی۔ مسٹر کپّل سبل نے کہا کہ جموں و کشمیر کے دہشت گردانہ واقعات میں اگست 2011 سے مئی 2014 تک 50 شہری اور 103 جوان مارے گئے تھے۔ مودی حکومت کے گزشتہ 35 مہینوں میں 91 شہری اور 198 جوان مارے گئے ہیں۔ اسی مدت میں یو پی اے کے دور میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کے 470 واقعات اور دراندازی کے 85 معاملے سامنے آئے تھے۔ مودی حکومت کے دور میں جنگ بندی کے 1343 معاملات اور دراندازی کے 100 کیس ہوئے ہیں۔ نکسلی تشدد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

مودی حکومت اپنی چوڑیاں اتارکرپاکستان کو منہ توڑ جواب دے : کانگریس

کپل سبل: فائل فوٹو

انہوں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت اسمبلی انتخابات جیتنے کے بعد ' یوم فتح' منانے میں مصروف ہے جبکہ ملک میں قانون و انتظام کی صورتحال ابتر ہوگئی ہے۔ نکسلی تشدد اور دہشت گردی کے واقعات میں نوجوان شہید ہو رہے ہیں اور حکومت کو یوم فتح منانے سے فرصت نہیں ہے۔ مسٹر سبل نے کہا کہ "یہ لوگ ابھی سال 2019، 2024 اور 2029 کے انتخابات کے بارے میں سوچ رہے ہیں تو وہ حفاظت اور سلامتی کے سلسلے میں کیسے سوچیں گے؟

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز